امریکہ حریفوں سے معاملات سفارت کاری سے طے کرے گا: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران صدر بائیڈن اور صدر پوٹن کے درمیان سخت بیانات کے تبادلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران “ایک براہ راست پوچھے گئے سوال کا براہ راست جواب دیا تھا” اور انہیں اس پر کوئی “افسوس” نہیں ہے۔

ہمارا ہند کے مطابق ، وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر بائیڈن اور صدر پوتن ایک دوسرے کو ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں۔ “دونوں کچھ عرصے سے عالمی اسٹیج پر ہیں۔ ہم نے مل کر کام کیا ہے اور انہیں (بائیڈن) کو یقین ہے کہ اب بھی ہوسکتا ہے۔

اس موقعے پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا صدر بائیڈن سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو بھی ایک قاتل سمجھتے ہیں؟ اس پر وائٹ ہاوس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا “یہ خیال نہیں کہ انہیں وائٹ ہاوس کے ترجمان کے پوڈئیم سے مزید کسی کو قاتل قرار دینے کی ضرورت ہے”۔

اس سوال پر کہ آیا ایسا خدشہ موجود ہے کہ پوٹن کو ‘قاتل’ قرار دیئے جانے کے بیان کی صدر بائیڈن کی جانب سے تائید کی وجہ سے امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے؟

وائٹ ہاوس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ “امریکی سفیر اور ہماری سفارتی ٹیم ماسکو میں گراونڈ پر موجود لوگوں سے رابطے میں ہے، ہمیں یقین ہے کہ سفارتکاری کا راستہ ہمیشہ اولین اور مقدم ہوتا ہے اور یہی راستہ ہم اپنے حریفوں سے معاملات میں بھی اختیار کرنا چاہیں گے”

پوٹن کا بائیڈن کے بیان پر ردعمل

اس سے قبل روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ایک انٹرویو میں خود کو ‘قاتل’ قرار دینے کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘امریکی صدر کا بیان خود امریکہ کے مسائل کا عکاس ہے’۔

صدر پوٹن نے یہ بات کریمیا پر روسی قبضے کے سات برس گزرنے کی تقریب کے موقعے پرایک ویڈیو کال کے دوران صدر بائیڈن کے بیان کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی۔ خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق پوٹن کا اشارہ امریکہ میں غلامی کے دور اور نیٹو امریکنزکے ساتھ مبینہ نسلی نا انصافی کی طرف تھا۔

انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب کی اچھی صحت کے لئے ‘نیک خواہشات’ کا اظہار بھی کیا اور کہا، کہ وہ ‘ایسا طنزیہ یا مذاق کے طور پر نہیں کہہ رہے’۔

روس نے واشنگٹن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

واضح رہے کہ روس نے امریکہ کے ساتھ بگڑتے دو طرفہ تعلقات سے متعلق مشاورت کے لیے امریکہ میں موجود اپنے سفیر کو واپس ماسکو بلا لیا ہے۔

ہمارا ہند کے مطابق ، واشنگٹن ڈی سی کے عہدیدار ماسکو کے ذریعہ اپنے سفیر کی واپسی پر صبر کے ساتھ رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

روس کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو واشنگٹن میں تعینات سفیر اناطولی انتونوو کی عارضی واپسی سے متعلق واضح کیا کہ سفیر کی واپسی کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے راستوں کی نشاندہی کرنا ہے جو اس وقت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ کے بقول امریکہ روس کے ساتھ تعلقات کو ایک بند گلی میں لے گیا ہے جب کہ ماسکو کی کوشش ہے کہ تعلقات کو دوبارہ استوار کیا جائے۔

روسی سفیر کی وطن واپسی کا اعلان امریکی صدر جوبائیڈن کے ‘اے بی سی’ ٹیلی ویژن پر بدھ کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو کے بعد سامنے آیا ہے۔

اس انٹرویو میں صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو اپنے بدخواہانہ اقدامات کی ‘قیمت چکانا پڑے گی’۔

جوبائیڈن کے بقول انہوں نے روسی ہم منصب کو کہا تھا کہ ‘میرے خیال سے آپ میں احساس نہیں ہے’، جس پر ان کے بقول روسی صدر نے جواب دیا تھا کہ ‘ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔

دوران انٹرویو جب صدر بائیڈن سے پوچھا گیا کہ آیا وہ سمجھتے ہیں کہ پیوٹن ایک قاتل ہیں جس پر امریکی صدر نے جواب میں کہا کہ ‘میں ایسا ہی سمجھتا ہوں’۔

دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن سے منسلک ایک سینئر فیلو ولیم کورٹنی کے مطابق یہ بہت کم ہوتا ہے کہ ایک امریکی صدر کسی حریف ملک کے سربراہ کو قاتل سے تشبیہہ دیں۔

کورٹنی ، جو سوویت یونین کے ساتھ امریکی دفاعی مذاکرات میں مذاکرات کار رہے ہیں ، نے حمارا ہند کو بتایا کہ کبھی کبھی طنز کے بعد صفرا کو واپس بلا لیا جاتا ہے۔

بدھ کو ایک پریس بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے صدر بائیڈن کی جانب سے پیوٹن کو قاتل قرار دینے کی وضاحت سے گریز کیا تھا کہ آیا صدر واقعتاً یا استعارتاً روس کے صدر کو ایک قاتل سمجھتے ہیں۔

اس دوران جب پریس سیکریٹری سے ماسکو کی جانب سے اپنے سفیر کو واپس بلانے سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ پہلے کی انتظامیہ کے مقابلے میں روس کے ساتھ تعلقات میں ایک مختلف سوچ اپنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جن معاملات پر ہمیں تحفظات ہیں وہاں ہم براہِ راست جا رہے ہیں۔

علاوہ ازیں محکمۂ خارجہ کی نائب ترجمان جالینا پورٹر نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم امریکی مفاد کے لیے روس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ تاہم روس کی کسی بھی جارح کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے نئے جوہری ہتھیاروں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے جیسے باہمی تعاون کے شعبوں میں ماسکو کے ساتھ کام کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل بائیڈن نے انٹیلی جنس کے پتا لگائے گئے ایک ڈی کلاسیفائڈ ورژن کو جاری کرنے کا حکم دیا تھا جس میں روسی ریاستی میڈیا، ٹرولز اور روسی انٹیلی جنس کی ہدایت شدہ آن لائن پراکسیز کی جانب سے صدر بائیڈن، ان کے اہل خانہ اور ڈیموکریٹک پارٹی سے متعلق تنقیدی مواد شائع ہونے سے متعلق معلومات تھیں۔

نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر سے جاری مذکورہ رپورٹ کے مطابق روس سمیت ایران امریکی صدارتی انتخابات میں عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کی وسیع کوششوں میں مصروف رہے۔

اس بارے میں روسی صدر کے ترجمان دمتری پیسکوو نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ “غلط تھی اور اس کی کوئی بنیاد اور ثبوت نہیں۔”

Photo Credit : https://cdn.cnn.com/cnnnext/dam/assets/210201131439-01-white-house-briefing-psaki-0201.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: