امریکی ایوان نمائندگان ٹرمپ کے سابق مشیر کے خلاف توہین کانگریس کا مقدمہ چلانے کے لیے تیار

امریکہ میں ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیرِ خاص اسٹیو بینن کے خلاف کانگریس کی توہین کے الزامات پر کارروائی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

گزشتہ برس کیپٹل ہل پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں​ اسٹیو بینن پر الزام ہے کہ وہ چھ جنوری 2021 کو دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہنگامہ آرائی کی تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

تحقیقات کرنے والی ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی میں اکثریتی ارکان ڈیموکریٹک پارٹی سے ہیں اور یہ کمیٹی اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ٹرمپ کے سیکڑوں حامیوں نے کیپٹل ہل کی عمارت پر ایسے وقت میں دھاوا کیوں اور کیسے بولا تھا جب وہاں قانون ساز صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کے عمل میں مصروف تھے۔

کمیٹی نے بینن کے خلاف توہین کے مرتکب ہونے کی منظوری دی ہے اور اب اسے حتمی منظوری کے لیے ایوانِ نمائندگان بھیج دیا گیا ہے جہاں ممکنہ طور پر جمعرات کو ووٹنگ ہو گی۔

اگر ایوان نمائندگان بھی بینن کو کانگریس کی توہین کا مرتکب قرار دیتا ہے تو اس مسودے کو واشنگٹن میں وفاقی پراسیکیوٹر کو بھیج دیا جائے گا تاکہ وہ بینن کے خلاف ممکنہ فردِ جرم کے لیے اسے گرینڈ جیوری کے سامنے پیش کر سکیں۔

اگر بینن قصور وار پائے گئے تو اس صورت میں انہیں ایک سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ البتہ کانگریس کی توہین کے اس طرح کے الزامات عام طور پر سامنے نہیں آتے اور شاذ و نادر ہی کسی کو جیل بھجوانے کا سبب بنے ہیں۔

واضح رہے کہ بینن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں پہلے سات ماہ کے دوران چیف اسٹریٹجسٹ تھے اور وہ ٹرمپ کے ان گرم جوش حامیوں میں سے ایک تھے جو کھل پر بولتے رہے ہیں۔

سابق صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے آخری دنوں میں وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی میں حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ بائیڈن کی فتح کی سند کو روکنے کے لیے ‘بہادری سے لڑیں’۔

ٹرمپ کے اس بیان کے فوراً بعد ان کے 800 سے زیادہ حامیوں نے کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا تھا جن میں سے کچھ نے عمارت میں توڑ پھوڑ کی اور بعض کو پولیس اہلکاروں کے ساتھ لڑتے جھگڑتے دیکھا گیا۔

کیپٹل ہل پر چڑھائی کرنے والے 600 سے زائد افراد پر مختلف جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس واقعے میں پانچ افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔

ٹرمپ نے بینن اور دیگر سابق معاونین پر زور دیا ہے کہ وہ ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی کی طرف سے بھجوائے گئے سمن کو مسترد کریں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وائٹ ہاؤس کی دستاویزات کے ضمن میں انہیں امریکہ کے سابق صدر کی حیثیت سے استثنیٰ حاصل ہے چاہے انہوں نے 20 جنوری کو اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

ٹرمپ نے پیر کو ایک قانونی دعویٰ بھی دائر کیا ہے جس میں الزام لگایا گیا کہ کمیٹی نے وائٹ ہاؤس میں ان سے متعلق ضرورت سے زائد ریکارڈ کی جو درخواست دی ہے وہ ان کے بقول غیر قانونی اور بے بنیاد ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ کا قانونی استحقاق کا دعویٰ جائز نہیں ہے۔

ترجمان مائیکل گون کے مطابق سابق صدر کے اقدامات جمہوریت کی بقا کے لیے منفرد اور موجودہ خطرے کی نمائندگی کرتے ہیں جن پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی استحقاق کے آئینی تحفظ کو ایسی معلومات پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جو کہ آئین کو ہی مسخ کرنے کی واضح اور ظاہری کوشش کی عکاسی کرتی ہوں۔

واضح رہے کہ کیپٹل ہل پر حملے کی تحقیقات کے لیے سینیٹ میں موجود ری پبلکنز نے 2001 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی طرز پر آزاد کمیشن کی تشکیل کو روک دیا تھا۔

اس کے جواب میں ڈیموکریٹک کنٹرول والے ایوانِ نمائندگان نے نو رکنی تحقیقاتی پینل تشکیل دیا تھا جس میں دو ایسے ری پبلکن قانون ساز بھی شامل ہیں جو ٹرمپ پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

رواں برس جولائی میں ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی نے چار جنوری کو دارالحکومت کے اندر بلوائیوں کا سامنا کرنے والے چار پولیس افسران کے واضح، تفصیلی بیانات سنے لیکن اس کے بعد عوامی سطح پر زیادہ شہادتیں نہیں لی ہیں۔​

Photo Credit : https://localnews8.b-cdn.net/2021/10/hypatia-h_054f0618e8b3a0213543178b79fd2158-h_1d95327d6085931167a545d9faf684c0-300-scaled.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.