امریکہ کی کئی ریاستوں میں کئی عہدوں کے لیے ووٹنگ: ووٹروں کے لیے کون سے مسائل اہم ہیں؟

امریکہ میں ریاستی سطح پر ہونے والے انتخابات کس قدر اہمیت رکھتے ہیں یہ آپ ان امریکیوں سے پوچھ سکتے ہیں، جو اپنے خاندانوں کو پالتے ہیں، جن کے بچے ہیں، کم آمدنی میں زندگی بسر کر رہے ہیں یا صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔

کچھ دن پہلے اپنے پڑوسی سے بات کرتے ہوئے مجھے پتا چلا کہ ورجینیا کے گورنر کے انتخابات میں کھڑے ہونے والے ایک امیدوار نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر گورنر بن جائیں گے تو وہ گراسری سیلز ٹیکس ختم کر دیں گے۔ میرے پڑوسی کوریائی امریکی ہیں اور امریکہ میں رہتے ہوئے کھانے پینے کی اشیا پر سیلز ٹیکس کے خاتمے کا مطلب خاصا اہمیت رکھتا ہے۔

امریکہ میں منگل کے روز ریاست ورجینیا اور نیو جرسی سمیت کئی ریاستوں میں گورنر، اٹارنی جنرل، ہاؤس آف ڈیلیگیٹس کے ارکان کی نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے۔ اگرچہ اس دن سرکاری چھٹی نہیں تھی۔ لیکن سکولوں کی چھٹی تھی، کیونکہ اساتذہ سکولوں میں منعقد ہونے والے الیکشنز میں مصروف تھے جب کہ عام امریکی اپنے اپنے کاموں پر تھے۔ وائس آف امریکہ کا عملہ بھی اگرچہ اپنے کام میں مصروف تھا، لیکن زیادہ تر ساتھی ووٹ ڈالنے کے لئے گئے۔

یہ انتخابات پرسکون ہوتے ہیں۔ انتخابی مہم میں عام طور پر اتنی گرم جوشی دکھائی نہیں دیتی، جیسا کہ عام انتخابات میں دیکھنے میں آتی ہے۔ لیکن یہ عام امریکی کے لئے بہت معنی رکھتے ہیں، کیونکہ اس الیکشن میں سامنے لائے جانے والے ایشوز انہیں روزمرہ زندگی میں متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے یہ دن قریب آتے ہی ہر محفل میں امیدواروں کے ایجنڈے اور شہریوں کو درپیش مسائل زیر بحث آتے ہیں۔

میں بھی ریاست ورجینیا کے شہر فیئرفیکس سٹیشن کے مقامی سکول میں ووٹ ڈالنے پہنچی۔ بارش تھی، لیکن امیدواروں کے مہم کے نمائندے جا بجا ہاتھوں میں پرچے لئے کھڑے دکھائی دئے۔ لوگ اکا دکا تعداد میں آ جا رہے تھے۔ زیادہ رش دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ شاہد اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ صرف ورجینیا ریاست میں گیارہ لاکھ لوگ قبل از انتخاب اپنا ووٹ ڈال چکے تھے۔

ووٹ ڈالنے آنے والے کچھ لوگوں سے بات ہوئی جیسا کہ یہ انتخاب ان کے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے۔ ایک خاتون نے بتایا کہ “یہ ووٹ ڈالنے کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنے بچوں کی اور اپنے خاندان کی پروا ہے”۔ میں نے پوچھا اس کا مطلب کیا ہے؟ تو خاتون نے کہا کہ”آپ اپنے علاقے اور ریاست میں تعلیم، صحت، معشیت میں کیا بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔ آج آپ کو اس کا فیصلہ کرنا ہے اور بہترین کا انتخاب کرنا ہے”۔

ووٹنگ والے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے باہر دروازے پر آپ کی مدد کے لیے دو یا تین لوگ مختلف مقامات پر کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے سب سے پہلے کس کاونٹر پر جانا ہے اور کیا دستاویز دکھانے ہیں۔ مجھے یہاں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح مجھے کوویڈ کے ایس او پیز پر عمل کرنا ہے۔ انتخابی عمل میں خدمات انجام دینے والے ان افراد کا تعلق کسی پارٹی سے نہیں ہوتا۔

