امریکہ میں فارماسسٹس کو کووڈ نائنٹین کے علاج کی دوا تجویز کرنے کی اجازت

خبریں

امریکہ کے خوراک و ادویات کے محکمہ نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے ریاستی لائسنس یافتہ فارماسسٹس کو اختیار دیا ہے کہ علاج تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے وہ دوا ساز کمپنی فائزر کی کووڈ نائنٹین کے علاج کےلیے بنائی گئی گولی پیکس لووڈ مریضوں کو تجویز کرسکتے ہیں۔

یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی طرف سے یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور نئے متاثرہ مریضوں کو شدید بیماری سے بچانے کے لیے اس گولی کا استعمال بڑھ گیا ہے۔

ایف ڈی اے سینٹر میں ادویات کی تحقیق کے شعبے کی ڈائریکٹر پیٹریزیا کاوازونی، نے ایک بیان میں کہا. چونکہ Paxlovid دوا کو علامات شروع ہونے کے بعد پانچ دن کے اندر دینا ضروری ہے،اس لئے سرکاری لائسنس یافتہ فارماسسٹ کو اس کے استعمال کا اختیار دینے سے کچھ مریضوں کے علاج کےلئے یہ بروقت دستیاب ہو سکے گی۔

ایجنسی نے کہا کہ جن مریضوں میں کووڈ نائنٹین کے مثبت اثرات ہوں انہیں چاہئے کہ وہ گردے اور جگر کی خرابیوں کا جائزہ لینے کے لئے فارماسسٹ کے پاس اپنے صحت کا ریکارڈ لائیں۔

ا یہ بھی کہا گیا ہےا کہ اگر گردے یا جگر کے کام کا اندازہ لگانے کے لیے کافی معلومات نہیں ہیں تو فارماسسٹ کو چاہیے کہ وہ مریضوں کو صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور کے پاس بھیجیں جس کے پاس ادویات تجویز کرنے کا لائسنس ہو۔

ایف ڈی اے نے کہا کہ مریضوں کو ان دوائیوں کی فہرست بھی فراہم کرنی چاہیے جو وہ فی الحال لے رہے ہیں تاکہ ان کا فارماسسٹ ان دوائیوں کی اسکریننگ کر سکے جو پاکسلووڈ کے ساتھ کھائے جانے پر مضر اثرات ظاہر کی حامل ہو سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ فائزر کے کلینکیل ٹرائل میں ، زیادہ خطرہے والے بالغ مریضوں میں ویکسین شدہ لوگ شامل نہیں تھے ۔

امریکہ میں دسمبر سے اس دوا کے استعمال اور مفت دستیابی کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اب تک امریکی حکومت کی طرف سے فارمیسیوں میں تقریباً 4 ملین خوراکوں میں سے نصف سے بھی کم تقسیم کی گئی ہیں۔

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی ایک تحقیق کے مطابق، سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ علاقوں میں لوگوں کو کووڈ نائنٹین اینٹی وائرل گولیاں جیسےکہ پیکسلووڈ حاصل کرنے کا امکان خوشحال علاقے والے لوگوں کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔

تصویر کریڈٹ : https://scopeblog.stanford.edu/wp-content/uploads/2017/03/diet-pills-1328803_1920.jpg