امریکہ، طالبان معاہدے کا ایک سال: مایوسیوں میں بدلتی اُمیدیں

انتیس فروری 2020 وہ دن تھا جب دنیا نے دیکھا کہ امریکہ اور طالبان کے نمائندے ایک ہی مقام پر جمع ہیں اور خوشگوار ماحول میں امن معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں۔ جب قطر کے دارالحکومت دوحہ کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد اور طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر نے تاریخی امن معاہدے پر دستخط کیے تو دنیا کو اُمید ہوئی کہ اب افغان تنازع حل ہو جائے گا۔

اس روز دوحہ کے شیرٹن ہوٹل میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ باہر سے آئے ہوئے مندوب، صحافی، میڈیا ورکر اور سفید شلوار قمیض اور کالی پگڑیاں پہنے طالبان سے ہال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔

طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر اور زلمے خلیل زاد کے معاہدے پردستخط کرتے ہی ہال طالبان کی جانب سے لگائے گئے اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ طالبان نے اس معاہدے کو اپنی کامیابی قرار دیا۔

اس مختصر تقریب کے بعد تو صحافی برادری کی جیسے چاندی ہو گئی ہو۔ صبح سے لے کر شام تک مختلف طالبان رہنماؤں کے ساتھ انٹرویوز کا سلسلہ چلتا رہا۔

دنیا کو اُمید ہوئی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے بعد طالبان اب افغان حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات کر کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے پر اتفاق کر لیں گے۔ لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود بھی فریقین کسی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے۔

ادھر امریکہ کی نئی انتظامیہ کی جانب سے امن معاہدے پر نظرِ ثانی کے عندیے نے امن معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

افغان عوام کی ٹوٹتی اُمیدیں

اس معاہدے کے بعد سالہا سال کی جنگ اور بدامنی سے تنگ افغان عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا۔ لیکن معاہدے کو ایک سال گزر جانے کے باوجود اب اُمیدیں مایوسیوں میں بدل رہی ہیں۔

افغانستان میں تشدد کے واقعات بدستور جاری ہیں جب کہ فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

گزشتہ ایک سال کے دوران بھی افغانستان بم دھماکوں، فائرنگ اور راکٹ حملوں سے گونجتا رہا جس میں شہری ہلاکتیں بھی ہوتی رہیں۔

طالبان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اُن کا معاہدہ صرف امریکہ کے ساتھ ہے، لہذٰا وہ افغان سیکیورٹی فورسز اور حکومتی اہداف کو نشانہ بناتے رہیں گے۔

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ دوحہ امن معاہدے کے ثمرات سے اب تک افغان عوام محروم ہیں۔

افغان نیشنل سیکورٹی کونسل کے ترجمان رحمت اللہ کہتے ہیں کہ دوحہ امن معاہدے کے تحت طالبان نے بظاہر صرف امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کے ساتھ طالبان کا رابطہ صرف قتل و غارت اور پُرتشدد واقعات تک محدود ہے۔ اس معاہدے کے تحت افغان عوام کے لیے کوئی قابلِ قدر پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الافغان مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔ لہذٰا دوحہ معاہدے کو افغانستان میں امن کے قیام کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پورا سال وقت کا زیاں تھا۔

بین الافغان مذاکرات میں تاخیر

معاہدے کے مطابق پانچ ہزار طالبان اور ایک ہزار افغان حکومتی قیدیوں کی فوری رہائی اور 14 ماہ کے اندر امریکی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا ہونا تھا۔

اس کے علاوہ ایک اہم نکتہ یہ بھی شامل تھا کہ اگلے 10 دن بعد یعنی 10 مارچ کو بین الافغان مذاکرات بھی شروع ہو جائیں گے۔ جس کے بعد ہر کوئی اس سوچ میں پڑ گیا کہ صرف 10 دن کے قلیل عرصے میں بین الافغان امن مذاکرات بھلا کیسے شروع ہو پائیں گے؟

بیشتر مبصرین کے ذہن میں اٹھنے والا یہ سوال بہت ہی اہم اورسنجیدہ نوعیت کا تھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات قومی مفاہمت کی جانب پہلا بڑا قدم تھا۔

دوحہ معاہدے کے فوری بعد بین الافغان مذاکرات شروع نہ ہو سکے۔ تاہم اس کے چند ماہ بعد یعنی ستمبر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کا آغاز ہوا۔ لیکن اس بات چیت کے بعد بھی دہائیوں سے جنگ و جدل کی لپیٹ میں رہنے والی افغان سرزمین پر پرتشدد واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی۔

دوحہ مذاکرات کو ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی فریقین کی رائے منقسم اور افغانستان میں غیر یقینی کی صورتِ حال ہے۔