کمرے کے اندر گئی تو پہلے کاونٹر پر موجود خاتون نے مجھ سے آئی ڈی کارڈ مانگا۔ نام اور گھر کے پتے کی تصدیق کے بعد انہوں نے مجھے اگلے کاونٹر پر بھیجا جہاں مجھے ایک فارم دیا گیا اور بتایا گیا کہ مجھے کس طرح یہ فارم بھرنا ہے۔ اس کے بعد مجھے ایک الگ کیبن نما سیٹ میں بٹھا گیا اور کہا گیا کہ آپ یہاں کسی سے بات چیت کئے بغیر اور کسی کو دکھائے بغیر اپنا فارم بھریں۔

کوویڈ کی وجہ سے ہر ووٹر کو اپنا اپنا پن دیا جا رہا تھا۔ فارم بھرنے کے بعد اگلے کاونٹر پر جانا تھا۔ جہاں اسے ایک الیکڑانک مشین میں ڈالنا تھا۔ وہاں بھی میری رہنمائی کے لئے ایک فرد موجود تھا۔ ووٹنگ فارم مشین میں ڈالنے کے بعد شکریہ کا ایک پیغام آیا اور مجھ سے کہا گیا کہ اب آپ باہر جا سکتی ہیں۔ انتہائی منظم طریقہ سے چند ہی منٹوں کے اندر میں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

باہر نکلی تو الیکشن عملے کے ایک رکن نے ایک سٹیکر پیش کیا جس پر لکھا تھا ‘I voted’۔

ووٹ دے کر واپس آئی تو پڑوسی کو بتایا۔ اس نے ایک اور موضوع چھیڑا اور وہ ہے۔ سکول لنچ کا فری ہونا۔

میں نے محسوس کیا اور دیکھا کہ روزگار، تعلیم اور اسقاط حمل جیسے بڑے ایشوز تو اہم ہیں لیکن دیگر مسائل شاید انہیں ہم چھوٹا سمجھتے ہوں جیسا کہ سکولوں میں کم آمدنی والے والدین کے بچوں سمیت دیگر بچوں کو بھی مفت کھانا فراہم کرنے کو ضروری بنانا بھی یہاں امریکیوں کے لئے کتنا اہمیت رکھتا ہے۔ اور اس کے لئے وہ کتنی تگ و دو کر رہے ہیں۔

امریکی ریاست ورجینیا میں سابق ڈیموکریٹک گورنر ٹیری میک اولف اور ریپبلکن پارٹی کے پہلی بار امیدوار گلین یونگ کن کے درمیان گورنر کے لیے سخت مقابلے میں ووٹ ڈالنے کا آج آخری دن تھا۔ اس سال کی دوڑ سے متعلق ملک بھر کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات اگلے سال وسط مدتی انتخابات میں دونوں جماعتوں کی پوزیشن کا خاکہ پیش کریں گے کہ آگے کی جیت ہار کی سمت کیا ہو گی۔

انتخابی مہم کے ابتدائی مہینوں میں کوویڈ وبا کا غلبہ رہا۔ ووٹرز کے لئے اس وقت اسقاط حمل، تعلیم، صحت، روزگار اور ٹیکس اہم مسائل ہیں۔ امیدوار گلن یونگ کن نے اسکولوں کی بندش اور ماسک مینڈیٹ کے ساتھ ساتھ نصاب میں سفید فام مخالف تعصب کے خاتمے کا وعدہ کیا ہے۔

سابق گورنر ٹیری میک اولف کا کہنا ہے کہ تعلیم کے میدان میں سرمایہ کاری کریں گے۔ اساتذہ کی اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والوں کی تنخواہیں بڑھائیں گے، اور روزگار کے مزید مواقع پیدا کریں گے۔

Photo Credit : https://images.theconversation.com/files/365545/original/file-20201026-15-u1nr8v.jpg?ixlib=rb-1.1.0&q=45&auto=format&w=1200&h=1200.0&fit=crop

Leave a Reply

Your email address will not be published.