امریکہ میں مہنگائی چار دہائیوں کی بلند ترین سطح پر

خبریں

امریکی حکومت نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ملک میں اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں 8.3 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ مارچ میں ملک میں مہنگائی کی شرح 8.5 % تھی جو 1981 کے بعد اب تک مہنگائی کی بلند ترین شرح ہے۔

 مہنگائی کی بلند شرح کی وجہ سے لاکھوں امریکی گھرانوں کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے۔

بدھ کے روز سامنے آنے والی رپورٹ میں اس بات کے اشارے پائے جاتے ہیں کہ مہنگائی کے گہرے اثرات ہو سکتے ہیں۔ کھانے اور توانائی کے علاوہ دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی مارچ اور اپریل کے مہینوں کے دوران دوگنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ائیرلائن ٹکٹوں، ہوٹل کے کمروں کے کرائیوں اور نئی کاروں کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رہائشی اپارٹمنٹس کے کرائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اثاثوں کا نظام سنبھالنے والی ایک تنظیم میں یو ایس اکانومسٹ کے طور پر کام کرنے والے ایرک ونگارڈ نے بتایا کہ ان قیمتوں میں اچانک اضافے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کے مناسب سطح پر واپس آنے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں تھوڑی کمی واقع ہونے کے بعد بھی 2023 میں اس کی سطح بلند ہی رہے گی۔ اس مہنگائی کی وجہ سے کم آمدنی والے سیاہ فام اور ہسپانوی خاندانوں کو اپنی آمدن کا بڑا حصہ خوراک، پیٹرول اور کرائے پر خرچ کرنا پڑے گا۔

بدھ کی رپورٹ سے امریکی فیڈرل ریزرو اور وائٹ ہاؤس کی ان مشکلات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے جن سے انہیں مہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران نمٹنا پڑے گا۔

اپریل میں ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں قلیل کمی دیکھنے میں آئی۔ اے اے اے نامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملک میں اپریل میں پیٹرول کی قیمتیں اوسطاً 4.10 ڈالر فی گیلن ، جب کہ مارچ میں پیٹرول کی قیمتیں اوسطاً 4.32 ڈالر فی گیلن تھیں۔

اشیائے خور ونوش کی قیمتیں پچھلے برس کے مقابلے میں اپریل میں 11 فیصد بڑھ چکی تھیں۔ 1980 کے بعد یہ کسی بھی برس میں مہنگائی کی سب سے بلند شرح ہے۔

بیرون ملک بحرانوں کی وجہ سے بھی مہنگائی کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ یورپی یونین کا روسی تیل کی درآمد پر پابندی لگانے کا امکان موجود ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں عالمی طور پر تیل کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے جس سے امریکہ میں بھی پیٹرول کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ چین میں کرونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاؤن سے رسد کا سلسلہ بھی متاثر ہونے کا امکان موجود ہے۔

اپریل میں ہوائی سفر کے اخراجات میں 18.6 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ 1963 سے رکھے جانے والے ریکارڈ کے بعد سے سب سے بڑا اضافہ ہے۔ مارچ سے اپریل میں ہوٹلوں کے کرائیوں میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا۔

ساوتھ ویسٹ ائیرلائین نے گزشتہ مہینے اعلان کیا تھا کہ اسے اس برس بڑی آمدن اور منافع کا امکان ہے۔ دو برس ہوائی سفر میں تعطل کے بعد بڑی تعداد میں امریکی ہوائی سفر کر رہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے کرائیوں میں پچھلے برس کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کچھ اشیا جن میں گھروں میں استعمال ہونے والی مشینری اور کپڑوں کی قیمتوں میں 0.8 فیصد اور استعمال شدہ کاروں کی قیمتوں میں 0.4 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ پچھلے برس کرونا ویکسین کے سامنے آنے کے بعد استعمال شدہ کاروں کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

صدر جو بائیڈن اور کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کو مہنگائی کی وجہ سے اس برس کے اواخر میں منعقد ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کا موقف ہے کہ گزشتہ برس مارچ میں صدر جو بائیڈن کے 19 سو ارب ڈالر کے مالی سپورٹ کے پیکج کے بعد جب لوگوں کو دیے گئے امدادی چیک، بے روزگاری کے لیے دی گئی پہلے سے زیادہ امداد اور بچوں والے خاندانوں کو دی گئی ٹیکس کریڈٹ کی رقوم معیشت میں داخل ہوئیں تو معیشت میں ضرورت سے زیادہ تیزی دیکھنے میں آئی۔

منگل کے روز بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ ان کے نزدیک مہنگائی اس وقت خاندانوں کے لیے سب سے بڑی مشکل ہے اور ان کے مقامی ایجنڈے میں ان کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔

تصویر کریڈٹ: https://www.gannett-cdn.com/media/2022/05/05/USATODAY/usatsports/MotleyFool-TMOT-764f9171-f6c37d79.jpg