امریکہ کی افغانستان میں داعش کے حملوں اور القاعدہ کی موجودگی پر گہری تشویش

افغانستان کی صورت حال پر بات چیت کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان، سفیر تھامس ویسٹ نے پیر کے روز سے اپنے دورہ یورپ اور ایشیا کا آغاز کر دیا ہے جہاں افغانستان میں دو کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو، جن میں بچے بھی شامل ہیں، فاقہ کشی کا سامنا ہے۔

دورے کے آغاز پر ایک ٹوئیٹ میں، تھامس ویسٹ نے کہا کہ ”میں امریکہ کے اہم مفادات اور افغان عوام کی حمایت کو آگے بڑھانے کا خواہشمند ہوں”۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ”مؤثر نتائج کے حصول کے لیے لازم ہے کہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر اقدامات اٹھائے جائیں”۔

امریکہ نے کہا ہے کہ اسے افغانستان میں داعش خراساں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور القاعدہ کی ملک میں موجودگی پر گہری تشویش ہے۔ یہ بات امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نے منگل کے روز برسلز میں کہی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویسٹ نے عسکری اتحاد نیٹو کے رکن ممالک کو امریکہ کی طالبان سے بات چیت کے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے نیٹو اتحادیوں سے افغانستان سے امریکی انخلا اور عسکری گروپ طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان میں استحکام قائم کرنے پر مشاورت کی۔

نامہ نگاروں سے برسلز سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ویسٹ نے کہا کہ واشنگٹن افغان طالبان کے ساتھ اگلے مرحلے کی دوحہ میں ہونے والی انٹر ایجنسی ملاقات کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم، ٹام ویسٹ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ رابطہ کب ہو گا۔

اپنے دورے کے دوران ویسٹ یورپ سے پاکستان، بھارت اور روس بھی جائیں گے۔ یاد رہے کہ سردیوں کے آغاز پر اس وقت جنگ کے بعد افغانستان کو انسانی بحران کا سامنا ہے۔ اس وقت دسیوں لاکھوں لوگ بھوک، اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے، قحط، مالی مسائل اور بگڑتی ہوئی اقتصادی صورت حال سے دو چار ہیں۔

اسی دوران طالبان کو اپنے نظریاتی حریف داعش خراساں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔

اس صورت حال کے بارے میں نمائندہ خصوصی نے کہا کہ امریکہ کو “داعش خراساں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر پرپیشانی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ طالبان اس (داعش) کا کامیابی سے مقابلہ کرے۔ اور جہاں تک دوسرے عسکری گروپوں کا تعلق ہے تو القاعدہ وہاں (افغانستان) میں بدستور موجود ہے اور ہمیں اس بارے میں بہت تشویش ہے۔ انہوں نےکہا کہ طالبان کے ساتھ ڈائیلاگ میں القاعدہ کی موجودگی ایک مسلسل مسئلہ ہے۔

خیال رہے کہ امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ داعش خراساں افغانستان سے باہر حملے کرنے کی صلاحیت چھ ماہ سے ایک سال کے عرصہ میں حاصل کر سکتی ہے، جبکہ القاعدہ بھی ایک دو سال میں ایسا کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ عطیہ دہندگان کی جانب سے مزید رقوم میسر نہیں آ جاتیں تو اس موسم سرما کے دوران افغانستان کی اندازاً چار کروڑ آبادی فاقہ کشی سے دوچار ہو جائے گی۔ پیر ہی کے روز ایک بیان میں عالمی ادارہ خوراک نے کہا ہے کہ افغان بحران کی صورت حال درپیش ہے، ایسے میں ایندھن کے نرخ میں اضافہ ہو چکا ہے، خوراک کی قیمیں بڑھ چکی ہیں، جب کہ کھاد کی قیمتیں مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔

اگست میں امریکی زیرقیادت غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا اور اسلام پسند طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد ملک معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے، جب کہ افغان عوام کی انسانی بنیادوں پر امداد کی ضروریات بڑھتی جا رہی ہیں، جس کی وجہ کئی برسوں تک جاری لڑائی اور طویل اور وسیع تر علاقے پر قحط سالی کی صورت حال ہے۔

طالبان حکومت کو جائز تسلیم نہ کیے جانے کے نتیجے میں افغانستان کو ملنے والی کئی ارب ڈالر کی سالانہ غیر ملکی اعانت منسوخ کردی گئی ہے جب کہ طالبان کی تقریباً 10 ارب ڈالر کے افغانستان کے اثاثوں تک رسائی بھی روک دی گئی ہے۔ زیادہ تر اثاثے امریکی وفاقی ریزرو بینک میں پڑے ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں طالبان کے لیے تنخواہیں دینا اور ضروری اشیا درآمد کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے لیے افغانستان میں مشکل ہی سے کوئی راستہ باقی رہ گیا ہے؛ یا تو وہ طالبان کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کریں اور ایک اعتبار سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملے پر اس کا ساتھ دیں یا پھر دور بیٹھے بحران کر بد سے بدتر ہوتا اور 20 سال کے ترقیاتی کام کومٹی میں ملتا دیکھیں۔

قومی سلامتی کے امریکی مشیر، جیک سلیوان نے اتوار کے دن ایک انٹرویو میں سی این این کو بتایا کہ امریکہ افغانستان کو بنیادی انسانی ہمدری کی بناد پر سب سے بڑی امداد دینے والا ملک ہے؛ صرف اسی سال امریکہ نے أفغانستان کو تقریباً نصف ارب ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔

مشیر نے امدادی تنظیموں پر انحصار کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ ابھی تک افغانستان میں طالبان قیادت کے ذریعے براہ راست رقوم فراہم کر رہی ہے۔

سلیوان نے کہا کہ ”ہمارے خیال میں بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ افغانستان کے عوام کی مدد کی جائے، اور ایسے اسباب سے بچا جائے جن میں یہ رقوم امریکہ کے قومی سلامتی کے مفاد کے لیے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنیں”۔

انھوں نے مزید کہا کہ جب تک جامع حکومت تشکیل اور دیگر پہلووں پر جن پر ہم طالبان کے ساتھ بات جاری رکھے ہوئے ہیں، ان میں قابل ذکر بہتری نہیں آتی، ہمارا دھیان اس بات پر ہی موکوز رہے گا کہ ہم اور بین الاقوامی برادری کروڑوں ڈالر کی امداد صرف اس سال دیں اور یہ امدادی رقوم بین الاقوامی تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے فراہم کی جائیں۔”

اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی غرض سے اتوار کے روز طالبان نے 43 صوبائی گورنر اور پولیس سربراہ مقرر کیے ہیں۔

واشنگٹن میں قائم ادارے ‘پولیٹیکٹ’ تحقیقی ادارے کے اعلیٰ ترین تجزیہ نگار عارف انصار کہتے ہیں کہ داعش کو مضبوط ہونے سے روکنا ایک ایسا نقطہ ہے جس پر امریکہ اور طالبان ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ “لیکن ساتھ ہی امریکہ یہ بھی دیکھنا چاہتا ہے کہ طالبان حکومت میں تمام افغان گروپوں کی شمولیت، تعلیم اور خواتین کے حقوق جیسے اہم مسائیل پر کیا پالیسی اپناتے ہیں۔”

انصار کا کہنا تھا کہ داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کی صلاحیتوں کو بڑھانے سے روکنا امریکہ کی انسداد دہشت گردی کا اہم جُزو ہے۔ اور اب افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کچھ چیلنجز کا بھی سامنا ہے، کیونکہ اس کے پاس اس وقت خطے میں کوئی ایئر بیس نہیں جہاں سے وہ تیز رفتاری سے دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کرسکے۔ امریکہ کو اس وقت انسداد دہشت گردی میں تعاون کی بھی ضرورت ہے۔

تاہم، بقول ان کے، فوری طور پر امریکہ اور بین الااقوامی برادری کو افغانستان میں انسانی بحرانی کیفیت سے نمٹنا ہے۔ عارف انصار کہتے ہیں کہ تاریخی تناظر کو سامنے رکھتے ہیں یہ بات اہم ہے کہ افغانستان میں بحرانی کیفیت بگڑنے سے دہشت گرد تنظیمیں صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہیں، تاکہ انہیں محفوظ پناہ گاہیں مل جائیں۔

وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کے لیے اس مسئلہ سے نمٹنا آسان نہیں کیونکہ اسے طالبان کی پالیسیوں کو بھی جانچنا ہے اور دہشت گرد گروپوں کو بھی روکنا ہے۔ اس ساری صورت حال کی پیچیدگی کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ ان تمام مسائل پر پیش رفت دیکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف افغانستان میں انسانی بحران بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

Photo Credit : https://vid.alarabiya.net/images/2021/10/08/4eccc892-e68a-4588-a584-9382851ecf0f/4eccc892-e68a-4588-a584-9382851ecf0f_16x9_1200x676.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.