امریکی صدور پر سروے: کون کتنا مقبول؟

خبریں

امریکہ میں صدر کے منصب پر فائز ہونے والی شخصیات کی ذاتی زندگی اور سیاسی سفر ہمیشہ ہی عوامی دلچسپی کا محور رہا ہے۔ امریکہ کی تقریباً ڈھائی صدیوں پر محیط تاریخ میں منصب صدارت پر فائز رہنے والوں میں کون کتنا مقبول ہے؟ اس بارے میں ایک حالیہ سروے سے کچھ دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں۔

امریکہ میں ہونے والے ایک تازہ سروے کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ ملک کی حالیہ تاریخ کے صدور میں براک اوباما اور رونالڈ ریگن امریکہ کے بہترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ فہرست میں آخری درجوں پر ہیں۔

امریکہ کے نشریاتی ادارے ’سی-سپین‘ کے سروے کے مطابق درجہ بندی میں سب سے بہترین پانچ صدور میں ابراہم لنکن، جارج واشنگٹن، فرینکلن ڈی روزویلٹ، تھیوڈور روزویلٹ اور ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور کے نام شامل ہیں۔ سب سے آخری پانچ نمبر وں پر آنے والوں میں ولیم ہنری ہیریسن، ڈونلڈ ٹرمپ، فرینکلن پیئرس، اینڈریو جانسن اور جیمز بکانن شامل ہیں۔

سروے کے مطابق سب سے بہترین صدور میں جو قدر مشترک ہے وہ ان کا امریکی قوم کی بقا سے متعلق بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا ہے۔ جیسے ابراہم لنکن نے خانہ جنگی کے دوران صدارت کی اور ملک کو تقسیم ہونے سے بچایا۔

جارج واشنگٹن امریکہ کے پہلے صدر تھے۔ انہوں نے ملک میں بادشاہت رائج نہیں کی اور صدر کے طور پر کام کرنے کے بعد عہدے سے دست بردار ہوئے جس سے امریکہ میں جمہوریت رائج ہو سکی ۔

فرینکلن روزویلٹ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ کی قیادت کی جب کہ آئزن ہاور نے کوریا کی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کیے۔

نورفولک اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ کالج آف لبرل آرٹس کی ڈین پروفیسر کیسینڈرا نیوبی الیگزینڈر بھی اس سروے کا حصہ تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ تمام صدور امریکہ کی تاریخ کے نازک ادوار میں صدارت کے منصب پر فائز تھے۔

امریکہ کے ابتدائی آٹھ صدور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جان ایف کینیڈی (8ویں صدر) سے ابراہم لنکن (پہلے صدر) تک امریکہ کے مستقبل کے لیےمثالی نظریے کی تخلیق کی گئی۔

صدور کو ان کے امریکہ کے لیےخواب اور تصور، عوام کو قائل کرنے کی اہلیت، بحران میں قیادت کی صلاحیت، معیشت، اخلاقی اقدار، خارجہ امور، انتظامی مہارت، کانگریس کے ساتھ تعلقات، مساوی انصاف کے حصول اور ملک کی قیادت کے تناظر میں کارکردگی پر پرکھا گیا۔

اس سروے میں شامل ماہر سیاسیات پیپرڈائن یونیورسٹی میں پبلک پالیسی کے پروفیسر رابرٹ کاف مین کہتے ہیں کہ کسی صدر کے عظیم ہونے اور اس کے بااثر ہونے کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں کہ زیادہ بااثر صدور عظیم بھی ہوں کیوں کہ کسی صدر کی عظمت کا انحصار اس کو در پیش چیلنج کی شدت پر بھی ہوتا ہے۔

انہوں نے مثالوں کے ساتھ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بیسویں صدی کے آغاز میں تھیوڈور روزویلٹ اور آخر میں بل کلنٹن بااثر صدور ثابت ہوئے لیکن انہیں کبھی بھی کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں رہا جو ان کی عظمت کا باعث بنتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے صدور کی فہرست میں سب سے آخری درجوں پر موجود جیمز بکانن کو ملک کے بدترین صدور میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا غلامی کے مسئلے پر مؤقف اپنانے سے انکار اور بعض اوقات غلاموں کے مالکان کا ساتھ دینا ایسے عوامل تھے جس نے خانہ جنگی سے قبل تقسیم کو ہوا دی۔

خود کو ری پبلکن کہنے والے تاریخ دان کفمین اور ایک اور خاتون تاریخ دان نیوبی الیگزینڈر کے مطابق ٹرومین کو کم درجے کا صدر سمجھنا درست نہیں ہے۔

امریکہ کے 33 ویں صدر کے حوالے سے دونوں ماہرین ان کی شہری حقوق کے لیے جدوجہد اور سرد جنگ جیتنے کے لیے کامیاب بنیاد کی بھی تعریف کرتے ہیں۔

نیوبی الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ سروے کے نتائج سے روایتی نقطۂ نظر کی عکاسی ہوتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر مورخین کی اوسط عمر پر غور کیا جائے تو وہ طویل العمر ہوتے ہیں۔ وہ سفید فام مرد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں سے بہت سے لوگ کسی حد تک روایتی نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ سروے کے نتائج کی فہرست میں چوتھے نمبر پر صدر تھیوڈور روزویلٹ اور 13ویں درجے پر صدر ووڈرو ولسن نسل پرستانہ خیالات اور اقدامات کے باوجود بلند درجوں پر فائز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان صدور کے ادوار میں امریکہ کی تاریخ میں ہجوم کے ہاتھوں سرِ عام لوگوں کو قتل کیے جانے کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے جب کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو سزائیں بھی نہیں دی گئیں۔

نیوبی الیگزینڈر کے مطابق ولسن نے وفاقی حکومت کی سطح پر عوام کو الگ الگ نسلوں میں تقسیم کیا۔ وفاقی سطح پر لوگوں کو اس سے قبل یوں تقسیم نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے بحری فوج کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کیا ،پہلے کبھی بھی ایسا نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے امریکہ کی تاریخ کے نازک دور میں پسماندگی کی طرف مائل پالیسی اپنائی۔

نیوبی الیگزینڈر کے خیال میں فہرست میں نویں نمبر پر موجود رونالڈ ریگن کو بھی زیادہ درجہ دیا گیا۔

اس سلسلے میں وہ نسل پرستی کے بارے میں ریگن کے مؤقف کا ذکر کرتی ہیں۔ یاد رہے کہ صدر ریگن نے اس اپارتھائیڈ ایکٹ کو ویٹو کیا، جس کے تحت 1986 میں جنوبی افریقہ کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد ہونا تھیں۔

دوسری طرف کفمین ان وجوہات کو بیان کرتے ہیں، جو 40 ویں امریکی صدر ریگن کو فہرست میں اعلیٰ درجہ دینے کی وجہ بنتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ریگن کے حق میں جو باتیں جاتی ہیں ان میں سرد جنگ میں کامیابی ، امریکہ کی یہودی اور مسیحی اقدار میں جڑی معاشی خوشحالی کو بحال کرنا اور ملک کے بے مثال ہونے پر ان کا یقین شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ریگن نے اس بات کو بھانپ لیا تھا کہ سوویت یونین کیا تھا اور اس کو کیسے شکست دی جاسکتی تھی۔

کفمین نے مزید کہا کہ ریگن نے بل کلنٹن کو ایک مضبوط ملک سپرد کیا۔ ان کے بقول ریگن کو غیر مؤثر فوج ورثے میں ملی، جسے انہوں نے 1980 کی دہائی میں مضبوط بنیادوں پر استوار کیا اور اب امریکہ انہی کے دور میں مضبوط ہونے والی فوج کو آگے لے کر چل رہا ہے۔

کفمین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر چہ ایسا سوچنا ایک غیر مقبول رائے ہو گی لیکن ٹرمپ جو موجودہ درجہ بندی میں 41 ویں نمبر پر ہیں، مستقبل میں اس فہرست میں بلند درجے پر بھی فائز ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ جیسے جیسے سال گزرتے جائیں گے، صدر( ڈونلڈ ٹرمپ) کو کریڈٹ ملے گا۔ اگر چہ ٹرمپ کا طریقۂ کار ترش تھا۔ وہ ایسے معاملات کو میز پر لائے جنہیں طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا تھا۔ ان میں امریکہ کی خود مختاری، خاص طور پر چین اور توانائی کے حصول جیسے مسائل شامل ہیں۔

نیوبی الیگزینڈر کا خیال ہے کہ تاریخ 10ویں نمبر پر فائز براک اوباما کو زیادہ احسن طریقے سے دیکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ براک اوباما کو ابراہم لنکن سے ایک درجہ کم مقام پر رکھتیں کیوں کہ وہ نہ صرف ایک ناقابلِ یقین حد تک اہم صحت کی دیکھ بھال کا منصوبہ فراہم کرنے میں کامیاب رہے – بہت سی خامیوں کے باوجود صحت کا منصوبہ وہ چیز تھی جسے صدور تقریباً 100 برس سے بنانے کی کوشش کر رہے تھے اور اوباما اس کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوئے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ اس کے علاوہ اوباما نے امریکہ کو ایک ایسے بحران سے نکالا جو دراصل 1929 میں اسٹاک مارکیٹ کے کریش ہونے سے زیادہ گہرا تھا۔ اوباما کو اپنی صدارت کے آغاز پر ایسی صورتِ حال کا سامنا تھا جو فرینکلن روزویلٹ کے وقت رونما ہونے والے بحران سے کہیں زیادہ خراب تھی اور اوباما نے امریکہ کو اس صورت حال سے نکالا۔

ان کے خیال میں اوباما کو صدور کی فہرست میں کم درجہ دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن اس فہرست میں شامل نہیں ہیں کیوں کہ مورخین کا کہنا ہے کہ ان کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

تصویر کریڈٹ : https://www.thoughtco.com/thmb/3tdtMDBUKw7ifG4M8MrrJcvxsfs=/3000×2366/filters:fill(auto,1)/GettyImages-1068731228-5c1cf7f546e0fb00016913dd.jpg