افغان ریڈیو صحافی پر حملہ، گولیاں لگنے سے زخمی

کابل میں مقیم ایک مقامی ریڈیو کے صحافی محمد علی احمدی ہفتے کی شام کو جب کام ختم کر کے مسافر وین کے ذریعے گھر واپس جا رہے تھے تو راستے میں ان کے ساتھ بیٹھے مسافر نے ان سے سوال کیا کہ وہ کیا کام کرتے ہیں۔ جواب میں احمدی نے بتایا کہ وہ مقامی ریڈیو ‘سلام وطن دار’ میں کام کرتے ہیں۔ اس پر اس نے کہا کہ “اچھا امریکی ریڈیو میں؟”

جواب میں احمدی نے بتایا کہ نہیں یہ ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن ہے۔

مسافر نے کوئی جواب نہیں دیا اور وین ڈرائیور سے کہا کہ اگلے سٹاپ پر اسے اتار دے۔

جیسے ہی وہ مسافر وین سے اترا، اس نے احمدی پر گولیوں کی بوچھار کر دی۔ دو گولیاں احمدی کی ٹانگوں پر لگیں۔ حملہ آور بھاگ گیا، مسافر وین سے اتر کر تتر بتر ہو گئے اور ڈرائیور بھی وین چھوڑ کر چلا گیا۔

احمدی بتاتے ہیں کہ وہ فٹ پاتھ پر پڑے رہے۔ ان کی ٹانگوں سے خون بہتا رہا اور کافی دیر بعد ایک راہگیر نے ان کی مرہم پٹی کی۔

احمدی نے ہسپتال سے ہمارہ ہند کو بتایا کہ وہ اس وقت بے ہوش تھا اور اب اس نے فون کرکے اپنے اہل خانہ کو اطلاع دی تھی۔ اب وہ کابل کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ابھی تک حملہ آور کی شناخت نہیں ہو سکی۔ احمدی اور ان کے نیوز نیٹ ورک کو پتا نہیں ہے کہ حملہ آور کا تعلق کس سے ہو سکتا ہے۔

وطندار ریڈیو نیٹ ورک کے منیجنگ ڈائریکٹر ناصر میاں منگے نے ہمارہ ہند کو بتایا کہ اس نے حملے کی اطلاع طالبان کو دی تھی ، جنہوں نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا اور تحقیقات کا وعدہ کیا۔

ہمارا ہند کو ایک ای میل میں ، میاں منگے نے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ، کیونکہ یہ حملہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقے میں ہوا۔ میاں منگے کا کہنا ہے کہ فائرنگ نے پورے عملے کو خوفزدہ کر دیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ بھی اس طرح کے حملے کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

15 اگست سے طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا ہے اور اس کے بعد سے میڈیا کے کارکنوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق سات اور آٹھ ستمبر کو احتجاجی مظاہرے کی رپورٹنگ کرنے والے کم از کم 14 صحافیوں کو طالبان نے حراست میں لیا تھا، جنہیں اب رہا کر دیا گیا ہے۔

سلام وطن دار کے رپورٹر شاکب سیاویش کو بھی اسی سلسلے میں گرفتار کر کے زد و کوب کیا گیا تھا۔ طالبان نے کہا کہ وہ اس تشدد کے بارے میں تفتیش کریں گے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ تمام میڈیا ادارے آزاد ہیں، بشرطیکہ وہ اسلامی قوانین کی پابندی اور قومی اتحاد کو فروغ دیتے رہیں گے۔

طالبان کی جانب سے صحافت کی آزادی کا احترام کرنے کے وعدے کے باوجود خبروں سے متعلقہ درجنوں اداروں کو بند کیا جا چکا ہے۔ ہزاروں صحافیوں نے ملک سے بھاگنے کی کوشش کی ہے۔

دی انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے ایک اندازے کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد کم سے کم 153 میڈیا اداروں کو بند کیا گیا ہے۔

سولہ ستمبر کو 100 سے زیادہ افغان صحافیوں کے گروپ نے رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز سے اپیل کی ہے کہ وہ آزادی صحافت کے لیے ان کے حق میں مہم چلائے۔

احمدی نے یہ بھی کہا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو پھر ہمیں یا تو اپنا پیشہ بدلنا ہو گا یا ملک چھوڑنا ہو گا۔

احمدی نے 2014 میں صحافت میں گریجویشن کی تھی اور یہ کئی میڈیا اداروں میں کام کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے نے ان کی دنیا بدل دی ہے۔ احمدی کہتے ہیں کہ اس وقت تو میری ترجیح یہ ہے کہ میں جلد از جلد صحت یاب ہو کر گھر جاوں۔ میں پہلے اپنا ملک نہیں چھوڑنا چاہتا تھا، مگر اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میری زندگی یہاں محفوظ نہیں رہی۔

Photo Credit : https://media.istockphoto.com/photos/professional-microphone-picture-id1071759456?b=1&k=20&m=1071759456&s=170667a&w=0&h=2qwPc1pL3eAdGiXtxfUA8Dev0uVJF-f9m7HgXGkyAH0=

Leave a Reply

Your email address will not be published.