افغانستان میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکہ، ہلاکتوں کی اطلاع

افغانستان کے شمالی صوبے قندوز میں ایک مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران دھماکہ ہوا ہے جس سے متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ہمارہ ہند کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکہ ایک شیعہ مسجد میں ہوا جبکہ وہاں جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔

عینی شاہدین نے ’اے پی‘ کو بتایا کہ مسجد میں نماز ادا کی جا رہی تھی جب انہوں نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی۔

طالبان نے بھی مسجد میں ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کو بھی افغانستان میں مسجد میں دھماکہ ہوا تھا۔ دارالحکومت کابل میں مسجد میں ہونے والے دھماکے اس دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اتوار کو ہونے والا دھماکہ اس وقت ہوا تھا جن طالبان کے عبوری نائب وزیرِ اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد کی والدہ کے انتقال پر اتوار کو کابل کی عید گاہ مسجد میں تعزیتی اجلاس جاری تھا۔

طالبان نے کابل کی مسجد کے باہر ہونے والے دھماکے کے بعد جوابی کارروائی میں داعش کے متعدد ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ دھماکے کے ای روز بعد پیر کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان نے کابل کے شمالی علاقے خیر خانہ میں داعش کے ٹھکانوں پر کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد جنگجو مارے گئے۔

اس سے قبل داعش نے 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی جس میں 169 افغان شہری اور 13 امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

حالیہ دھماکہ طالبان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔ قبل ازیں طالبان بھی 20 سالہ افغان جنگ کے دوران اس طرح کے حملے کرتے رہے ہیں جب کہ داعش نے بھی حملوں کا وہی طریقہ اختیار کیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے 2019 میں داعش کے خلاف بمباری کے نتیجے یہ شدت پسند تنظیم کمزور ہو گئی تھی البتہ 2020 میں اس نے افغانستان میں دوبارہ اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں طالبان دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ افغانستان میں داعش موجود نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ داعش کے نام سے افغانستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کا شام اور عراق میں لڑنے والوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ تھا کہ داعش کی افغانستان میں حقیقی موجودگی نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ، جو افغان ہوں، داعش کا نظریہ اپنا چکے ہوں، البتہ یہ نظریہ افغانستان میں نہ تو مقبول ہے اور نہ ہی اسے افغان باشندوں کی حمایت حاصل ہے۔

Photo Credit : https://wehco.media.clients.ellingtoncms.com/imports/adg/photos/198375048_198372702-ca23b0dae0334371a96b50f89ea64b1e_t1000.jpg?cc6fa094ad523b984325c7879220d3883a443e7f

Leave a Reply

Your email address will not be published.