امریکہ میں فوڈ بینکس مہنگائی اور سپلائی چین کے چیلنجز سے کیسے نمٹ رہے ہیں؟

امریکہ میں مستحق خاندانوں کو خوراک مہیا کرنے والے فوڈ بینکس کو بڑھتی ہوئی مانگ کے بعد اب مہنگائی اور سپلائی چین میں رکاوٹ کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافے اور محدود دستیابی کا مطلب ہے کہ کچھ خاندانوں کو خوراک کی کم مقدار دی جائے گی یا انہیں پہلے دیے جانے والی اشیا جو اب مہنگی ہو گئی ہیں ان کے بجائے مناسب دام میں ملنے والی اشیا مہیا کی جائیں گی۔ مثال کے طور پر مونگ پھلی کے تیل سے بنائے جانے والے مکھن، یعنی پی نٹ بٹر کی قیمت گزشتہ ایک سال میں دوگنا بڑھ گئی ہے۔

جوں جوں ‘تھینکس گیونگ’ یعنی تشکر کا تہوار اور کرسمس قریب آر ہے ہیں فوڈ بینکس کے اہلکار یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں لوگوں کو کرینبیری چٹنی جیسی اشیا مہیا کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

فیڈنگ امریکہ نامی دو سو فوڈ بینکوں کی معاون تنظیم کی چیف آپریٹنگ افسر کیٹی فٹزجیرالڈ کہتی ہیں کہ جب اشیائے خوردنی کی قیمتں بڑھتی ہیں تو پہلے سے خوراک کے عدم تحفظ کے شکار لوگوں کو بدترحالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے فوڈ بینگ جو عالمی وبا کے دوران مانگ میں اضافے کی وجہ سے زیادہ خوراک پہنچا رہے ہیں وہ زیادہ دیر تک اشیا کی دو سے تین گنا بڑھتی ہوئی قیمت برداشت نہیں کر پائیں گے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سپلائی چین میں رکاوٹیں، اشیا کی کم دستیابی اور مزدوروں کی کمی نے خیراتی اداروں کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے، جس پر امریکہ میں لاکھوں لوگ انحصار کرتے ہیں۔

عطیہ کردہ خوراک کو منتقل کرنا زیادہ مہنگا ہے، کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور فیکٹریوں اور بندرگاہوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے ہر قسم کا سامان حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

فٹزجیرالڈ نے کہا کہ اگر کسی فوڈ بینک کو چھوٹے سائز کے ٹونا مچھلی کے ڈبّے کو تبدیل کرنا پڑتا ہے یا کوئی متبادل بنانا پڑتا ہے، تو یہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار کسی خاندان کے لیے مزید تکلیف دہ بات ہو گی۔

مثال کے طور پر انتہائی مہنگے سان فرانسسکو بے ایریا میں، آکلینڈ میں المیڈا کاؤنٹی کمیونٹی فوڈ بینک کھانے پر ماہانہ 60,000 ڈالر اضافی خرچ کر رہا ہے۔

اوکلینڈ فوڈ بینک کےایک ڈائریکٹر مائیکل الٹفیسٹ نے کہا ہےکہ بڑھتی ہوئی مانگ کی بنا پر یہ ساڑھے چار ملین پاؤنڈ (2 ملین کلوگرام) خوراک تقسیم کرنے کے لیے ماہانہ ایک ملین ڈالرخرچ کر رہا ہے۔

عالمی وبا سے قبل یہ فوڈ بینک پچیس لاکھ پاونڈ کی خوراک پر دو لاکھ پچاس ہزار ڈالرز خرچ کر رہا تھا۔
ایلٹ فیسٹ کے مطابق، ڈبے میں پیک سبز پھلیاں اور آڑو کی قیمت ان کے لیے تقریباً 9فی صد زیادہ ہے۔

اسی طرح ڈبّے میں بکنے والی ٹونا مچھلی اور منجمد تلاپیا مچھلی 6 فیصد سے زیادہ اور تعطیلات میں مرغی کا کیس 13 فیصد زیادہ مہنگا ہوا ہے جبکہ خشک دلیے کی قیمت میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سپلائی چین میں کچھ بہتری آنے کے باوجود بہت سے مسائل برقرار ہیں۔

ٹرانسنیشنل فوڈز انکارپوریشن کے سیلز کے نائب صدر برائن نکولس جو فیڈنگ امریکہ سے وابستہ 100 سے زیادہ فوڈ بینکوں کو فراہم کرتا ہے، کہتے ہیں کہ ایشیا سے ڈبے میں بند کھانے جیسے فروٹ کاک ٹیل، ناشپاتی اور مینڈرن سنگتروں کی سپلائی بحری جہازوں میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے پھنسی پڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ایسا لگتا ہے کہ سپلائی کے مسائل میں بہتری آ رہی ہے اور قیمتیں مستحکم ہو رہی ہیں، لیکن وہ توقع کرتے ہیں کہ وبائی امراض کے دوران بہت سارے لوگوں کے جہاز رانی کے کاروبار سے باہر ہونے کے بعد لاگتیں زیادہ رہیں گی۔ پہلے ایشیا سے آنے والے ایک اوسط کنٹینر کی قیمت تقریبا 4,000 ڈاکر تھی لیکن آج اسی کنٹینر کی قیمت تقریباً 18,000 ڈالر ہے۔

آنے والے تھینکس گیونگ کے تہوار کے حوالے سے لوگ اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ اس موقع پر ہر دلعزیز ڈش بنانے کے لیے ٹرکی برڈ کی قیمت دس سے پندرہ ڈالرز ہو گئی ہے۔

المیڈا کاؤنٹی کمیونٹی فوڈ بینک کا کہنا ہے کہ یہ تھینکس گیونگ کے لیے تیار ہے، اس کے وسیع شدہ گودام میں رکھی اشیاء کے درمیان ڈبہ بند کرینبیری اور میشڈ آلو کے ڈبوں کے کیسز ہیں۔

خوراک کا انتظام کرنے والے ڈائریکٹر ولکن لوئی نے کہا کہ انہوں نے5 پاؤنڈ کی منجمد مرغیوں کے آٹھ ٹرکوں کا آرڈر دیا جو کہ 60,000 سے زیادہ پرندوں کے مفت دینے کے برابر ہے اورٹرکی کے مقابلے میں نصف قیمت پر دستیاب ہے۔

بے ایریا کی امریکن انڈیان کونسل کی مارتھا ہاسال اس بات کے لیے شکر گزار ہیں۔

اس بار تھینکس گیونگ مہنگی ہوگی کیونکہ ٹرکی کی قیمت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگی ہاسال نے کہا۔ چنانچہ، اس بار ٹرکی نہیں دیا جا رہا۔ خدا کا شکر ہے وہ اس بار مرغیاں تقسیم کر رہے ہیں۔

Photo Credit : https://storage.googleapis.com/afs-prod/media/0c268d08fd1a43c39e6115c65023605a/2000.jpeg

Leave a Reply

Your email address will not be published.