امریکہ کا میانمار کے فوجی لیڈروں پر پابندیاں  لگانے کا اعلان

امریکہ کا میانمار کے فوجی لیڈروں پر پابندیاں لگانے کا اعلان

صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ میانمار کے فوجی انقلاب کے لیڈروں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میانمار کی فوج نومبر کے انتخابات میں عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اقتدار سے الگ ہو جائے۔

صدر بائیڈن نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی حکومت، میانمار کے فوجی جنرلز کی برمی حکومت کے ایک ارب ڈالر کے فنڈز تک غیر مناسب طریقے سے رسائی روکنے کے لئے اقدام کر رہی ہے۔

انہوں نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر کی منظوری بھی دے دی ہے جو امریکہ کی جانب سے ان فوجی لیڈرز پر، جنہوں نے فوجی انقلاب منظم کیا تھا، ان کے کاروباری مفادات اور ان کے قریبی رشتے داروں پر فوری طور پر پابندیاں عائد کر دے گا۔

صدر نے کہا کہ اس ہفتے اہداف کے پہلے سلسلے کی نشاندہی کر دی جائے گی اور یہ کہ ہم ان امریکی اثاثوں کو منجمد کر کے، جن سے میانمار کی حکومت کو فائدہ پہنچتا ہے، برآمدات پر سخت کنٹرول بھی نافذکریں گے۔ جب کہ صحت کی دیکھ بھال، سول سوسائٹی کے گروپس اور ان دوسرے شعبوں میں اپنی مدد برقرار رکھیں گے جن سے برما کے لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔

دوسری جانب میانمار میں فوجی حکومت کی جانب سے سخت پکڑ دھکڑ کے باوجود مظاہرے جاری ہیں۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے کے خلاف برما کے عوام کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنے جمہوری حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف تشدد ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ برما کے عوام کی آواز سنی جا رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صدر بائیڈن کے اس بیان کے بعد محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے مزید امکانی اقدامات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ برما کے فوجی رہنماؤں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اپنے جمہوری حقوق کے لیے پرامن جدو جہد کرنے والوں کے خلاف تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ اور دوسری تنظیموں نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کی اہم عالمی تنظیموں نے اپنی ان اپیلوں کو ایک بار پھر دوہرایا ہے کہ میانمار میں فوج سے منسلک کاروباروں کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کو ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ جرنیلوں اور ان کے مفادات کو ہدف بنانے والی پابندیاں عائد کریں۔

ہمارا ہند کے مطابق ، امریکی تھنک ٹینک CSIS کے تجزیہ کار ، پولنگ نے اس خدشے کا حوالہ دیا ہے کہ میانمار کے فوجی رہنماؤں پر سخت پابندیاں انھیں چین کے قریب کردیں گی ، جس کی ملک کی معیشت میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ برمی فوج بیجنگ سے پیار نہیں کر رہی ہے اور یہ کہ جرنیل وہ کر رہے ہیں جو انہیں اپنے اور برما میں اپنے مشن کے لئے بہتر سمجھے۔

فوج جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کا یہ جواز پیش کرتی ہے کہ نومبر کے انتخابات میں، جس میں آنگ سان سوچی کی جماعت این ایل ڈی نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی، بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی تھی۔

Photo Credit : https://s.yimg.com/uu/api/res/1.2/mIpINE4NToApjWmZ4p4FXw–~B/aD0xMzMzO3c9MjAwMDthcHBpZD15dGFjaHlvbg–/https://media.zenfs.com/en/bloomberg_markets_842/c3d70884316062bd819cd833be8c84b9

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: