امریکہ: یوم آزادی پریڈ پر فائرنگ، 6 افراد ہلاک, 30 سے زیادہ زخمی

خبریں

امریکی شہر شکاگو کے مضافاتی علاقے ہائی لینڈ پارک میں چار جولائی کو یوم آزادی کی پریڈ دیکھنے کے لیے آنے والوں پر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اورکم سے کم 30 زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس نے ایک بائیس سالہ نوجوان کو ’پرسن آف انٹرسٹ‘ قرار دیتے ہوئے حراست میں لے لیا ہے۔ حملہ آور نے اس پریڈ پر ممکنہ طور پر قریبی عمارت کی چھت سے فائرنگ کی تھی۔

ہائی لینڈ پارک پولیس کے کمانڈر کرس او نیل نے، جو تحقیقاتی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں، لوگوں پر زور دیا کہ وہ محفوظ جگہ پر منتقل ہو جائیں جبکہ پولیس مشتبہ شخص کو تلاش کر رہی ہے۔ حملہ آور کو ایک سفید فام شخص کے طور پر بیان کیا گیا جس نے سفید یا نیلے رنگ کی ٹی شرٹ پہن رکھی ہے۔ کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد پولیس نے بائیس سالہ رابرٹ ای کریمو سوئم کو حراست میں لے لیا۔ اسے فوری طور پر مشتبہ قرار نہیں دیا گیا مگر اسے ایک ایسا شخص قرار دیا گیا ہے جس پر پولیس توجہ دینا چاہتی ہے۔

لیک کاونٹی جس میں ہائی لینٖڈ پارک شامل ہے،اس کے انسداد جرائم کے ادارے کے ترجمان کرسٹوفر کوویلی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ بندوق بردار شخص نے بظاہر پریڈ دیکھنے کے لیے جانے والے افراد پر فائرنگ کی اور اس حملے کے لیے ایک رائفل کا استعمال کیا جو جائے واردات سے برآمد کر لی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کس عمارت سے فائرنگ کی گئی۔

ترجمان کے مطابق، صرف ایک ہی حملہ آور تھا۔ ترجمان اور پولیس کمانڈر نے اس فائرنگ کو اندھا دھند قرار دیا۔

پولیس نے حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

شہر کی میئر نینسی روٹرنگ نے ایک نیوز کانفرنس میں فائرنگ کی زد میں آنے والے افراد اور ان کے خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے دن جب ہم اپنی آزادی کا جشن منانے اکٹھے ہوئے تھے، ہم قیمتی جانوں کے ضیاع کا سوگ منا رہے ہیں اور اس دہشت سے نمٹ رہے ہیں جو ہم پر نازل ہو گئی ہے۔

فائرنگ کے بعد پریڈ کی طرف جانے والے متعدد افراد جو بظاہر زخمی ہو گئے تھے اور جن کا خون بہہ رہا تھا، اپنا سامان چھوڑ کر بھاگتے ہوئے نظر آئے۔

پولیس کی مسلح گاڑیاں علاقے میں پہنچ گئی ہیں۔

ہائی لینڈ پارک کی پولیس نے ابتداً ایک بیان میں کہا تھا کہ پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 19 افراد کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ لیکن اس کانفرنس کے بعد یہ تعداد بڑھ گئی۔

’سن ٹائمز‘ کے ایک صحافی نے جو وڈیو جاری کی اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب فائرنگ ہوئی تو ایک بینڈ نے اپنی پرفامنس جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ لوگ موقع سےبھاگ رہے تھے اور چیخ و پکار کر رہے تھے۔

تصویر کریڈٹ : https://preview.redd.it/80jhluun61z11.jpg?auto=webp&s=465c25ddcdc609969638c8b17f39b77ecc36da75