آب و ہوا کی تبدیلی پر عالمی کانفرنس میں امریکہ نے کیا وعدے کیے؟

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں جاری عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں ماحول کو صاف رکھنے کے لیے امریکہ کے منصوبوں کا اعلان کیا، جس میں 2050 تک ملک کو کاربن فری بنانے کا وعدہ بھی شامل ہے۔

امریکہ کے منصوبوں میں ہوا، شمسی توانائی اور دیگر ماحول دوست قابلِ تجدید ذرائع پر انحصار کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے جب کہ الیکٹرک گاڑیوں اور ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی حوصلہ افزائی بھی اس منصوبے میں شامل ہے۔

دنیا کے درجنوں ممالک 31 اکتوبر سے 12 نومبر تک جاری رہنے والی اس سی او پی 26 نامی کانفرنس میں دنیا کے مجموعی درجۂ حرارت کو کم رکھنے سمیت آب و ہوا کو صاف رکھنے کے لیے وعدے کر رہے ہیں۔

امریکہ کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں صنعتوں کے فضلات اور ایندھن جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے اثرات کا پوری دنیا کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ کے علاوہ چین، بھارت اور روس بھی اُن ممالک میں شامل ہیں جہاں ماحولیاتی آلودگی دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔

آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ امریکہ کے صدر نے آئندہ برسوں کے دوران ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور 2050 تک ملک کو کاربن فری بنانے کے لیے کانفرنس میں کیا وعدے کیے گئے ہیں۔

کاربن کے اخراج میں بتدریج کمی

پیر کو امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے پیش کیے گئے منصوبے میں وعدہ کیا گیا ہے کہ امریکہ 2030 تک کاربن کے اخراج میں 50 فی صد کمی لا کر اسے 2005 سے قبل کی سطح پر لائے گا۔

بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ان اقدامات سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ نہ صرف امریکہ پیرس معاہدے میں واپس آ چکا ہے بلکہ آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے مشن میں پیش پیش ہو گا۔

خیال رہے کہ 2015 میں دنیا کے بڑے ممالک نے پیرس میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں دنیا کا درجۂ حرارت صنعتی دور سے قبل کے درجہ حرارت سے ڈیڑھ ڈگری سنٹی گریڈ سے اوپر رکھنے کی کوششوں پر اتفاق ہوا تھا۔

البتہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے الگ ہو گئے تھے جب کہ بائیڈن نے حلف اُٹھانے کے فوری بعد اس معاہدے میں واپسی کا اعلان کر دیا تھا۔

امریکی صدر نے کانفرنس میں شرکا سے خطاب میں کہا کہ امریکہ 2050 تک کاربن کا اخراج صفر تک لانے کے منصوبے پر بھی کام جاری رکھے گا۔

دنیا کے بڑے ممالک نے 2050 تک کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ماحول کے لیے نقصان دہ دیگر گرین ہاؤسز گیسز کا اخراج بتدریج کم کر کے 2050 تک اسے صفر پر لانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

اس ضمن میں ایندھن جلانے پر انحصار کم کرنے اور توانائی کے ماحول دوست ذرائع کو ترجیح دینے پر کام ہو رہا ہے۔

آب و ہوا کی تبدیلی اور 555 ارب ڈالرز کا تاریخی پیکج

امریکی صدر کی جانب سے آب و ہوا کی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے یہ منصوبہ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب حکمراں جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی نے اس ضمن میں 555 ارب ڈالرز کا بل جمعرات کو کانگریس میں پیش کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ بل منظور ہو گیا تو آب و ہوا کی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے یہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکج ہو گا۔

بائیڈن نے مجوزہ بل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی جانب سے آب و ہوا کی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سب سے بڑی کاوش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ بل پاس ہو گیا تو امریکہ آب و ہوا کی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے 2030 تک کے اپنے منصوبے پر بہتر طریقے سے عمل درآمد کر سکے گا۔

اس پیکج میں ہوا، شمسی توانائی اور دیگر ماحول دوست توانائی کے ذرائع استعمال کرنے والی صنعتوں کو ٹیکس کی مد میں 300 ارب ڈالرز سے زائد تک کی چھوٹ دی جائے گی۔

جنگلات کی آگ، سمندری طوفان اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے 100 ارب ڈالرز

صدر بائیڈن کے مجوزہ پیکج میں 100 ارب ڈالرز جنگلات میں لگنے والی آگ، سمندری طوفانوں اور خشک سالی سے نمٹنے پر خرچ کیے جائیں گے۔

اس منصوبے کے تحت عوامی سطح پر ایک سویلین کلائمٹ کور قائم کی جائے گی جہاں ہزاروں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔

یہ فورس جنگلات میں پگڈنڈیاں بنانے، ندیوں کی بحالی اور جنگلات کو آگ سے بچانے کے لیے کام کرے گی۔

ترقی پذیر ممالک کی معاونت

ترقی پذیر ممالک کو گلہ ہے کہ وہ آب و ہوا کی تبدیلیوں کا سبب نہ بننے کے باوجود اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور دنیا کے امیر ممالک اس لحاظ سے ان کی مدد نہیں کر رہے جس طرح کی مدد اُنہیں درکار ہے۔

البتہ صدر بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ترقی پذیر ممالک کو آب و ہوا کی تبدیلی کے خطرات سے بچانے کے لیے ایک منصوبہ لانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے ذریعے 2024 تک امریکہ سالانہ تین ارب ڈالر کی امداد دے گا۔

یہ امداد ماضی کی امداد سے دو گنا ہو گی اور امریکی حکام پراُمید ہیں کہ اس امداد میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک کے سالانہ 100 ارب ڈالرز کے ہدف تک پہنچا جا سکے گا۔

خیال رہے کہ 2009 میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے وعدہ کیا تھا کہ وہ آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کی مدد پر سالانہ 100 ارب ڈالرز خرچ کریں گے۔

آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلمپنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے 2019 تک یہ فنڈنگ محض 79 اعشاریہ 7 ارب ڈالرز تک پہنچی تھی۔

سعودی عرب، انڈونیشیا اور بھارت کے ساتھ تعاون

کانفرنس کے دوران امریکی صدر کے ماحولیات سے متعلق مشیر جان کیری نے کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ توانائی کے قابلِ تجدید ذرائع کو بروئے کار لانے کے لیے کلین ہائیڈرجن منصوبے پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اُن کے بقول امریکہ انڈونیشیا میں جنگلات کی کٹائی روکنے اور بھارت میں بھی توانائی کے قابلِ تجدید ذرائع کے منصوبوں پر کام کرے گا۔

Photo Credit : https://c.files.bbci.co.uk/170B1/production/_118158349_screenshot2021-04-22at13.22.59.png

Leave a Reply

Your email address will not be published.