امریکی تھیٹر ڈرامہ ’الہ دین‘ میں بھارتی نژاد اداکاروں کے فن کا مظاہرہ

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں پرورش پانے والے بھارتی نژاد اداکار، شوبھا نارائن اور مائیکل مالیا کیل فلم الہ دین کو پسند کرتے ہیں اور ان دونوں اداکاروں کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ ڈزنی کی اس اینی میٹڈ فلم میں دکھائے جانے والے کردار ان سے ملتے جلتے تھے۔

ان دونوں کی اس فلم کی محبت اس مہینے انہیں امریکی تھیٹر کی مشہور گلی، براڈوے میں لے آئی ہے جہاں ایک کمپنی نے عالمی وبا کے بعد پہلی دفعہ ’الہ دین‘ کو تھیٹر کی زینت بنایا ہے۔ اس ڈرامے میں شوبھا نے شہزادی جیسمین اور مائیکل نے الہ دین کا کردار نبھایا ہے۔

امریکی ریاست پنسلوانیا میں پرورش پانے والی شبھا نے ہمارہ ہند کو بتایا کہ جب وہ بڑی ہوئی تو اس نے امریکی میڈیا میں جنوبی ایشیائی اور مشرق وسطی کے لوگوں کو کم ہی دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے میں صرف شہزادی جیسمین ہی سکرین پر نظر آئیں جن کا ان علاقوں سے تعلق تھا۔ بقول شوبھا، وہ ان کی رول ماڈل تھیں جو ذہین، مضبوط، آزاد، خوبصورت اور متجسس بھی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے وہ شہزادی جیسمین کا کردار ادا کرنا چاہتی تھیں۔

مائیکل پہلی بار براڈوے تھیٹر میں جلوہ گر ہوئے ہیں جب کہ شوبھا اس سے پہلے مشہور تھیٹر ڈرامے ہیملٹن میں الیزا ہیملٹن کا کردار ادا کر چکی ہیں۔

مائیکل کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی اپنے ارد گرد لوگوں کو اداکار بنتے نہیں دیکھا تھا، لیکن انہوں نے دیکھا کہ جنوبی ایشیائی افراد میڈیا میں زیادہ دکھائی نہیں دیتے۔ بقول ان کے ایسے میں ان کا کوئی رول ماڈل نہیں تھا۔

لیکن انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ یہ خواب دیکھتے تھے کہ وہ براڈوے میں اداکاری کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس کاروبار میں سب سے بڑا رول ادا کرنے والا ہوں۔ بقول ان کے، ’’یہ بہت عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔‘‘

براڈوے کا الہ دین 1992 میں رابن ولیم کی فلم سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کہانی میں ایک عام شخص کو ایک چراغ ملتا ہے جس میں ایک جن بند ہوتا ہے اور وہ اس کی مدد سے شہزادی کا دل جیتنا چاہتا ہے۔ مگر ساتھ ہی وہ محلاتی سازشوں سے بچ کر اپنے نظریات کا بھی پاس دار رہنا چاہتا ہے۔

اس ڈرامے کی چند پرفارمنسز رواں برس خزاں کے موسم میں براڈوے کے ایک تھیٹر میں پیش کی گئیں۔ لیکن کرونا وائرس کے نئے کیسز آنے کے بعد انہیں دوبارہ روک دیا گیا ہے۔ اداکاروں کا کہنا ہے کہ یہ ڈرامے کے تمام اداکاروں، عملے اور ناظرین کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

Photo Credit : https://api.time.com/wp-content/uploads/2014/03/479853039.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.