امریکہ کا سعودی عرب اور میانمار کے خلاف اپنے اقدامات کا دفاع


سعودی عرب کے ولی عہد کے امریکی صحافی جمال خشوگی کے قتل میں ملوث ہونے کے حوالےسے امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد، وائٹ ہاؤس، سعودی عرب سے متعلق اپنے پالیسی کا دفاع کر رہا ہے۔

جمعہ کے روز جاری ہونے والی غیر مخفی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے، ممکنہ طور پر سن 2018 میں ترکی میں سعودی کونسل خانے میں خشوگی کے قتل یا گرفتاری کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

رپورٹ سامنے آنے کے بعد مبصرین کی جانب سے توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ سعودی بادشاہت کو قتل پر جوابدہ ٹھہرانے کے حوالے سے بائیڈن انتظامیہ پر دباؤ میں اضافہ ہو گا۔ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ میں ہونے والے اس قتل کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی تھی۔

پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں منعقدہ بریفنگ کے دوران، وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے قتل کے جرم کو لرزہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ان افراد کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے جو اس کارروائی میں براہ راست ملوث تھے۔

جین ساکی کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کسی بھی قسم کا قدم کسی بھی وقت اور طریقے سے اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ تاریخی اعتبار سے امریکہ نے کبھی اُن ممالک کے لیڈروں کے خلاف پابندیاں عائد نہیں کیں، جن کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات ہیں۔

ساکی نے کہا کہ انتظامیہ کا مقصد، تعلقات از سر نو تعین کرنا ہے، تا کہ ایسے کسی واقعہ کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جائے، اور وہ راہیں تلاش کی جائیں، جو کہ موجود ہیں، جن پر چل کر سعودی قیادت کیساتھ مل کر کام کیا جاسکے، اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا جائےکہ کچھ اقدام ناقابل قبول ہیں۔

اس سے قبل، سعودی صحافی جمال خشوگی کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے پیر کے روز اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ سعودی ولی عہد کو اس قتل کا حکم دینے پر “کسی تاخیر کے بغیر سزا دی جائے” ۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ اگر سعودی ولی عہد کو سزا نہ دی گئی تو “یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ اصل مجرم قتل کے جرم سے بھی بچ سکتا ہے، جو سب کے لئے خطرے کا باعث اور انسانیت کے لئے کسی داغ جیسا ہے”۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے میانمار سے متعلق امریکہ کی پالیسی کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ایسے مزید اقدامات کی تیاری کر رہی ہے،جو اُن افراد پر لاگو ہونگے جو تشدد اور حالیہ بغاوت کے ذمہ دار ہیں۔

پیر کے روز، میانمار کے سب سے بڑے شہر میں، لوگ فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کیلئےسڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس نے اِنہیں منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ایک روز پہلے، یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 18 افراد ہلاک ہو گئے۔

Photo Credit : https://s.yimg.com/ny/api/res/1.2/avk27tSz55Kux1KPaaRQVw–/YXBwaWQ9aGlnaGxhbmRlcjt3PTk2MDtoPTY0MA–/https://s.yimg.com/uu/api/res/1.2/uoqTLdlB9v7vTkNpYjPXcw–~B/aD0xMDAwO3c9MTUwMDthcHBpZD15dGFjaHlvbg–/https://media.zenfs.com/en/people_218/130d5dd244ec2e330fc477757ba1e729

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: