افغانستان کو کوویکس سے کرونا ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکیں مل گئیں

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کئے ایک میڈیا بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارے کے ویکسین فراہمی کے پروگرام کوویکس کے تحت افغانستان کو کرونا وائرس سے بچاو کے لئے ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکیں فراہم کر دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ کوویکس عالمی ادارہ صحت کا کرونا ویکسین کی مساوی تقسیم کے لیے بنایا گیا پروگرام ہے جو عالمی ادارہ صحت اور دنیا کے کئی ممالک کے اشتراک سے وجود میں آیا اور جس کے تحت کرونا ویکسین کی دو ارب خوراکیں غریب اور ترقی پذیر ممالک کو فراہم کئے جانے کا منصوبہ ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق ممبئی میں ایسٹرازینکا سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی کووی شیلڈ ویکسین کی 4 لاکھ 68 ہزار خوراکیں متحدہ عرب امارات کی ایمریٹس ائیر لائن کی پرواز کے ذریعے کابل کے حامد کرزئی ائیر پورٹ تک پہنچائی گئی ہیں۔

ادارے کے مطابق افغانستان وسطی ایشیا میں پہلا ملک ہے جہاں اس پروگرام کے تحت ویکسین فراہم کی گئی۔

پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ویکسین کی خوراکوں کے ساتھ ساتھ 4 لاکھ 70 ہزار سرنجیں اور 4 ہزار 7 سو سیفٹی باکس بھی افغانستان کو فراہم کیے گئے ہیں۔

افغانستان میں یونیسیف کی ترجمان سیما سین گپتا نے کہا کہ یہ افغانستان کے لیے بہت بڑا دن ہے۔ ان کے بقول کوویکس کے ذریعے پہنچنے والی کرونا ویکسین کی یہ خوراکیں دو لاکھ 34 ہزار افراد کو لگ سکیں گی جن میں استاد بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق یونیسیف اس بات پر خوش ہے کہ افغانستان کی صحت اور تعلیم کی وزارتوں نے اساتذہ کو ویکسین کی پہلی ترجیح کی فہرست میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ مارچ کی 21 تاریخ کو سکول دوبارہ سے کھولے جا سکیں۔

افغانستان کی وزارت صحت کے قائم مقام وزیر ڈاکٹر واحد مجروح نے صحت کے عالمی ادارے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوویکس اور دوسرے غیر ملکی امدادی اداروں کی مسلسل مدد کے لئے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام ضرورت مند افغان شہریوں تک اس ویکسین کی خوراکیں پہنچانے کی کوششوں کو تیز کرنا ہو گا۔

کوویکس نے اپنی پریس ریلیز میں اس بات کا اظہار کیا کہ کوویکس اپنے پارٹنر کے ساتھ کئی مہینوں سے ویکسین کی فراہمی کے لیے غریب ممالک کی حکومتوں کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ اس میں قومی ویکسین پلان کی تیاری، کولڈ چین انفراسٹرکچر بنانے اور 50 کروڑ سرنجیں اور سیفٹی باکس حاصل کرنے، ماسک، دستانے اور دوسری اشیا حاصل کرنا شامل ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے مہینے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اڈہانم گبریئسس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دنیا کی سب سے دولت مند اقوام میں سے کچھ قومیں ان کے ادارے اور اس کے شراکت داروں کی جانب سے دنیا کی غریب ترین اقوام کے لیے ویکسین کی فراہمی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

انہوں نے ایک کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ جب تک ہم ہر جگہ وبائی مرض کا خاتمہ نہیں کریں گے، کہیں بھی اس مہلک وبا کا خاتمہ نہیں ہو سکے گا۔

Photo Credit : https://www.aljazeera.com/wp-content/uploads/2021/02/2021-02-07T104510Z_1773762767_RC2MNL98IKTF_RTRMADP_3_HEALTH-CORONAVIRUS-INDIA-DIPLOMACY.jpg?resize=1200%2C630

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: