امریکی سینیٹ نے نیٹو میں فن لینڈ اور سوئیڈن کی شمولیت کی منظوری دے دی

خبریں

امریکہ کے ایوانِ بالا (سینیٹ) نے بدھ کو فن لینڈ اور سوئیڈن کے نیٹو کے ساتھ الحاق کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام 30 ممالک پر مشتمل دفاعی اتحاد میں 1990 کے بعد سب سے بڑی توسیع ہے، جس کا پس منظر یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف ردعمل ہے۔

فن لینڈ اور سوئیڈن نے 24 فروری کوروس کے یوکرین پر حملے کے تناظر میں نیٹو میں شمولیت کے لیے درخواست دی تھی، جب کہ روس نے ان دونوں ممالک کو 30 رکنی اتحاد میں شامل ہونےکے خلاف خبر دار کیا تھا۔

نیٹو میں شمولیت ایک طویل عمل ہےجس کے لیے ضروری ہے کہ نیٹو کے تمام رکن ممالک اپنی پارلیمان سے اس کے لیے توثیق حاصل کریں۔

امریکی سینیٹ نے ایک کے مقابلے میں 95 سینیٹرز کی حمایت سے الحاق کی توثیق کی ۔ الحاق کی منظوری کے لیے سینیٹ کے دو تہائی یعنی 67 ووٹوں کی ضرورت تھی۔

اس موقع پر امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ “یہ تاریخی ووٹ ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ ہمارا اتحاد آج اور کل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔”

نیٹو کے 30 اتحادیوں نے گزشتہ ماہ فن لینڈ اور سوئیڈن کے ساتھ الحاق کے پروٹوکول پر دستخط کیے تھے جس کے بعد انہیں امریکی قیادت میں جوہری ہتھیاروں سے لیس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت مل گئی تھی۔

اس سے فن لینڈ اور سوئیڈن کو نیٹو کے اجلاسوں میں شرکت اور انٹیلی جنس تک زیادہ رسائی حاصل ہو گئی تھی، لیکن انہیں نیٹو کی دفاع سے متعلق شق آرٹیکل فائیو کا تحفظ حاصل نہیں تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ نیٹو کے ایک اتحادی پر حملہ سب کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا۔

آرٹیکل فائیو کا تحفظ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کی تنظیم نیٹو کے تمام رکن ممالک اپنی اپنی پارلیمنٹ سے الحاق کی توثیق حاصل کریں۔

تمام رکن ممالک سے توثیق کا حصول ایک طویل عمل ہے جس میں عموماً ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ تاہم سوئیڈن اور فن لینڈ کے معاملے میں اس کارروائی پر نسبتاً تیزی سے عمل ہو رہا ہے اور کینیڈا، جرمنی اور اٹلی سمیت کئی رکن ممالک پہلے ہی اپنی پارلیمان سے اس کی توثیق کرا چکے ہیں۔

ایک سو ارکان پر مشتمل امریکی سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے سینیٹرز کی اکثریت نے بدھ کو توثیق کی پرزور حمایت کرتے ہوئے سوئیڈن اور فن لینڈ کو اہم اتحادی قرار دیا، جن کی فوجیں پہلے ہی نیٹو کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین ڈیموکریٹک سینیٹر باب مینینڈیز نے ووٹنگ سے قبل توثیق کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ” ان دو خوش حال، جمہوری ممالک کی شمولیت نیٹو اتحاد کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔”

سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر نے فن لینڈ اور سوئیڈن کے سفیروں اور دیگر سفارت کاروں کو ووٹنگ کا عمل دیکھنے کے لیے سینیٹ میں مدعو کیا۔

توثیق کی مخالفت میں ووٹ دینے والے واحد سینیٹر ری پبلیکن جوش ہولی تھے جن کا مؤقف تھا کہ اس کی منظوری امریکی خارجہ پالیسی کے مفاد میں نہیں۔

البتہ چک شومر کا کہنا تھا کہ نیٹو کا ووٹ ایک بہت اہم ووٹ ہے ۔ فن لینڈ اور سوئیڈن کی رکنیت نیٹو کو مزید مضبوط کرے گی اور یوکرین میں پوٹن کی غیر اخلاقی اور بلاجواز جنگی جارحیت کے پیش نظر یہ سب سے زیادہ ضروری ہے۔

سینیٹ میں کنٹکی سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رہنما مچ میکونل نے بھی ووٹنگ سے قبل توثیق کی یہ کہتے ہوئے حمایت کی کہ نیٹو میں فن لینڈ اور سوئیڈن کی شمولیت قومی سلامتی کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ لہٰذا دونوں جماعتوں کے سینیٹرز کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔

خیال رہے کہ نیٹوکا قیام لگ بھگ 70 سال قبل عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصدیورپی سلامتی کا دفاع کرنا ہے۔

تصویر کریڈٹ: https://encrypted-tbn0.gstatic.com/images?q=tbn:ANd9GcRufWLTLn5HB1DMk2GqPK5VF2AgyPIL67rj_A&usqp=CAU