نومبر کے انتخابات کے بعد امریکہ کی نئی انتظامیہ نے حلف اٹھاتے ہی طالبان کے ساتھ کیے گئے ٹرمپ دور کے امن معاہدے پر نظرِثانی کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد معاہدے کی رو سے امریکہ اور اس کی اتحادی تمام افواج کا افغانستان سے جو انخلا ہونا تھا، اس میں تاخیر دکھائی دے رہی ہے۔

امن معاہدے کے ایک سال مکمل ہونے پر طالبان کے دوحہ میں قائم سیاسی دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امن معاہدے کی پاسداری کریں۔

بیان کے مطابق طالبان نے دوحہ معاہدے کے بعد سے اپنی کارروائیوں میں نمایاں کمی کی ہے۔ طالبان نے فوج اور خفیہ اداروں کے بڑے مراکز کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔ شہادت کے آپریشن کو روک دیا گیا ہے۔ صوبائی دارالحکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے جو کہ سب پر واضح ہے۔

بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ دوسری جانب سے بمباری، ڈروں حملوں، چھاپہ مار کاررروائیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

طالبان کی جانب سے جاری کیے گئے بیاں میں دستخطی تقریب میں شرکت کرنے والے عالمی مبصرین، ملکوں کے نمائندوں اور اقوامِ متحدہ کے نمائندوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ پر زور دیں کہ وہ اس معاہدے پر عمل کرے۔

طالبان اب بھی پُر امید ہیں کہ بین الافغان امن مذاکرات کامیاب ہوں گے اور افغانستان میں امن قائم ہو گا۔

حمرہ ہند سے گفتگو کرتے ہوئے ، دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ، ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا: “مذاکرات ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔ افغانستان گذشتہ 40 سالوں سے انتشار کا شکار ہے۔ اس کے خاتمے میں وقت لگے گا۔”

ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا کہ امریکہ، طالبان معاہدے میں بھی تاخیر ہوئی تھی۔ لہذٰا بین الافغان مذاکرات کے دوران بھی جب تک فریقین کسی قابلِ عمل سمجھوتے تک نہیں پہنچ جاتے اس وقت تک یہ جاری رہیں گے۔

زلمے خلیل زاد پھر متحرک

افغانستان میں قیام امن کے فروغ کے سلسلے میں امریکی نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد، نے دوبارہ سے اپنے رابطے تیز کر دیے ہیں۔

زلمے خلیل زاد کو سابق صدر ٹرمپ کے دور میں افغان مفاہمت کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ البتہ وہ بائیڈن انتظامیہ کا اعتماد حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے اور اُنہیں اپنا کام جاری رکھنے کا کہا گیا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق خلیل زاد بہت جلد اپنی ٹیم کے ہمراہ کابل، دوحہ اور دیگر ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ علاقائی قوتوں اور افغان دھڑوں کے ساتھ بات چیت کے بعد افغانستان میں قیامِ امن کی کوئی راہ تلاش کی جا سکے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ پھر سے افغانستان میں امریکی اسٹبلشمنٹ کی پالیسی کا تسلسل چاہتی ہے جس کے مطابق افغانستان سے مکمل انخلا نہیں ہو گا۔

“کابل میں مقیم ایک سینئر صحافی عصمت قائیں نے ہمارا ہند کو بتایا ،” افغانستان کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

طالبان کے دعوؤں کے برخلاف ، عصمت قنہح کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران قندھار ، قندوز اور ہلمند میں لڑائی جاری ہے ، جس میں افغان افواج کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دوحہ معاہدے کے بعد امریکہ کو افغانستان کے اندر تشدد کے اتنے واقعات کی اُمید نہیں تھی اور یہی وجہ ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ نے دوحہ معاہدے پر نظرِ ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ایک جانب بین الافغان امن مذاکرات ہو رہے ہیں تو دوسری جانب افغانستان میں دونوں قوتوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی بھی جاری ہے۔

عصمت قانع کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ طالبان اور افغان حکومتی نمائندوں نے امن کی تلاش میں ایک بہت بڑا موقع ضائع کر دیا ہے اور وہ دوبارہ اپنے معاملات سلجھانے کے لیے دیگر قوتوں کے محتاج ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی دوحہ امن معاہدے کی ایک شق ہے اور اسے اسی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اس لیے اگر باقی تمام شقوں پر پیش رفت ہو جائے گی تو وہ مکمل جنگ بندی کر دیں گے۔

عصمت قانع کا کہنا ہے کہ کابل میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں کہ آئندہ بین الافغان مذاکرات کے دور جرمنی یا ترکی میں ہو سکتے ہیں۔ ان مذاکرات میں چند بڑے نام بھی شامل ہو سکتے ہیں جو فریقین کے لیے قابلِ قبول ہوں اور اس سے بات چیت آگے بڑھ سکے۔

Photo Credit : https://newlinesinstitute.org/wp-content/uploads/GettyImages-1204139382-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: