امریکہ میں ‘جانسن اینڈ جانسن’ کرونا ویکسین کے استعمال کی بھی منظوری


امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے امریکی کمپنی ‘جانسن اینڈ جانسن’ کی تیار کردہ کرونا ویکسین کے استعمال کی بھی منظوری دے دی ہے جس کے بعد پیر سے مذکورہ ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو جائے گا۔

‘جانسن اینڈ جانسن’ سے قبل امریکہ میں ‘فائزر’ اور ‘موڈرنا’ کمپنیز کی تیارکردہ کرونا ویکسین کا استعمال جاری ہے۔

تین براعظموں میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق ‘جانسن اینڈ جانسن’ کی ویکسین لوگوں کو اسپتال میں داخلے سے بچانے، شدید بیمار ہونے اور وائرس سے ہلاکت کے خلاف 85 فی صد تک موؐثر ہے۔

تحقیق کے مطابق ویکسین ان ممالک میں بھی کار آمد ہو گی جہاں جنوبی افریقہ سے سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم پھیل رہی ہے۔

‘جانسن اینڈ جانسن’ کی تیار کردہ ویکسین کی ایک خوراک ہی وبا سے بچاؤ کے لیے کافی ہو گی اور طبی حکام اسی ویکسین کے انتظار میں تھے۔ تاکہ ویکسی نیشن مہم میں مزید تیزی لائی جا سکے۔

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں ہفتے تک دو کروڑ 85 لاکھ سے زائد افراد وبا سے متاثر اور لگ بھگ پانچ لاکھ 12 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے ہفتے کو جاری کردہ بیان میں ویکسین کی منظوری کو ایک اچھی خبر قرار دیتے ہوئے امریکیوں پر زور دیا کیا کہ وہ وبا کے خلاف حفاظتی اقدامات کو نظر انداز نہ کریں۔

جو بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ وبا کے خلاف جاری جنگ ابھی خاتمے سے کافی دور ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عوام اپنے ہاتھ دھوتے رہیں اور سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے ماسک کا استعمال بھی جاری رکھیں۔

جو بائیڈن کے بقول کرونا وائرس کی نئی اقسام کے سبب حالات ابھی بھی ممکنہ طور پر خراب ہو سکتے ہیں اور وبا کے خلاف حاصل کردہ کامیابیاں رائیگاں جا سکتی ہیں۔

‘جانسن اینڈ جانسن’ کا کہنا ہے کہ اسے امید ہے کہ وہ رواں سال مارچ کے اختتام تک امریکہ کو کرونا ویکسین کی دو کروڑ خوراکیں مہیا کر دے گی جب کہ کمپنی کے مطابق موسمِ گرما تک 10 کروڑ خوراکیں دستیاب ہوں گی۔

ہمارا ہند کے مطابق ، جانسن اینڈ جانسن بھی ویکسین کے استعمال کے ل Europe یورپ اور عالمی ادارہ صحت سے اجازت لے رہے ہیں۔

Photo Credit : https://www.sciencenews.org/wp-content/uploads/2021/02/022621_TI_jj-vax_feat-1030×580.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: