امریکہ سمیت 14 ممالک کو کرونا کے آغاز سے متعلق ڈبلیو ایچ او کی تحقیقات پر تحفظات

امریکہ اور دیگر 13 ملکوں نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کرونا وبا کے ماخذ سے متعلق جاری کردہ حالیہ رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے منگل کو اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں دیگر 13 ملکوں کے حکام کے دستخط بھی موجود ہیں۔ ان ملکوں نے مشترکہ بیان میں ڈبلیو ایچ او کی حالیہ رپورٹ پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں عالمی ماہرین کی رائے بہت تاخیر سے سامنے آئی ہے جب کہ ماہرین کو تحقیقات کے لیے ملنے والی مکمل رسائی، اصل ڈیٹا اور سیمپلز پر تحفظات ہیں۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چین کے شہر ووہان کی ایک جانوروں کی مارکیٹ سے پھیلا تھا اور یہ وائرس چمگادڑوں میں پایا گیا تھا۔

تاہم ڈبلیو ایچ او نے گزشتہ ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ دستیاب شواہد اور ڈیٹا کو پرکھنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انہیں اب تک کرونا وائرس کے ماخذ کے بارے میں کچھ نہیں ملا۔

کرونا وائرس کے ماخذ کی تحقیقات کے لیے ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے رواں برس کے آغاز میں چین کے شہر ووہان کا دورہ کیا تھا۔ جہاں ٹیم میں شامل ارکان نے ووہان میں جانوروں کی مارکیٹ کے دورے کے علاوہگ سائنس دانوں اور دیگر ماہرین کے انٹرویوز بھی کیے تھے۔

اطلاعات تھیں کہ ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کو چین میں ڈیٹا تک رسائی سمیت دیگر مشکلات کا سامنا رہا۔ محقیقن پر مشتمل ٹیم کو ووہان میں جانے سے قبل چین کی حکومت کی جانب سے اجازت نامے کے لیے بھی انتظار کرنا پڑا۔

امریکہ اور دیگر 13 ملکوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سائنسی مشن کو ایسے ماحول میں کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے جس کے نتیجے میں آزادانہ نتائج اور تجاویز سامنے آ سکیں۔

مذکورہ ممالک نے ڈبلیو ایچ او کے کرونا وائرس کے ماخذ کی حالیہ تحقیقات کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ کسی بحران کی صورت میں اس سے نمٹنے کی امید پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ کے علاوہ جن دیگر ملکوں نے ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ان میں ​آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، جاپان، اسرائیل، اسٹونیا، چیک ری پبلک، لٹیویا، ناروے، ری پبلک آف کوریا، سلووینیا اور لتھونیا شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبراسس نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کسی فوڈ چین سے انسان میں پھیلا یا کسی جانور کے ذریعے، اس بارے میں مزید تحقیقات اور مزید ڈیٹا کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ چین کی لیبارٹری سے وائرس پھیلنا صرف خیالی تصور ہے اور کچھ نہیں، تاہم اس معاملے کی بھی مزید تحقیقات درکار ہے۔

یاد رہے کہ دنیا بھر میں جب کرونا وائرس پھیل رہا تھا تو اس وقت وبا کے پھیلاؤ سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ یہ بات بھی کی جانے لگی تھی کہ چین کی ایک لیبارٹری میں تجربے کے دوران یہ وبا پھیلی جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ڈبلیو ایچ او کی کرونا پر تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ بین ایمبارک نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کرونا وائرس کے کیسز نومبر یا اکتوبر 2019 سے قبل ووہان میں موجود ہوں۔

Photo Credit : https://content.fortune.com/wp-content/uploads/2021/02/GettyImages-1299412173.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: