امن کا نوبیل انعام مشترکہ طور پر دو صحافیوں کے نام

رواں برس کے لیے امن کا نوبیل انعام مشترکہ طور پر دو صحافیوں کو دیا گیا ہے۔

ناروے کی نوبیل کمیٹی نے فلپائن سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی ماریا ریسا اور روسی صحافی دمیتری مراتو کو آزادیٴ اظہار کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے صلے میں مشترکہ طور پر امن کے نوبیل انعام کا حق دار قرار دیا ہے۔

ہمارہ ہند کے مطابق دونوں صحافیوں کو اس سال 10 دسمبر کو امن کا نوبل انعام دیا جائے گا۔

نوبیل کمیٹی کی سربراہ بیرت ریسی اینڈرسن نے جمعے کو پریس کانفرنس کے دوران امن کا نوبیل انعام جیتنے والوں کے ناموں کا اعلان کیا اور کہا کہ مذکورہ دونوں صحافی ان تمام صحافیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں جو مشکل حالات میں جمہوریت اور میڈیا کی آزادی کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ 1895 میں نوبل ایوارڈ کی بنیاد رکھنے والے سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے ‘الفریڈ نوبیل’ کی برسی کے موقع یہ اعزاز دیا جاتا ہے۔

ہمارا ہند کے مطابق ، رسا نے دوسرے ساتھی صحافیوں کے ساتھ مل کر 2012 میں ریپیلر نامی ویب سائٹ کی بنیاد رکھی۔ ویب سائٹ میں فلپائن کے سابق صدر روڈریگو ڈیوٹیرٹے کی منشیات مخالف مہم پر تنقید کی گئی۔

ریسا اور ان کی ویب سائٹ سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی خبروں کے پھیلانے، مخالفین کو ہراساں کرنے اور عوامی رائے تبدیل کرنے سے متعلق معاملات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔

نوبیل انعام ملنے پر اپنے ردِ عمل میں ناروے کے نشریاتی ادارے ‘ٹی وی 2’ سے بات کرتے ہوئے ریسا نے کہا کہ “ظاہر ہے کہ میری حکومت اس اعلان سے خوش نہیں ہوئی ہو گی۔”

ریسا کے بقول، “امن کے نوبیل انعام کے لیے اپنا نام سن کر میں ششدر رہ گئی تھی لیکن میں اس بات پر بہت خوش ہوں کہ نوبیل کمیٹی نے ہماری خدمات کو تسلیم کیا۔”

ریسا کو امن کا نوبیل انعام ملنے پر فوری طور پر فلپائن کی حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

روسی صحافی دمتری مراتو کون ہیں؟

امن کے نوبیل انعام کے حق دار قرار پانے والے صحافی دمتری مراتو روس کے مقبول ترین اخبار ‘نووایا گیزیٹ’ کے بانی ہیں جنہوں نے اس کی بنیاد 1993 میں رکھی تھی۔

نوبیل کمیٹی کا کہنا ہے کہ ‘نووایا گیزیٹ’ روس میں اس وقت ایک آزاد اخبار ہے جو بنیادی طور پر مقتدر حلقوں کا ناقد ہے۔

نوبیل کمیٹی کا مزید کہنا ہے مراتو کے اخبار کی حقائق پر مبنی صحافت اور پیشہ ورانہ دیانت داری روس میں اہم معلومات کا ذریعہ ہے جو دیگر میڈیا کے مقابلے میں اسے ممتاز کرتا ہے۔

نووایا گیزیٹ کی پہلی اشاعت سے اب تک اس اخبار سے وابستہ چھ صحافی قتل ہو چکے ہیں جن میں اینا پولٹکوسکایا بھی شامل ہیں جنہوں نے چیچنیا میں روس کی جانب سے خونریزی کی کوریج کی تھی۔

مراتو کو نوبیل انعام ملنے پر روس کے صدارتی محل کے ترجمان دمتری پیسکو نے مراتو کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ‘ہوشیار’ اور ‘بہادر’ شخص قرار دیا ہے۔

امن کے نوبیل انعام کے ناموں کا اعلان ہونے کے بعد کریملین کے ترجمان نے صحافیوں سے کانفرنس کال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم دمتری مراتو کو مبارک باد دے سکتے ہیں اور وہ مسلسل مثالی کام کر رہے ہیں۔

Photo Credit : https://cloudfront-us-east-1.images.arcpublishing.com/bostonglobe/T3HO3SQEDLQVLG7LI5G44UMRVU.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.