امریکی اور ایرانی بحریہ کے درمیان انتباہی فائرنگ کا واقعہ

امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے ایک جنگی بیڑے کو خلیج فارس میں اس وقت انتباہی فائرنگ کرنا پڑی، جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی گشت پر مامور ایک جنگی کشتی اس کے بہت قریب آگئی۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، گزشتہ 4 سال میں ایسی فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

یہ واقعہ خلیج فارس کے شمالی پانیوں میں کویت، ایران، عراق اور سعودی عرب کے قریب پیش آیا۔

امریکی بحریہ نے پیر کی رات پیش آنے والے اس واقعے کی بلیک اینڈ وائٹ فوٹیج جاری کر دی ہے۔ اس فوٹیج میں کچھ فاصلے پر بتیاں جلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں اور ایک گولی چلنے کی آواز بھی سنائی دیتی ہے۔

ایران نے فوری طور پر اس واقعے کی تصدیق نہیں کی۔ امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ سائیکلون کلاس گشتی بیڑا، یو ایس ایس فائر بولٹ سے اس وقت فائر کیا گیا جب 3 کے قریب ایرانی گشتی کشتیاں، یو ایس کوسٹ گارڈ کی گشتی کشتی، یو ایس ایس بارانوف سے 62 میٹر کی دوری پر پہنچ گئیں۔

مشرق وسطیٰ میں تعینات پانچویں بیڑے کی ترجمان کموڈور ربیکا ریبارچ کا کہنا تھا کہ امریکی عملے نے متعدد بار ریڈیو اور لاؤڈ سپیکر سے انتباہ جاری کئے مگر ایرانی کشتیاں قریب آتی گئیں، جس کے بعد فائر بولٹ کو انتباہی فائرنگ کرنا پڑی جس سے ایرانی کشتیاں دور چلی گئیں۔

انہوں نے پاسداران انقلاب سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام بحری جہازوں اور کشتیوں کی حفاظت کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنا کام کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری افواج، چوکنا رہیں گی اور وہ بڑے پیشہ وارانہ انداز میں ردِ عمل ظاہر کریں گی، جبکہ امریکی بحریہ کے کمانڈنگ افسران کے پاس یہ حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کیلئے اقدامات اٹھائیں۔

پچھلی دفعہ جولائی سن 2017 میں امریکی بحریہ نے خلیج فارس میں انتباہی فائرنگ کی تھی جب، ایران کے پاسداران انقلاب کی ایک کشتی، امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس تھنڈر بولٹ کے بہت قریب آ گئی تھیں۔

گزشتہ سال جاری ہونے والے ضوابط کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جب بھی کوئی جنگی بیڑا 100 میٹر کے فاصلے پر آئے، تو امریکی بحریہ کے کمانڈروں کے پاس قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دفاعی اقدامات اٹھانے کا اختیار موجود ہے۔

ہو سکتا ہے کہ 100 میٹر لوگوں کو بہت دور لگتے ہوں، لیکن طیارہ بردار جنگی بیڑوں جیسے بڑے جنگی جہازوں کیلئے یہ بہت ہی قریب ہے، کیونکہ انہیں فوری طور پر مڑنے میں دقت پیش آتی ہے، جبکہ قریب آنے پر سمندر میں چھوٹے جہاز بھی آپس میں ٹکرا سکتے ہیں۔

امریکی بحریہ نے صرف اس مہینے میں دوسری دفعہ پاسدارانِ انقلاب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غیر محفوظ اور غیر پیشہ وارانہ طرز عمل اختیار کیا، گو کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کی بحریہ کے درمیان ایسے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔

امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ سن 2017 میں ایرانی بحریہ نے 14 مرتبہ غیر ذمہ دارانہ اور غیر محفوظ طرز عمل اختیار کیا تھا۔ سن 2016 میں ایسے واقعات 35 مرتبہ اور سن 2015 میں 23 بار ایسی مُدبھیڑ ہوئی تھی۔

ہمارا ہند کے مطابق انقلابی گارڈز اکثر ایسے واقعات میں سمندر میں ہوتے ہیں۔ عام طور پر مشین گنوں اور راکٹ لانچروں سے لیس اس کے اسپیڈ بوٹ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز کے قریب آتے ہیں۔ دنیا کا تقریبا 20 20 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت رونما ہوا ہے جب سن 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی پاسداری اور احترام کیلئے ویانا میں ایران اور عالمی قوتوں کے درمیاں مذاکرات ہو رہے ہیں۔

Photo Credit : https://www.al-monitor.com/sites/default/files/styles/article_header/public/2021-04/GettyImages-1228451011.jpg?h=a5ae579a&itok=Hm_ObjuK

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: