امن مذاکرات: ‘ٹی ٹی پی کے مطالبات تسلیم کرنے میں قانونی پیچیدگیاں حائل ہیں’

خبریں

کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) نے حکومتِ پاکستان سے صوبۂ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے وفاق کے زیرِانتظام سابق قبائلی علاقوں(فاٹا) کی پرانی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔البتہ ماہرین کے خیال میں اس مطالبے کے پیچھے افغان طالبان کی سوچ زیادہ کارفرما ہو سکتی ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں پاکستان سےقبائلی عمائدین پر مشتمل تقریباً 50 رکنی جرگے نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی قیادت سے دو روزہ مذاکرات کیے تھے۔

اس وفد میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے رہنما، اراکین پارلیمنٹ اور علاقائی عمائدین شامل تھے۔تاہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے معاون خصوصی بیرسٹر سیف کہتے ہیں ٹی ٹی پی سے ہونے والے مذاکرات حکومتی سطح پر نہیں بلکہ صوبے کے تمام علاقوں، بشمول مالاکنڈ ڈویژن، سے تعلق رکھنے والے عمائدین نے کیےاور وہ بحیثیت پشتون اس جرگے کے معاون تھے۔

اس جرگے سے ملاقات کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ”حکومتِ پاکستان اور اس کے سیکیورٹی ادارے اگر ملک میں امن چاہتے ہیں تو وہ اسی صورت ممکن ہے جب وہ قبائلی علاقوں کی حاصل آزاد حیثیت بحال کریں، جس کو قبائل نے برطانوی سامراج سے طویل جہاد کے بعد ایک معاہدے کی صورت میں حاصل کیا تھا اور اس کی توثیق محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے بعد قبائل کے ساتھ کی تھی۔”

ٹی ٹی پی کے اس مطالبے پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مطالبے کے پیچھے افغان طالبان کی سوچ زیادہ کارفرما ہوسکتی ہے۔ کیوں کہ ان کے بقول طالبان ڈیورنڈ لائن کو بطور بین الاقوامی سرحد تسلیم نہیں کرتے اور حالیہ مہینوں میں سرحد پر ایسے واقعات ہوئے ہیں جس میں طالبان نے باڑ کو اکھاڑ کر پھینکنے کی کوشش کی تھی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تلخی بھی ہوئی تھی۔

ماہرین کے مطابق اس وقت افغان طالبان کو ملک کے شمال میں سخت مزاحمت کا سامنا ہےاور وہ کسی بھی قیمت پر ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی ایما پر کارروائیاں نہیں کر سکتے ہیں کیوں کہ انہیں اب بھی جنگجوؤں کی ضرورت ہے۔ لہٰذا اس لحاظ سے اگر فاٹا کی آزاد حیثیت بحال ہوتی ہےتو سرحد پار سے تازہ دم دستے ہما وقت حاصل ہوسکیں گے۔

افغان امور کے ماہر اور شدت پسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے محقق پروفیسر ڈاکٹرسید عرفان اشرف کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی افغان طالبان کی حمایت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ان کے بقول ٹی ٹی پی کے جنگجو گزشتہ بیس برسوں سے افغان طالبان کے ساتھ مل کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔

سید عرفان اشرف کے مطابق افغان طالبان، ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو شدت پسند تنظیم داعش اور افغانستان کے علاقے پنجشیر میں مزاحمت کاروں کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔

‘ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں’

طالبان کے افغانستان میں برسرِاقتدار آنے کے بعد میڈیا پر سیکیورٹی سے متعلق خبریں کم ہی نشر ہوتی ہیں مگر آزاد ذرائع کے مطابق اس وقت طالبان اور مزاحمت کاروں کے درمیان پنجشیر کے مقام پر لڑائی جاری ہے اور دونوں اطراف جانی نقصانات کی بھی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

ادھر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان کے معاونِ خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

ان کے بقول یہ مذاکرات خوش گوار ماحول میں ہوئے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے مفتی نور ولی محسود نے مذاکرات کی سربراہی کی اور یہی وجہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے تاحکم ثانی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔

 بیرسٹر سیف نے بتایا کہ ٹی ٹی پی کو فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں اور انہوں نے سابق قبائلی علاقوں کی پرانی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن ٹی ٹی پی کو بتایا گیا ہے کہ اس مطالبے میں کچھ قانونی پیچیدگیاں ہیں، جس کے لیے ان سے تین ماہ کا وقت مانگا گیا ہے۔

بیرسٹر محمد علی سیف کا مزید کہنا تھا کہ جرگہ اراکین اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری تھے اور ٹی ٹی پی کےتحفظات ومطالبات پرغورکرنے اورانہیں دورکرنے کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے سامنے مشاورت کے لیے رکھا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے پیش کردہ سفارشات کو متعلقہ عمائدین، پارلیمنٹ اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا اور جو بھی نتیجہ نکلے گا اسے بعد میں ٹی ٹی پی کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

وزیرِ اعلیٰ کے معاونِ خصوصی کا کہنا تھا کہ وہ پرُ امید ہیں کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ معاملات درست سمت کی جانب گامزن ہیں۔ بنیادی مقصد علاقے میں امن کا قیام ہے اور اس سلسلے میں ٹی ٹی پی کی جانب سے ‘تا حکم ثانی’ جنگ بندی خوش آئند پیش رفت ہے۔

خیال رہے کہ ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ ”دو دن پر مشتمل نشست میں کافی پیش رفت ہوئی ہے ، جس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کی قیادت نے تاحکم ثانی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔”

اس کے ساتھ ہی ٹی ٹی پی نے آنے والے دنوں میں مزید نشستوں کا بھی عندیہ دیا ہے۔

ڈاکٹر سید عرفان اشرف کہتے ہیں کہ اگر موجودہ حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی صورتِ حال مزید پیچیدہ اور گھمبیر ہوتی جا رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں قیادت اس بات پر مجبور ہوئیں کہ صورتِ حال مزید خراب ہونے سے پہلے اسے بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان کے گزشتہ برس اگست میں برسرِاقتدار آنے کے بعد سے ٹی ٹی پی کے سرحد پار حملوں میں تیزی آئی ہے۔اسی عرصے میں ٹی ٹی پی کی جانب سے سینکڑوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ان کارروائیوں کے بعد پاکستان پر بھی یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے جواباً ا فغانستان میں کارروائی کی اور وہ مزید حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ البتہ پاکستان نے افغان سرزمین پر کارروائیوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی تھی۔

ڈاکٹر عرفان اشرف کے مطابق یہی وہ خدشات تھے جس کی بنا پر افغان طالبان نے پاکستانی حکومت کو ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کرنے پر مجبور کیا۔ تاکہ صورتِ حال کو مزید گھمبیر ہونے سے بروقت بچایا جا سکے۔

عرفان اشرف کا کہنا تھا کہ اگر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو یہ علاقے امن کا ضامن نہیں ہو سکتے کیوں کہ خطے میں دہشت گردوں کا صرف ایک گروہ نہیں ہے۔ ٹی ٹی پی کی مزید شاخیں بھی ہیں اور سب کو ایک نقطے پر راضی کرنا آسان نہیں ہو گا۔

ان کے بقول فریقین کے درمیان جنگ بندی گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے لیکن قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملے اور فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

پیر کو پاکستان فوج کےشعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں دو مبینہ دہشت گردوں کو مارے جانے کی تصدیق کی گئی تھی۔

ڈاکٹر عرفان اشرف کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کےعلاقے میں منفی نتائج بھی ہو سکتے ہیں کیوں کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے علاقے میں واپس آنے کی صورت میں علاقائی سطح پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول علاقے میں ماضی میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) جیسی تحریکوں نے جنم لیا ہے جن کی سوچ اور نظریات ٹی ٹی پی سے مختلف ہیں جو کہ ٹی ٹی پی کے وجود کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔

دوسری جانب فاٹا انضمام کے خلاف سپریم کورٹ میں بھی ایک کیس زیرِ سماعت ہے، جو مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے عمائدین نے دائر کیا ہے۔

اس کیس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیاہے کہ عوام کا مطالبہ فاٹا میں اصلاحات کا تھا نہ کہ اس کا خیبر پختونخوا میں انضمام، اس کے علاوہ یہ کہ قبائلی عمائدین نے جرگہ سسٹم کے خاتمے کی بھی مخالفت کی تھی۔

ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کتنے نتیجہ خیزہوسکتےہیں، یہ تو ابھی معلوم نہیں۔البتہ بیرسٹر سیف کےمطابق اسے امن کی جانب ایک اچھی کاوش قراردیا جا سکتا ہے۔

تصویر کریڈٹ : https://i.dawn.com/primary/2014/03/5311d690dcdea.jpeg