امریکی آئین کا پہلا شائع شدہ نایاب مسودہ چار کروڑ 32 لاکھ ڈالر میں نیلام


امریکی آئین کی اولین شائع شدہ 13 نقول میں سے ایک نیویارک کے ایک معروف نیلام گھر سوتھبیز میں چار کروڑ 32 لاکھ ڈالر میں فروخت ہو گئی ہے۔ یہ کسی بھی دستاویز کی فروخت کا نیا عالمی ریکارڈ ہے۔

اس نیلامی میں امریکی آئین کے جس تاریخی مسودے کو پیش کیا گیا تھا، اس کی ابتداً صرف 13 کاپیاں سرکاری مقاصد کے لیے چھاپی گئی تھیں۔ ان میں سے صرف دو نقول عام افراد کے پاس تھیں۔ نیلام کیا جانے والا مسودہ ان دو میں سے ایک ہے۔

سوتھبیز آرٹ، قلمی مسودات اور نادر اشیا کو نیلام کرنے والا ایک قدیم اور بین الاقوامی نیلام گھر ہے۔ یہ 1744 میں لندن میں قائم ہوا تھا۔ اب اس کا صدر دفتر نیویارک میں ہے جب کہ دنیا کے 40 ملکوں میں اس کی 80 سے زیادہ شاخیں ہیں۔

جمعرات کی رات کی نیلامی جیتنے والے خریدار نے اپنا نام پوشیدہ رکھا ہے جب کہ اس نیلامی میں ہزاروں افراد پر مشتمل ایک گروپ نے بھی چندہ جمع کر کے حصہ لیا لیکن وہ اسے خریدنے میں ناکام رہے۔

اس گروپ میں کرپٹو کرنسی میں دلچسپی رکھنے والے دنیا بھر سے 17 ہزار افراد شامل تھے، جو کسی نیلامی میں حصہ لینے والا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا گروپ تھا۔

آئین کے مسودے کی اسی نقل کو پہلی بار 1988 میں فروخت کیا گیا تھا اور اسے عمارتیں تعمیر کرنے والے ایک شخص ایس ہاورڈ گولڈ مین نے نیلامی میں ایک لاکھ 65 ہزار ڈالر میں خریدا تھا۔ اسے نوادرات جمع کرنے کا بھی شوق تھا۔

جمعرات کو ہونے والی اس نیلامی کا فائدہ گولڈمین کی بیوہ ڈورتھی ٹیپر گولڈ مین کے قائم کردہ ایک ادارے کو ہو گا۔ یہ ادارہ امریکی آئین کے اصولوں کی تفہیم کے لیے کام کرتا ہے۔

نیلام گھر سوتھبیز کے کتابوں اور مخطوطات امور کے بین الاقوامی ماہر سیلبی کیفر نے اس موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ “آج رات اس غیر معمولی، نادر اور اہم شائع شدہ آئینی دستاویز کی نیلامی ایک یادگار اور تاریخی واقعہ ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیلامی کا نتیجہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی آئین نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر کی جمہوریتوں کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

بولی میں کانسٹی ٹیوشن ڈی اے او نامی ایک گروپ ناکام رہا، جس نے 12 نومبر کو اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وہ آئین کے اس تاریخی مسودے کو خریدنے کے لیے لاکھوں ڈالر کا فند اکھٹا کرے گا۔ ڈی اے او سے مراد غیر مرکزی خودمختار تنظم ہے۔ یہ ایک طرح کا کمیونٹی کے تحت چلایا جانے والا کاروبار ہے جو کرپٹو کرنسی کے طریقہ کار کے مطابق کام کرتا ہے۔

کانسٹی ٹیوشن ڈی اے او نے جمعرات کی رات کو اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ “ہم نے دنیا کو یہ دکھایا ہے کہ اس عمل میں کرپٹوکرنسی اور ویب تھری کے ہزاروں لوگ شریک ہیں، جن میں عجائب گھروں کے کیوریٹرز اور آرٹ ڈائریکٹر بھی شامل ہیں جو اسے سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں”۔

گروپ کا مزید کہنا تھا کہ یہ کسی ڈی اے او گروپ کا سوتھبیز پر کام کرنے کا پہلا موقع ہے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ اس طرح کے پلیٹ فارمز پر ہم آخری نہیں ہوں گے۔

اس سے پہلے کسی کتاب یا مخطوطے کی نیلامی کا ریکارڈ 1994 میں اس وقت قائم ہوا تھا جب بل گیٹس نے کرسٹی کے نیلام گھر کی نیلامی میں لیونارڈو ڈا وینسی کی “کوڈیس لاسٹر” تین کروڑ 8 لاکھ ڈالر میں خریدی تھی۔

کوڈیس لاسٹر کو کوڈیس ہیمر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ 72 صفحات پر مشتمل سائنسی معلومات پر مبنی ہاتھ سے تحریر کردہ ایک قدیم کتابچہ ہے۔ لیونارڈ 15 ویں صدی کا ایک اطالوی سائنس دان، انجنیئر، مصور اور مجمسہ ساز تھا۔

Photo Credit : https://content.fortune.com/wp-content/uploads/2021/11/GettyImages-1340911374.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.