امریکہ: موسم خزاں کے لئے کووڈ ویکسین کے فارمولےمیں ترمیم کے امکانات

خبریں

امریکی حکومت کے مشیروں نے منگل کو ووٹ دیا کہ وائرس کی تازہ ترین اقسام سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے بوسٹر خوراکوں کے استعمال کا وقت آگیا ہےاس لئے کم از کم کچھ امریکی بالغوں کو اس موسم خزاں میں کووڈ نائنٹین سے بچاو کے لیے تازہ ترین شاٹس لگائے جاسکتے ہیں۔

بامریکی ادارہ برائے خوراک و ادویات یعنی ایف ڈی اے پینل نے دو کے مقابلے میں انیس ووٹوں سے فیصلہ دیا ہے کہ موسم خزاں کے لئے تیار کئے جانے والے بوسٹرز میں کووڈ نائنٹین کی تیزی سے پھیلنے والی قسم اومیکرون سے مقابلے ،کی بھی گنجائش رکھنی چاہیے۔

’’ایف ڈی اے کو صحیح نسخہ تجویز کرنا ہوگا،اور توقع ہے اصل ویکسین میں اومیکرون یا اس کی کچھ نئے اقسام کے خلاف تحفظ کا اضافہ کرنے والا مواد شامل کیا جائے گا۔‘‘

یہ واضح نہیں ہے کہ ٹوئیک بوسٹر کس کو لگایا جائے گا – ہو سکتا ہے کہ وہ صرف معمر افراد کو دیا جائے یا ایسے افراد کو جنہیں وائرس سے بہت زیادہ خطرہ ہے۔ لیکن توقع ہے کہ ایف ڈی اے کچھ دنوں کے اندر نسخہ میں تبدیلی کا فیصلہ کر لے گا اور پھرفائزر اور موڈرنا کو مناسب طریقے سے اپ ڈیٹ کی گئی خوراکوں کے لیے منظوری لینا ہو گی۔

کووڈ نائنٹین کی موجودہ ویکسینز نے عالمی سطح پر لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔ ، امریکہ میں بوسٹر ڈوز کے استعمال سے لوگوں کو ہسپتال میں داخل ہونے اور موت سے بچایا گیا لیکن اومیکرون کے آنے کے بعد یہ انفیکشن کے خلاف اتنی موثر ثابت نہیں ہوئیں ۔ اور موسم سرما میں خاص طور پر پھیلنے والے اومیکرون کی جگہ اب اس کے جینیاتی ویرینٹس نے لے لی ہے۔ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق، امریکی کیسز میں سے نصف ،اومیکرون کی دو نئے قسموں BA.4 ، اورBA.5 کا شکار ہوئے ہیں۔

دوا ساز کمپنیا فائزر اور موڈرنا پہلے ہی ایسے بوسٹرز بنا رہی تھین جو اومیکرون سے تحفظ فراہم کرتے تھے ۔ ان کے شاٹس، کا مجموعہ جسے سائنس دان “بائیولنٹ” ویکسین کہتے ہیں، اینٹی باڈیز کی سطح کو کافی حد تک بڑھادیتا تھا اور اور ان میں اس ویرینٹ کے خلاف مدافعت زیادہ ہوجاتی تھی
دونوں کمپنیوں کو معلوم ہوا کہ کہ ٹوئیک شاٹس نے کسی حد تک پریشان کن BA.4 اور BA.5 ویرینٹ کے خلاف مدافعت ظاہر کی ہے،لیکن زیادہ نہیں۔
بہت سے سائنس دان ویکسینز کے اس ا متزاج کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ یہ اصل ویکسین کے ثابت شدہ فوائد کو محفوظ رکھتا ہے، اور اس میں وبائی امراض کے دوران پیدا ہونے والے دوسرے میوٹنٹس کے خلاف کچھ کراس پروٹیکشن بھی شامل ہے۔

ایف ڈی اے کے سامنے سب سے بڑا سوال صحیح نسخہ تبدیل کرنا ہے ۔ دونوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اکتوبر تک ان کے پاس اومیکرون کو ھدف بنانے کے لئے ایسے کثیر شاٹس ہوں گے،جو ویکسینز کا مجموعہ ہونگے ، لیکن موڈرنا نے کہا کہ اومیکرون کی تازہ ترین قسموں کو ہدف بنانے کی تبدیلی سے ، اس کے ورژن میں مزید ایک ماہ تاخیر ہو سکتی ہے۔

اس فیصلے میں مزید پیچیدگی یہ ہے کہ ویکسین شدہ امریکیوں میں سے صرف نصف کو وہ پہلا بوسٹر ملا ہےجو انتہائی اہم تھا ۔اور سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ بوڑھے لوگوں کے لیے ہسپتال میں تحفظ میں جو کمی آئی تھی دوسرا بوسٹر اسے بحال کرتا دکھائی دیتا ہے ،جو 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے ۔ لیکن اہل افراد میں سے صرف ایک چوتھائی کو یہ اضافی بوسٹر لگایا گیا ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ کیا ٹوئیک بوسٹرز بالآخر بنیادی ویکسین کی جگہ لے سکتےہیں۔ لیکن ایف ڈی اے کے مشیروں کا کہنا ہے کہ یہ بہت اہم ہے کہ آگے بڑھا جائے اور بچوں پر بھی ویکسین کے تازہ ترین نسخوں کی آزمائش کی جائے۔

عالمی ادارہ صحت کے مشیروں نے حال ہی میں کہا کہ اومیکرون ٹویکڈ شاٹس صرف ایک بوسٹر کے طور پر سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوں گے کیونکہ وہ ویرینٹس کی متعدد قسموں کے خلاف لوگوں میں مدافعت کو بڑھا دیں گے۔

ڈبلیو ایچ او کی کمیٹی کی سربراہی کرنے والی ماہر وائرولوجسٹ ڈاکٹر کانتا سباراؤ کا کہنا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ دنیا ان ویکسینز پر سے اعتماد کھو دے جو اس وقت دستیاب ہیں۔

تصویر کریڈٹ : https://www1.racgp.org.au/getattachment/5d4d21c7-b8f7-40ae-a582-c8fa316d118b/attachment.aspx