“آئی لو پیرس” امریکی نائب صدرکاملا ہیرس کی فرانس میں صحافی سے گفتگو

امریکی نائب صدر کاملا ہیرس نے بدھ کو فرانس کے صدر ایمانوئل میکراں سے آب و ہوا کی تبدیلی، معیشت، صحت کے عالمی اور سپلائی چین کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ وہ فرانس کے چار روزہ دورے پر پیرس پہنچی ہیں۔

امریکی نائب صدر کے دورہ فرانس کو امریکہ کے دیرینہ اتحادی فرانس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا تازہ ترین اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

دونوں ملکوں کے تعلقات میں اس وقت دراڑ پڑی جب ستمبر میں آسٹریلیا نے فرانس سے روایتی آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ ختم کر دیا اور اس کی بجائے اس نے امریکہ اور برطانیہ سے ایٹمی آبدوزیں خریدنے کا سودا کر لیا۔

پچھلے ماہ روم میں صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ اس معاملے سے نمٹنے میں امریکہ نے غیر مصلحت اندیشی کا مظاہرہ کیا تھا۔

بدھ کو ایلیسی پیلس کا دورہ کرتے ہوئے ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ فرانس سے امریکہ کے تعلقات بہتر کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں، امریکی نائب صدر کاملا ہیرس نے پیرس سے اپنے والہانہ تعلق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “آئی لو پیرس”۔

فرانس کے صدر سے ملاقات سے قبل کاملا ہیرس اور ان کے شوہر ڈگ ایم ہوف نے سابق امریکی فوجیوں کی یاد میں منائے جانے والے دن اور جنگ عظیم اول کے خاتمے کی یاد میں پیرس کے مضافات میں واقع سویرنیس امریکی قبرستان میں جا کر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ یہ جگہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں امریکی فوجیوں کی یاد میں بنائی گئی ہے اور اس قبرستان میں تقریباً ایک ہزار چھ سو امریکی فوجیوں کی باقیات دفن ہیں۔

منگل کو امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہل کار نے نامہ نگاروں کو بتایاتھا کہ دو طرفہ ملاقات خاصی اہم ہے، کیونکہ امریکہ اور فرانس کے درمیان تعلقات عالمی نوعیت کے حامل ہیں، مزید یہ کہ فرانس اور دیگر یورپی اتحادی امریکہ کے مستقبل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

کاملا ہیرس اور میکراں جمعرات کو جنگ بندی کے سلسلے میں منائی جانے والی ایک خصوصی تقریب میں شرکت کریں گے۔

جمعرات کو نائب صدر ہیرس، پیرس پیس فورم میں بائیڈن انتظامیہ کی نمائندگی کریں گی اور جمعہ کو لیبیا کے بارے میں ایک سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گی، جہاں اگلے ماہ انتخاب ہونے والے ہیں۔

Photo Credit : https://www.whitehouse.gov/wp-content/uploads/2021/04/V20210305LJ-0043.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.