اورنج کیلی فورنیا میں فائرنگ کرنے والا تمام ہلاک شدگان کو جانتا تھا، پولیس

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے جنوبی شہر اورنج کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جس گن مین نے بدھ کی شام فائرنگ کر کے چار افراد کو ہلاک اور پانچویں کو زخمی کیا، وہ تمام ہلاک شدگان کو کسی نہ کسی طرح جانتا تھا۔پولیس نے اب تک ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

مقامی پولیس لیفٹننٹ جینیفر امیٹ کے مطابق، پولیس اہلکاروں کے موقعے پر پہنچنے سے قبل فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص نے، جس کی شناخت مبینہ طور پر 44 سالہ شخص امینادب گونزالیز کے طور پر کی گئی ہے، اس دفتر کی عمارت کے گیٹ کو زنجیر سے بند کر دیا تھا، جہاں ہلاک شدگان موجود تھے۔ جس کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کو عمارت کے باہر سے اسے بات چیت میں الجھانا پڑا۔

بدھ کو ہونے والی فائرنگ کے اس واقعے میں ایک نو سالہ بچے سمیت چار افراد ہلاک جب کہ دو افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں مشتبہ حملہ آور بھی شامل ہے۔

پولیس نے اب تک ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ تاہم تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین، ایک بچہ اور ایک مرد شامل ہے۔ جبکہ واردات میں زخمی ہونے والی ایک خاتون ہیں۔

پولیس نے جائے واردات سے آٹومیٹک ہینڈ گن،پیپر سپرے کے ساتھ ایک بیک پیک ، ہتھکڑیاں اور بارودی مواد برآمد کیا ہے۔

چوالیس سالہ مشتبہ حملہ آور کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے، لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ اس نے اپنے آپ کو خود زخمی کیا ، یا وہ پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوا۔

بدھ کے روز لاس اینجلس کے جنوب مشرقی شہر اورنج میں ہونے والی فائرنگ کی خبر سن کر پولیس اہلکار جب موقعے پر پہنچے تو عمارت سے فائرنگ کی آوازیں آرہی تھیں۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ایک موبائیل ہوم بروکریج کمپنی ‘یونیفائیڈ ہومز’ کے دفاتر میں پیش آیا۔ اس علاقے میں زیادہ تر دفاتر ہی موجود ہیں۔


جینیفر امیٹ نے کہا کہ فائرنگ کے پیچھے کیا مقاصد تھے فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا ہے۔ ان کے بقول عمارت کی دونوں منزلوں پر فائرنگ کی گئی ہے۔

ادھر محکمۂ پولیس کی جانب سے فیس بک پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صورتِ حال اب قابو میں ہے اور عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

دوسری جانب کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے اس فائرنگ کو خوف ناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے دل اس ہولناک واقعے کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔

کیلی فورنیا سے ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹک رکن کیٹی پورٹر نے ٹوئٹ کیا کہ وہ بہت افسردہ ہیں۔

جینیفر امیٹ کا کہنا تھا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ دسمبر 1997 کے بعد سے بدترین واقعہ ہے۔

سن 1997 میں ایک مسلح شخص نے کیلی فورنیا کے ٹرانسپورٹیشن مینٹیننس ڈپارٹمنٹ یارڈ میں رائفل سے حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں بھی چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکہ میں ایک ماہ میں فائرنگ کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 16 مارچ کو ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا کے مساج پالروں میں فائرنگ سے آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جب کہ 22 مارچ کو ریاست کولوراڈو کی ایک سپر مارکیٹ میں فائرنگ سے 10 افراد مارے گئے تھے۔

Photo Credit : https://www.boston.com/wp-content/uploads/2021/03/orangeca-6065436602318-850×478.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: