امریکی وزیرِ خارجہ بلنکن یورپ کے دورے میں لیبیا کانفرنس میں شرکت کریں گے

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن منگل کو جرمنی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ لیبیا کے بارے میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ وہ اس دورے میں اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ ہولوکاسٹ کو جھٹلانے اور یہودیت مخالفت جیسے عوامل سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

جرمنی اور اقوام متحدہ بدھ کو برلن میں ہونے والی کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لیبیا میں لڑائی کے دیرپا خاتمے اور مستحکم حکومت کی مدد کے لیے کوششیں کی جائیں۔

لیبیا کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ نورلینڈ نے کہا ہے کہ ان مذاکرات سے ان اقدامات کی رفتار بڑھے گی جو دسمبر میں انتخابات کے لیے ضروری ہیں بشمول ووٹ کے لیے ایک آئینی اور قانونی بنیاد کے۔

نارلینڈ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ کانفرنس میں لیبیا سے نکلنے والے غیر ملکی جنگجووں کا مسئلے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

سیاسی استحکام:

لیبیا کو سال2011 کے بعد سے سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے جب لیبیا میں نیٹو کی حمایت میں ہونے والی بغاوت نے طویل عرصے سے اقتدار میں چلے آنے والے رہنما معمر قذافی کو ان کے عہدے سے ہٹایا تھا۔ ملک کے مختلف حصوں میں ایک دوسرے کی مخالف حکومتیں قائم ہو گئیں، تاہم گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ ہوا جس میں تمام غیر ملکی جنگجوؤں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 90 دن کے اندر اندر ملک چھوڑ دیں۔​

نارلینڈ نے صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک غیر ملکی فورسز کا سوال ہے، آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں کہ وہ ابھی تک ملک چھوڑ کر نہیں گئے ہیں۔ اور ہمارا بنیادی موقف یہ ہے کہ ہمیں انتخابات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ اس کے بعد ہی کوئی پیش رفت ہو۔

’’ انتخابات جس ایک وجہ سے سب سے زیادہ ضروری ہیں وہ یہ کہ ایک مکمل طور پر بااختیار، ساکھ رکھنے والی، لیبیا کی جائز حکومت غیر ملکی ایکٹرز سے کہے کہ آپ کی فوجوں کے جانے کا وقت ہو گیا ہے‘‘۔

نارلینڈ نے کہا کہ جو لوگ برلن کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں وہ مسلح دستوں کے اقدامات اور دہشت گردی جیسے عدم استحکام پیدا کرنے والے عوامل پر بھی غور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا میں حالیہ حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے عہدیداروں نے ان لوگوں سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو ہولوکاسٹ (یہودیوں کے قتل عام) سے انکاری ہیں یا اس کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔

عہدیداروں نے بتایا کہ یہ معاملہ بھی امریکی وزیرخارجہ انٹنی بلنکن اور جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کے درمیان ملاقات کے ایجنڈے کا حصہ ہو گا۔

ہولوکاسٹ پر امریکہ کے خصوصی سفیر چیری ڈینئل نے کہا ہے کہ ہولوکاسٹ، اس کے نتائج اور اس کے جائے واقعہ کے بارے میں تعلیم دینا، حکومتی عہدیداروں اور عوام کے لیے مددگار ہو گا اور انہیں یہودیت مخالف جذبات اور نفرت کی دیگر شکلوں میں استعمال ہونے والے طریقوں کو سمجھنے اور ان رویوں کو پیچھے دھکیلنے میں مدد ملے گی۔

داعش کو شکست دینا ایک اور کانفرنس کا موضوع ہو گا، جس کی میزبانی امریکہ کے وزیرخارجہ بلنکن اور اٹلی کے وزیرخارجہ لوگی دی مائیو کریں گے۔ بلنکن یورپ کے اس دورے کے ایک پڑاو میں روم جائیں گے۔

بلنکن اٹلی میں ہونے والے ایک وزارتی اجلاس میں بھی شریک ہوں گے جہاں شام کے معاملات اور وہاں انسانی ضروریات پر تبادلہ خیال ہو گا۔

یورپ کے اس دورے کے دوران بلنکن فرانس بھی جائیں گے جہاں وہ صدر ایمانول میخواں سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ اس کے فورا بعد ہو رہا ہے جب صدر جو بائیڈن نے اس خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں تاکہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔

یورپی اور یوریشیئن افیئرز کے لیے قائم مقام نائب وزیرخارجہ فلپ ریکر نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ دورہ مسٹر بلنکن کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ صدر بائیڈن کے پیغام کو، جس میں گلوبل سیکیورٹی، عالمی وبا اور اس وبا سے چھٹکارے سمیت اہم معاملات پر تعاون پر زور دیا گیا ہے، اپنے پرانے اتحادیوں میں دوہرائیں۔

انٹنی بلنکن ویٹی کن کا بھی دورہ کریں گے جہاں، ریکر کے بقول، ملاقات کے ایجنڈے میں موسمیاتی تغیر اور انسانی اسمگلنگ جیسے موضوعات شامل ہیں۔

Photo Credit : https://cdn-japantimes.com/wp-content/uploads/2021/04/np_file_80922.jpeg

Leave a Reply

Your email address will not be published.