انٹارکٹک کی برفانی چٹانوں پر پلاسٹک کے رنگ برنگے ذرات کیسے پہنچے؟

خبریں

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انٹارکٹک کے علاقے میں جہاں صدیوں پرانے گلیشیئر موجود ہیں ، وہاں چاندی کی طرح چمکتی برف پر مختلف رنگوں کے پلاسٹک کے ننھے ننھے ذرات اپنی موجودگی کا احساس دلاتے نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں ایک سائنسی جریدے ’ دی کرائس فیئر‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹارکٹک کے علاقے میں جانے والی سائنس دانوں کی ایک ٹیم کو راس آئی لینڈ کے علاقے میں 19 مقامات پر رنگ برنگے پلاسٹک کے بہت چھوٹے چھوٹے ذرات ملے ہیں جن میں سے اکثر کا سائز چاول کے ایک دانے سے بھی کم تھا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ذرات بہت عام قسم کے پلاسٹک کے تھے جو بالعموم سوڈے اور دیگر مشروبات کی بوتلوں وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ پلاسٹک کے یہ ذرات ایک ایسے دور افتادہ اور یخ علاقے میں کیسے پہنچے جہاں انسانی قدم بھی بمشکل پہنچ پاتے ہیں۔ سائنس دانوں کے خیال میں پلاسٹک کے ذرات برفانی چٹانون پر پہنچنے کے دو امکانی طریقے ہیں۔ اول یہ ہے کہ انٹارکٹک میں جانے والے لوگ پلاسٹک کی بوتلوں اور ڈبوں میں چیزیں وہاں لے گئے ہوں اور خالی ہونے پر انہیں پھینک دیا گیا ہو۔ اور پھر سخت موسمی حالات اور دیگر وجوہات کی بنا پر پلاسٹک کا کچرا ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا ہو۔ جب کہ دوسرا امکان یہ ہو سکتا ہے کہ تندو تیز ہوائیں پلاسٹک کے ذرارت کو برفانی چٹانوں پر لے گئی ہوں۔

انٹارکٹک پر موجود پلاسٹک کے ذرات کی مقدار کے پیش نظر سائنس دان کہتے ہیں کہ وہ ممکنہ طور پر تیز ہواؤں کے ذریعے ہی وہاں پہنچے ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ کوڑے کرکٹ اور کچرے کے ڈھیروں میں پھینک دیا جانے والا پلاسٹک شکست و ریخت کا شکار ہو کر آہستہ آہستہ ننھے ننھے ذرات کی شکل اختیار کر لیتا ہے جنہیں ہوائیں باآسانی ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا دیتی ہیں۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ انٹارکٹک پہنچنے والے پلاسٹک کے ذرات نے ہواؤں کی لہروں اور جھکڑوں پر سوار ہو کرہزاروں میل کا سفر طے کیا ہوگا اور وہ مختلف منزلوں پر رکتے ہوئے، ہواؤں کی نئی لہروں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے اور اس دوران وہ شکست و ریخت کے عمل سے بھی مسلسل گزرتے رہے ۔

نیوزی لینڈ کی کینٹربری یونیورسٹی میں ماحولیاتی طبیعیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر لورا ریویل کہتی ہیں کہ پلاسٹک کے یہ ننھے ننھے ذرات جنہیں مائیکرو پلاسٹک کہا جاتا ہے، انسانوں اور جنگلی حیات کے لیے یکساں طور پر نقصان دہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ مائیکرو پلاسٹک ہماری خوراک میں شامل ہو کر جسم میں داخل ہو جاتا ہے اور ہمیں مختلف عوارض میں مبتلا کرنے کا سبب بنتا ہے۔اسی طرح پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات سانس کے ذریعے ہمارے پھیپھڑوں میں بھی داخل ہو سکتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل آبی حیات پر کی گئی ایک تحقیق سے پتا چلا تھا کہ بہت سے سمندری جانوروں کے جسموں میں ، جن میں انتہائی چھوٹے حشرات بھی شامل ہیں پلاسٹک کے ذرات پائے گئے تھے۔

اسی طرح برطانیہ میں آبی پرندوں پر کی جانے والی ایک ریسرچ سے ظاہر ہوا تھا کہ ان کے جسم میں پلاسٹک کے ذرات موجود تھے۔ جب کہ ان پرندوں کی خوراک صرف پانی میں پائے جانے والے کیڑے اور چھوٹی مچھلیاں تھیں۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ان پرندوں نے جن آبی جانوروں کو کھایا تھا ان میں پلاسٹک کے ذرات موجود تھے۔

ریویل کہتی ہیں کہ ہمیں یہ پہلو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ کچرے میں پھینکے جانے والے پلاسٹک پر مختلف زہریلے مادے وغیرہ بھی چپک جاتے ہیں اور جب پلاسٹک انتہائی باریک ذرات میں ڈھلتا ہے تو بھی مضر صحت اور زہریلی اشیا ان پر اپنی موجودگی برقرار رکھتی ہیں۔ جب یہ ذرات ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں تو وہ ان زہریلے اجزا کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور زہریلی آلودگی ایسے مقامات تک منتقل ہو جاتی ہے جہاں بصورت دیگر ان کا پہنچنا ممکن نہیں تھا۔

ریویل کہتی ہیں کہ انٹارکٹک اور دیگر گلیشیئرز پر پلاسٹک کے مائیکرو ذرات کی موجودگی کو عالمی حدت میں اضافے کے تناظر میں بھی پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ سفید رنگ حرارت اور روشنی کو واپس فضا میں لوٹا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہاڑوں پر برف پگھلنے کی رفتار سست ہوتی ہے۔ جب کہ رنگ دار پلاسٹک کے ذرات حرارت کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں جس سے اس برفانی علاقے میں ، جہاں مائیکرو پلاسٹک موجود ہو، حرارت جذب ہونے اور برف پگھلنے کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ یہ عمل گلوبل وارمنگ میں اضافے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “انٹارکٹک کے ماحول کو عام طور پر ماحولیاتی تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ایسے دور دراز خطے میں ہوا ؤں کے ساتھ پہنچنے والے مائیکرو پلاسٹک کی دریافت ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ مستقبل میں کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے پلاسٹک پر کنٹرول سے متعلق عالمی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

تصویر کریڈٹ : https://media-cldnry.s-nbcnews.com/image/upload/rockcms/2022-06/220609-antarctica-se-449p-33346f.jpg