افغانستان میں مارے جانے والے کمانