انڈونیشیا میں زلزلے سے 35 افراد ہلاک، کئی عمارتیں منہدم


انڈونیشیا میں 6.2 شدت کے زلزلے اور اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کے باعث مختلف واقعات میں 35 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔

ہمارا ہند کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی شب زلزلے کے بعد سولوسی جزیرے کے زلزلہ پیما مرکز نے آفٹر شاکس کی وارننگ جاری کردی ہے۔ جبکہ سونامی کے خدشات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے۔

زلزلے کا مرکز جزیرہ سولاویسی کا ماجینی ٹاؤن تھا اور زمین میں اس کی گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔

زلزلے کے جھٹکوں سے شہری گھروں سے باہر نکل آئے اور سونامی کے اندیشے کے پیشے نظر بلند مقامات کا رخ کرنے لگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے اور آفٹر شاکس کے باعث تین مختلف مقامات پر تودے گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ بجلی منقطع ہو چکی ہے اور مرکزی شہروں جیسے مکاسار سے دیگر علاقوں کو منسلک کرنے والے پل متاثر ہوئے ہیں۔

زلزلے سے ہونے والے مزید نقصانات کے حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ 60 سے زائد گھروں کے تباہ ہونے کی نشان دہی ہو چکی ہے۔ جب کہ دو ہوٹل بھی منہدم ہوئے ہیں۔

اسی طرح صوبائی گورنر کے دفتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اور اندیشہ ہے کہ ملبے تلے کچھ افراد دبے ہوئے ہیں۔

ہمارا ہند کے مطابق ، مغربی سلویسی ایمرجنسی ریلیف ایجنسی کے سربراہ ڈارنو ماجد نے بتایا کہ ماجینی میں 35 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے اور ماجینی سے ملحقہ ممجو ضلع میں زلزلے اور آفٹر شاکس کے خدشات ہیں۔ ہو جائے گا

ان کے بقول رضا کار امدادی سرگرمیوں اور نقصانات کا اندازہ لگانے کے کام میں مصروف ہیں۔

انڈونیشیا کے ہنگامی امداد کے قومی ادارے نے ابتدائی معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ زلزلے اور آفٹر شاکس سے ماجینی میں 637 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جب کہ اس کے ساتھ واقع ماموجو میں دو درجن افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حکام کی جانب سے سونامی کی وارننگ تو جاری نہیں کی گئی۔ البتہ میٹرولوجی اینڈ جیوفزکس ایجنسی کی سربراہ دویکوریتا کرناواتی نے پریس بریفنگ میں بتایا ہے کہ زلزلے کے بعد اب تک 26 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اگر ایک اور شدید زلزلہ آیا تو سونامی کا بھی خدشہ ہے۔

مغربی سولاویسی کی حکومت کے ترجمان ظفر الدین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ مواصلات کی بحالی، تباہ حال پلوں کی مرمت اور متاثرہ افراد کو خیمے، خوراک اور ادویات پہنچانے کا کام کر رہی ہے۔

انڈونیشیا میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر سے واضح ہو رہا ہے کہ شہری اپنی سواریوں پر بلند مقامات کی جانب جا رہے ہیں۔ بعض مقامات پر شہری ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ممکنہ طور پر اس ملبے تلے افراد موجود ہوں گے۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا میں زلزلے اکثر آتے رہتے ہیں جس کے باعث عوام کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سولاویسی میں 2018 میں بھی 6.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے بعد سونامی سے پالو شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا اور یہاں ہزاروں افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ 2004 میں انڈونیشیا کا شمالی جزیرہ سماترا 9.1 شدت کے زلزلے کی زد میں آیا تھا۔ اس زلزلے کے بعد سونامی سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔ سونامی سے انڈونیشیا، سری لنکا، بھارت، تھائی لینڈ سمیت نو ممالک متاثر ہوئے تھے اور مجموعی طور پر دو لاکھ 30 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

Photo Credit : https://media.gettyimages.com/videos/area-that-was-completely-destroyed-by-an-earthquake-on-october-04-in-video-id1051705386?s=640×640

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: