امریکہ نے اپنے بحری فوجی جہاز کو جنوبی بحیرہ چین کے متنازع جزائر سے ہٹانے کا دعوی مسترد کر دیا

امریکہ نے اپنے بحری فوجی جہاز کو جنوبی بحیرہ چین کے متنازع جزائر سے ہٹانے کا دعوی مسترد کر دیا


امریکہ نے جمعرات کو چین کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کی فوج نے ایک امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر ’’یو ایس ایس میلئس‘‘ کو بحیرہ جنوبی چین میں متنازع جزائر کے ارد گرد کام کرنے سے ہٹا دیا تھا کیونکہ دونوں طاقتوں کے درمیان خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

امریکی بحریہ کے 7ویں فلیٹ نے کہا کہ چین کی سدرن تھیٹر کمانڈ کا یہ بیان غلط ہے کہ اس نے یو ایس ایس ملیس کو پیراسل جزائر کے آس پاس سمندر سے دورہونے پر مجبور کیا تھا – چین پیراسل جزائر کو ژیشا کہا جاتا ہے۔

لیفٹیننٹ جے جی لوکا باکک نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ’’یو ایس ایس میلئس جنوبی بحیرہ چین میں معمول کی کارروائیاں کر رہا ہے اور اسے وہاں سے بے دخل نہیں کیا گیا۔‘‘

باکک نے مزید کہا کہ ’’امریکہ بین الاقوامی قانون کی اجازت کے مطابق ہر جگہ سے پرواز، بحری جہازوں کی آمدورفت اوراپنا کام جاری رکھے گا‘‘۔

باکک نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا یہ جہاز پیراسل کے قریب ہی کام کر رہا تھا یا کسی قسم کا تصادم ہوا ہے۔پیراسل جزائر ویتنام اور چینی صوبے ہینان کے ساحل سے چند سو کلومیٹرکے فاصلے پر بحیرہ جنوبی چین میں واقع ہیں۔

پیراسل جزائر پر چین کا قبضہ ہے لیکن ان پر تائیوان اور ویتنام بھی دعویٰ کرتے ہیں ۔

چین کی سدرن تھیٹر کمانڈ کے ترجمان کرنل تیان جون لی نے اس سےپہلے یہ کہا تھا کہ چینی بحریہ نے یو ایس ایس ملیئس کا اس وقت پیچھا کیا تھا اوراس کی نگرانی کی تھی جب اس نے ’’چینی حکومت کی منظوری کے بغیر چین کے ژیشا علاقائی پانیوں میں غیر قانونی طور پر داخل ہو کر جنوبی چین میں امن و استحکام کو نقصان پہنچایا تھا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ چینی بحریہ اور فضائیہ نے اس کے بعد ’’قانون کے مطابق امریکی جنگی جہاز کو زبردستی ہٹا دیا۔ ‘‘

انہوں نے کہا کہ’’ تھیٹر کے دستے ہروقت ہائی الرٹ کی حالت کو برقرار رکھیں گے اور بحیرہ جنوبی چین میں قومی خودمختاری اورسلامتی کے ساتھ ساتھ امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے‘‘۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا جب خطے میں چین اور امریکہ کے درمیان تناؤ بڑھا ہے ۔ واشنگٹن جنوبی بحیرہ چین اور دیگر جگہوں پر بیجنگ کے بڑھتے ہوئے جارحانہ انداز کا مقابلہ کر رہا ہے ۔

چین عملی طور پراس پوری اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہےجس کے ذریعے ہر سال تقریباً پانچ ٹریلین ڈالر کی عالمی تجارت ہوتی ہے اور جہاں مچھلیوں کا قیمتی ذخیرہ اور زیر آب معدنی وسائل موجود ہیں۔

فلپائن، برونائی، ملائیشیا، ویت نام اور تائیوان بھی اس پر ملکیت کے دعوے کرتے ہیں۔

امریکہ اس سمندر پر کوئی دعویٰ نہیں کرتا لیکن اس نے کئی دہائیوں سے آبی گزرگاہ پر گشت کے لیے بحریہ اور فضائیہ کی تعیناتی کر رکھا ہے اور کہا ہے کہ نیوی گیشن اور اوور فلائٹ کی آزادی امریکی قومی مفاد میں ہے۔

چین نے اکثر خفگی سےرد عمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ پر ایشیائی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس خطے کو چھوڑ دے جہاں اس کی ایک صدی سے زیادہ بحری موجودگی ہے۔

یو ایس ایس میلئس کے واقعے کے بعدچینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے بیجنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ’’امریکہ کو ایسی خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیزیوں کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’چین جنوبی بحیرہ چین میں استحکام ،قومی خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ کرنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔‘‘

تصویر کریڈٹ : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/a/a5/USSMiliusDDG-69.jpg