امریکہ، سازشی نظریات پھیلانے پر ریڈیو میزبان پر چالیس لاکھ ڈالر جرمانہ

خبریں

امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک جیوری نے جمعرات کو سازشی تھیوریسٹ الیکس جونز کوسینڈی ہک اسکول شوٹنگ میں ہلاک ہونے والے 6 سالہ لڑکے کے والدین کو ہرجانے کے طور پر چالیس لاکھ ڈالر سے زیادہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو کہ مانگے جانے والے 15 کروڑ ڈالر سے بہت کم ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ Infowars نامی ویب سائٹ کے میزبان کو متواتر جھوٹا دعویٰ کرنے کے لیےذمہ دار ٹھہرایا گیا اور اس پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اس نے اپنی ویب سائٹ پر کہا تھا کہ امریکی تاریخ میں مہلک ترین اسکول شوٹنگ کا قصّہ فرضی طور پر گھڑا گیا تھا۔

آسٹن جیوری کو ابھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ Infowars کے میزبان کونیل ہیسلن اوراسکارلیٹ لیوس کو تعزیری ہرجانے میں کتنی رقم ادا کرنی چاہیے، جن کا بیٹا جیسی لیوس ان 20 بچوں اورچھ اساتذہ میں شامل تھا جو 2012 کے نیوٹاؤن، کنیٹی کٹ میں ہونے والے حملے میں مارے گئے تھے۔

والدین نے ہتک عزت اورجان بوجھ کرجذباتی تکلیف پہنچانے کے لیے کم از کم 15 کروڑ ڈالر کا معاوضہ طلب کیا تھا۔ جونز کے اٹارنی نے جیوری سے ہرجانہ کے معاوضے کی رقم کو کم کرنے کی درخواست کی، جبکہ جونز نے خود کہا کہ بیس لاکھ ڈالر سے زیادہ کا جرمانہ ہمیں برباد کر دے گا۔

جیوری کا فیصلہ ممکنہ طور پر جونز کے خلاف آخری فیصلہ نہیں ہوگا- جونز نے کہا تھا کہ حملہ اسلحہ کے کنٹرول حق میں بڑھتے ہوئے مطالبات کو تقویت پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا، کنیکٹی کٹ کے ایک جج نے ان کے خلاف اسی طرح کے مقدمے میں فیصلہ سنایا ہے جو دوسرے متاثرین کے اہل خانہ اوراس کیس پر کام کرنے والےایف بی آئی کے ایک ایجنٹ نے دائر کیا تھا۔ اسے آسٹن میں ایک اورمقدمے کا بھی سامنا ہے۔

جونز کے اٹارنی، اینڈینو رینل نے فیصلے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

عدالت کے باہر، مدعی کے وکیل مارک بینکسٹن نے اصرار کیا کہ 41 لاکھ دس ہزار کی رقم مایوس کن نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ یہ صرف اس نقصان کا ایک حصہ ہے جو جونز کو ادا کرنا پڑے گا۔

جیوری جونز او اس کی کمپنی کے مالی معاملات کے بارے میں مزید شواہد سننے کے لیے جمعہ کو سماعت کر رہی ہے۔

جمعرات کی رات اپنی ویب سائٹ پرپوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں، جونز نے کم کیے گئے جرمانے کو ایک بڑی فتح قرار دیا۔

اس نے کہا کہ میں نے اعتراف کیا کہ میں غلطی پر تھا۔ میں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ میں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ میں نے جان بوجھ کر نہیں بلکہ غلط اطلاعات کی بنا پرایسا کیا۔ میں نے اہل خانہ سے بھی معافی مانگی ہے۔

جونز نے کہا کہ یہ ہرجانہ “میری کمپنی اور میرے پاس ذاتی طور پرموجود رقم سے زیادہ ہے، ہم اس کی تلافی کرنے کی کوشش پر کام کرنے جا رہے ہیں۔”

مدعی کے وکیل بینکسٹن نے مشورہ دیا کہ ابھی کسی فریق کی جانب سے فتح کا اعلان قبل از وقت ہو سکتا ہے۔

بینکسٹن نے کہا کہ ہمارا کام ابھی ختم نہیں ہوا ۔ “ہم جانتے تھے کہ اس کیس کو دائر کرنا ایسا ہی تھا جیسے چاند کو گولی مارنے کی کوشش کی جائے۔ مگر اسے ہم نے اس لیے ضروری سمجھا کہ جیوری یہ سمجھ سکے کہ ہم سنجیدہ اورپرجوش ہیں۔ کل کے بعد، وہ بہت زیادہ مقروض ہونے والا ہے۔”

جرمانہ کی گئی کل رقم جونز کے خلاف دیگر قانونی چارہ جوئی کے مقدمات کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے اوراس مالیاتی خطرے کی نشاندہی کرسکتی ہے جس کا اسے سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ Infowars کی اہلیت کے بارے میں بھی نئے سوالات اٹھاتا ہے – جس پریوٹیوب، Spotifyاورٹیوٹر نے نفرت انگیز مواد کی وجہ سے پابندی لگا دی ہے –

جونز نے، جس نے مقدمے کو آزادی اظہار کے اپنے پہلے ترمیمی حق پر حملے کے طور پر پیش کیا ہے، مقدمے کی سماعت کے دوران اعتراف کیا کہ حملہ ” سو فیصد حقیقی” تھا اوراس کے بارے میں جھوٹ بولنا غلط تھا۔ لیکن ہیسلن اور لیوس نے ججوں کو بتایا کہ معافی مانگنا کافی نہیں ہوگا اس بہتان تراشی پر جرمانہ عائد ہونا چاہیے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ سینڈی ہک کے دیگر خاندانوں کوبرسوں سے مصائب جھیلنے کے ازالے کے لیے معاوضہ ادا کروائیں۔

والدین نے منگل کو اس بارے میں گواہی دی کہ انہوں نے ایک دہائی کے صدمے کو کس طرح برداشت کیا، جو شروع اپنے بیٹے کے قتل سے ہوا اوراس کے بعد کیا کچھ نہیں ہوا؛ گھر پر فائرنگ، آن لائن اورفون کی دھمکیاں، اور سڑک پر اجنبیوں کے ذریعے ہراساں کرنا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکیاں اور ہراساں کرنا سب کچھ جونز کی وجہ سے ہوا اور اس کی سازشی تھیوری اس کی ویب سائٹ Infowars کے ذریعے اس کے سننے والوں تک پھیل گئی۔

ایک فرانزک سائیکاٹرسٹ نے گواہی دی کہ والدین “پیچیدہ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر” کا شکار ہیں جوکسی مستقل صدمے کی وجہ سے ہوتا ہے، جیسا کہ جنگ میں کسی فوجی یا بدسلوکی کا شکار بچوں کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

اپنی گواہی کے ایک موقع پر، لیوس نے براہ راست جونز کی طرف دیکھا، جو بمشکل 10 فٹ دور بیٹھا تھا۔ لیوس نے جونز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “یہ میرے لیے اتنا ناقابل یقین لگتا ہے کہ ہمیں یہ سب کہنا پڑ رہا ہے۔ ہماری گذارشات کا مقصد آپ کو سزا دلوانا ہے تاکہ آپ جھوٹ بولنا بند کر دیں۔”

جونز اپنے دفاع میں گواہی دینے والا واحد گواہ تھا، وہ اپنے شوکو جاری رکھتے ہوئے صرف وقفے وقفے سے مقدمے میں شرکت کرتا رہا۔ اوروہ جرح کے دوران مدعی کے وکلاء کی طرف سے تابڑ توڑ سوالات کی زد میں آگیا، کیونکہ انہوں نے سینڈی ہک کے بارے میں جونز کے کئی برسوں پر محیط ویڈیو دعوؤں کا جائزہ لیا اور اس پر جھوٹ بولنے اور ثبوت چھپانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا، بشمول ٹیکسٹ میسجز اورحملے کے بارے میں ای میلز۔ اس میں ایک Infowars ملازم کی طرف سے بھیجی گئی اندرونی ای میلز بھی شامل تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ ” سینڈی ہک کا مواد ہمیں لے ڈوبے گا۔”

ایک موقع پر، جونزکو بتایا گیا کہ ان کے وکیلوں نےغلطی سے بینکسٹن کو جونز کے سیل فون سے پچھلے دو سالوں کے متن بھیج دیےتھے۔ بینکسٹن نے جمعرات کو عدالت میں کہا کہ 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل پر 2021 کے حملے کی تحقیقات کرنے والی امریکی ہاؤس کمیٹی نے اس ریکارڈ کی درخواست کی ہے اور وہ اس کی تعمیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

جونز کے اعلان کے فوراً بعد کہ “میں ای میل استعمال نہیں کرتا،” جونز کو ایک ای میل دکھائی گئی جو اس کے ایڈریس سے آئی تھی اوردوسری انفووارکے کاروباری دفتر سے جس میں جونز کو بتایا گیا کہ کمپنی نے ایک ہی دن میں اپنی مصنوعات بیچ کر 8 لاکھ ڈالر مجموعی کمائی کی ہے، اس کو اگر جوڑا جائے تو یہ رقم ایک سال میں تقریباً 3 کروڑڈالر ہوگی۔

جونز کی میڈیا کمپنی فری اسپیچ سسٹمز، جو کہ Infowars کی پیرنٹ کمپنی ہے، نے دو ہفتے کے مقدمے کی سماعت کے دوران خود کو دیوالیہ قرار دینے کے کاغذات دائر کر دیے ہیں۔

تصویر کریڈٹ : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/4/48/Alex_Jones_Portrait_%28cropped%29.jpg