افغان امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے باوجود، بے یقینی کی صورتحال برقرار


قطر کے دارالحکومت دوحہ میں، ایک ماہ سے زیادہ جاری رہنے والے تعطل کے بعد،افغانستان میں متحارب فریق، امن مذاکرات کیلئے ملاقات کر رہے ہیں۔ اِن ملاقاتوں سے ماہرین یہ امیدیں وابستہ کر رہے ہیں کہ دونوں فریق تشدد میں کمی اور پھر جنگ بندی پر اتفاق کر سکتے ہیں۔ تاہم حالیہ مہینوں میں افغاستان میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

حمارا ہند کے مطابق ، ایک اعلی سطحی سفارتی سرگرمی کے بعد دوحہ میں بات چیت دوبارہ شروع ہوئی ہے ، جس میں متعدد عہدیداروں نے پاکستان کا دورہ کیا ، جہاں انہوں نے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی۔

طالبان کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے اور طالبان تحریک پر افغانستان میں تشدد کم کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو اہم ترین سمجھا جا تا ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ قمرجاوید باوجوہ نے پیر کے روز کہا تھا کہ افغانستان میں امن عمل پر تعطل ختم کرنے کی کوششیں مثبت انداز سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے یو ایس سینٹرل کمان کے سربراہ جینرل کینتھ ایف مکینزی اسلام آباد میں تھے۔ ان کے علاوہ ، افغانستان کیلئے روس کے ایلچی ظمیر کابلوو اور قطر کی وزارتِ خارجہ کے خصوصی ایلچی ڈاکٹر مطلق بِن ماجد ال قہتانی نے بھی اسلام آباد کا دورہ کیا۔ افغان صدر اشرف غنی کے خصوصی ایلچی عمر داؤدزئی ، بدھ کے روز اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کے پیر کی رات جاری کردہ ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ قطر میں بات چیت کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔ دوحہ میں طالبان کا سیاسی دفتر قائم ہے۔

ملاقات میں “ماحول کے خوشگوار ہونے”، فریقین کے مذاکرات کو جاری رکھنے کے عزم اورامن مذاکرات کے لئے “ایجنڈا طے کرنے” پر بات چیت جاری رکھنے کے سوا کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

ملاقاتوں کی تفصیلات گو کہ مختصر ہیں، تاہم مذاکرات کی خبر رکھنے والے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کی صورتحال سمیت تشدد میں کمی اور آخرِ کار جنگ بندی بات چیت پر چھائی رہیں۔

پاکستان نے، جو اب تک ایک اعشاریہ پانچ ملین یعنی پندرہ لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، بارہا کہا ہے کہ افغان مسئلے کا واحد حل سیاسی ہے، اور قبل ازیں اِسے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کا کریڈٹ بھی دیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان میں ہونے والی تازہ سفارتی سرگرمیاں، اتفاق سے ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں، جب پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس ہو رہا ہے، جس میں دہشت گردی کی فناسنگ اور منی لانڈرنگ میں پاکستان کے کردار پر غور کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اس وقت ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر ہے، جس کے بعد کسی بھی ملک کے بلیک لسٹ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، جس سے اس ملک کی رقم قرض لینے کی اہلیت کو نقصان پہنچتا ہے۔

چند ہی تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جائے گا۔ اس سے پہلے صرف ایران اور شمالی کوریا کو بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔ تاہم پاکستان اپنی پوری کوشش کر رہا ہے کہ اس کا نام گرے لسٹ سے ہٹا دیا جائے۔

جہاں پاکستان کے پاس فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں شامل 37 ملکوں میں چین جیسا اتحادی ملک موجود ہے، وہاں گرے لسٹ سے اپنا نام نکلوانے کیلئے، پاکستان کو روس اور امریکہ کی حمایت بھی درکار ہے۔

افغان حکومت، امریکہ اور نیٹو کی ترجیح، افغانستان میں تشدد میں زبردست کمی لانا ہے جو جنگ بندی پر منتج ہو سکے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ اس پر بات ہو سکتی ہے، لیکن اب تک انہوں نے فوری جنگ بندی کی مزاحمت کی ہے۔ تاہم امریکہ اور نیٹو نے ابھی اپنی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلا کے حوالے سے کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔

Photo Credit : https://www.theamericanconservative.com/wp-content/uploads/2020/07/GettyImages-1146940413.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: