امریکہ اور چین کے خلائی اداروں میں اپنے مریخ مشنز کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ

ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور چین کے خلائی جہاز مریخ کی جانب رواں دواں ہیں، دونوں حریف ملکوں کے خلائی مشنز کے درمیان اس سال کے ابتدائی تین ماہ کے دوران کچھ غیر معمولی رابطے ہوئے ہیں۔

چین کے خلائی ادارے نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ رواں برس جنوری سے مارچ کے دوران اس کی امریکی خلائی ادارے ناسا کے ساتھ ورکنگ سطح کی ملاقاتیں اور رابطے ہوئے ہیں۔ جس میں دونوں حریف ملکوں کے خلائی اداروں نے اپنے اپنے خلائی جہازوں کی “پروازوں کے تحفظ” کے بارے میں بات کی.

ہمارا ہند کے مطابق ، امریکی قانون ناسا اور چین کے مابین ٹیکنالوجی کی چوری کے خدشات اور چین کے خلائی پروگرام کی خفیہ اور عسکری نوعیت کے خوف کے سبب کسی بھی طرح کے رابطے سے ممنوع ہے۔

تاہم، ناسا کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر سٹیو جارجِک نے گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو میٹنگ کے ذریعے بتایا کہ اگر ناسا کانگریس کے سامنے تصدیق کرے کہ معلومات کے تحفظ اور بچاؤ کے تمام انتظامات کو یقینی بنایا گیا ہے، تو اس بارے میں استثنا سے کام لیا جا سکتا ہے۔

ناسا کے عبوری منتظم نے بتایا کہ چین سے ہونے والے تازہ ترین رابطوں میں، مریخ کے مدار میں گردش کرتے چین کے خلائی جہاز اور دیگر ڈیٹا سے متعلق محدود معلومات کا تبادلہ ہوا، تاکہ کسی ممکنہ ٹکراؤ یا حادثے سے بچا جا سکے۔ جارجک کا کہنا تھا کہ ناسا کا چین کے خلائی پروگرام کے ساتھ بڑی ٹارگٹڈ یعنی محدود معلومات کا تبادلہ ہوا۔

اس بارے میں سب سے پہلے، سپیس نیوز نامی ویب سائٹ نے خبر دی تھی۔

ہمارا ہند کے مطابق ، ناسا کے قائم مقام منتظم نے کہا کہ اب یہ بات بائیڈن انتظامیہ اور کانگریس پر منحصر ہے کہ وہ چین کے بارے میں امریکہ کی مجموعی حکمت عملی کے تناظر میں یہ طے کرے گا کہ آیا امریکہ اور چین کے مابین کوئی اتحاد نہیں ہے۔ فوجی خلائی سرگرمیوں کے بارے میں کس حد تک اور معلومات کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں امریکی انتظامیہ اور کانگریس اپنی پالیسیاں وضع کر رہی ہے، وہیں ناسا یہ جائزہ لے رہا ہے کہ وہ چین کے ساتھ خلائی تعاون اور بات چیت میں کیسے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

مریخ کے مدار میں اس وقت ٹریفک کچھ بڑھ گئی ہے، کیونکہ امریکہ، چین اور متحدہ عرب امارات، تینوں کے خلائی مشن اس وقت مریخ کے مدار میں پہنچ چکے ہیں۔

ناسا کی خلائی گاڑی پر سیوئیرینس روور فروری میں مریخ پر اتر گئی تھی اور اس نے وہاں تحقیق کا آغاز کر دیا ہے۔ چین کا ٹی این ون نامی خلائی جہاز مریخ کے مدار میں گردش کر رہا ہے اور اس سال مئی یا جون میں اس پر اترنے کی تیاری میں ہے۔ متحدہ عرب امارات کا خلائی جہاز صرف مریخ کے مدار میں گردش کر رہا ہے لیکن سطح پر نہیں اترے گا۔

Photo Credit : https://techcrunch.com/wp-content/uploads/2020/05/GettyImages-1124672049.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: