‘افغان تارکین وطن کا زخم اتنا گہرا ہےکہ صرف پٹی باندھنا کافی نہیں’

پیر کے روز بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کرنےوالے ان 55 ہزار چھ سو شہریوں کو جو کئی ہفتوں سے امریکی فوجی اڈوں اور مستقل گھروں میں رہ رہے ہیں، دوبارہ آباد کرنے کے لئے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا ہے ۔

طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد امریکہ نے وہاں سےایک تاریخی فضائی انخلا کے ذریعے امریکی شہریوں،مستقل رہائشیوں اور اتحادی ملکوں کے شہریوں کےساتھ ساتھ 65 ہزار افغان شہریوں کا بھی انخلا کیا ہے۔

سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق, اس ماہ کے شروع میں بائیڈن انتظامیہ نے کہا تھا کہ امریکہ پہنچنے والے لگ بھگ سات ہزار افغان پناہ گزینوں کو امریکی آبادیوں میں از سر نو بسایا گیا ہے ۔ لیکن ان میں سے بیشتر 53 ہزار سے زیادہ ابھی تک ملک کے فوجی اڈوں پر اپنے مستقبل کے بارے میں کسی خبر کے منتظر ہیں جب کہ پندرہ ہزار ابھی تک بیرونی ملکوں میں سیکیورٹی کے مراحل کا انتظار کر رہے ہیں۔

جارج ٹاون یونیورسٹی میں انٹر نیشنل مائیگریشن پر ریسرچ سے متعلق انسٹی ٹیوٹ کی پروفیسر الزبتھ فیریز نے واشنگٹن کے تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی ایک تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ” اب مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر افغان پناہ گزین امریکہ میں پناہ گزینوں کے روایتی پروگرام کے تحت نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے ہنگامی پروگرام, ہیومنٹیرئین پیرول کے تحت امریکہ آرہے ہیں، یہ پروگرام عارضی ہے اور دو سال پر محیط ہے، جس دوران ان افغان شہریوں کو کوئی قانونی حیثیت حاصل کرنا ہوگی،لیکن زیادہ تر کو پناہ کے لئےدرخواست دینا ہو گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت امریکہ میں درخواستوں کی پراسسنگ سے متعلق لاکھوں کیسز موجود ہیں،جو اس جانب نشاندہی ہے کہ ان افغان شہریوں کو اپنی قانونی حیثیت کے تعین ہونے تک ایک طویل انتظار کرنا ہو گا۔

یہ انتظار کب ختم ہو گا اور انتظار کےبعد ان کا مستقبل کیا ہو گا اور اس دوران اور اس کے بعد وہ کن معاشی، معاشرتی اور ذہنی پریشانیوں اور الجھنوں کا سامنا کریں گے۔ ہم نے اس بارے میں مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی اسسٹنٹ پروفیسر اور مشی گن،لینسنگ کے مئیر کی مینٹل ٹاسک فورس کی چئیر پرسن، ڈاکٹر فرح عباسی سے ایک تفصیلی گفتگو کی۔

ڈاکٹر فرح عباسی امریکی ریاست مشی گن میں ایک مسلم مینٹل ہیلتھ کی بانی اور ڈائریکٹر بھی ہیں،وہ کہتی ہیں کہ،” اپنے گھر بار چھوڑ کر کسی دوسرے ملک اور کلچر میں سکونت اختیار کرنا، خواہ وہ سوچ سمجھ کر یا بہت پلاننگ سے ہی کی جائے،ہجرت کرنے والے پرانتہائی تکلیف دہ اثرات مرتب کرتی ہے۔ لیکن افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ آنے والے افغان شہریوں کی صورتحال عام مہاجرین سے کہیں زیادہ خراب اس لئے ہے کہ ان میں سے بیشتر کو تو مہاجرین کی قانونی حیثیت بھی حاصل نہیں، جس کےتحت انہیں مہاجرین کے طور پر مراعات مل سکتی تھیں ۔ اس لئے انہیں قانونی طور پر آنے والے مہاجرین کی نسبت زیادہ مشکلات کا سامنا پے اور ان کا مستقبل واضح نہیں۔

افغان تارکین وطن کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہوگا؟

ڈاکٹر فرح عباسی کا کہنا تھا کہ پہلا اور سب سے بڑا مسئلہ جو ان افغان تارکین وطن اور ان کے بچوں کو درپیش ہوگا، وہ “کلچرل بریومنٹ ” ہے ، جسےاپنا کلچر، اپنی اقدار، اپنی زبان، اپنا لباس اور اپنی روایات سے بچھڑنے یا الگ ہونے کا غم کہا جاتا ہے۔ انہیں ایک عرصہ تک ایک ایسے کلچرکا حصہ بنتے ہوئے ایک تکلیف دہ ذہنی کیفیت سے گزرنا ہو گا جس کی زبان،لباس، ثقافت، روئیے اور روایات ان کےاپنے کلچر سے بہت مختلف ہیں۔

افغان تارکین وطن کے نفسیاتی چیلنجز کیا ہونگے؟

ڈاکٹر فرح عباسی کا ادارہ ‘مسلم مینٹل ہیلتھ’ دوسرے رفاہی اداروں کے ساتھ مل کر امریکہ میں آنے والے مسلم پناہ گزینوں کے ذہنی مسائل کے حل کے لئے بھی کام کرتا ہے اور اس وقت مشی گن میں آنے والے افغان تارکین وطن کے نفسیاتی مسائل کے حل کے لئے بھی کام شروع کر چکا ہے، ڈاکٹر فرح عباسی نے کہا کہ اپنے مستقبل کے بارے میں بے یقینی کی کیفیت کا شکار یہ شہری،خصوصا بچے “بے خوابی،اینگزائٹی ،ڈپریشن، منشیات کے عادی ہونے اور خود کشی کے رجحانات میں مبتلا ہونے کے علاوہ شدید ذہنی امراض میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں”۔

ڈاکٹر فرح عباسی نے اس سے قبل شام سے بیرون ملک پہنچنے والے پناہ گزینوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ،”ہم نے ایک نئی چیز یہ دیکھی کہ جو پناہ گزین بچے شدید صدمے پر مبنی تجربات سے گزرے، ان میں خصوصی طور پر پر شیزو فرینیا میں مبتلا ہونے کی شرح زیادہ تھی”۔

اپنی زبان کے سوا کوئی زبان بول، سمجھ یا لکھ نہ سکنے کا چیلنج کیا مشکلات پیدا کرے گا؟

ڈاکٹر فرح نے کہا کہ حکومت اور دوسرے فلاحی اداروں کی جانب سےافغان پناہ گزینوں کی مدد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ وہ مختلف افغان زبانیں بولتے ہیں اوران میں سے اکثر یا تو ناخواندہ ہیں یا وہ اپنی زبان کے علاوہ کوئی اور زبان بول،سمجھ یا لکھ نہیں سکتے۔ اور ان سب کے لئے مترجمین کی بڑی تعداد میں فراہمی اور ان کے لئے اجرت کی فراہمی بھی ایک مسئلہ بن سکتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیونیکیشن کی راہ میں مشکلات یقینی طور پر ان کےمعاشی، معاشرتی اور ذہنی مسائل میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

افغانستان سے انخلا اور تارکین وطن کی از سر نو آبادکاری ایک سیاسی مسئلہ بھی بن سکتا ہے؟

ڈاکٹر فرح نے کہا کہ افغان شہریوں کا انخلا اور ان کی از سر نو آبادکاری کیوں کہ صدر بائیڈن کی انتظامیہ کا اقدام ہے اس لئے اس کا سیاسی طور پر کیا رد عمل ہو گا اس کا ابھی کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

بائیڈن انتظامیہ کا افغان پناہ گزینوں کے لئے آبادکاری کا ایک نیا پروگرام

پیر کے روز بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کرنےوالے ان 55 ہزار چھ سو شہریوں کو جو کئی ہفتوں سے امریکی فوجی اڈوں اور مستقل گھروں میں رہ رہے ہیں، دوبارہ آباد کرنے کے لئے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا ہے ۔

سی این این نے اس پروگرام سے متعلق ایک اہلکار کے حوالےسے بتایاکہ یہ پروگرام افغان تارکین وطن سے رابطوں کےحامل سابق فوجیوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کےگروپس کے لئے ان پناہ گزینوں کو سپانسر کر نے کا موقع فراہم کرکے ان کے لئے ایک مددگار نیٹ ورک قائم کرے گاتاکہ وہ امریکہ میں اپنی زندگیاں دوبارہ شروع کر سکیں ۔

لیکن کیا حکومت اور دوسرے فلاحی اداروں کی اب تک کی یہ عارضی کوششیں ان افغان پناہ گزینوں کے زخم بھرنے کے لئے کافی ہونگی؟۔۔۔۔وائس آف امریکہ کے لئے اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے ڈاکٹر فرح عباسی نے کہا کہ افغان تارکین وطن کا زخم اتنا گہرا ہے کہ صرف ایک پٹی باندھنا ہی علاج کے لئے کافی نہیں ہوگا ۔ اس گہرے گھاو کو بھرنے میں بہت زیادہ وقت اور بہت زیادہ تدابیردرکار ہوں گی لیکن پھر بھی اس کے نشان ان کی زندگی پر ہمیشہ باقی رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ا فغانستان سے انخلا کر کےآنے والے ان تارکین وطن کی طویل المیعاد بحالی کےلئے امریکہ میں تارکین وطن کے لئے کسی طویل المیعاد ٹھوس پالیسی کی تشکیل کی سخت ضرورت ہے ۔

PC: https://api.time.com/wp-content/uploads/2021/08/Afghanistan-refugees-Pakistan.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.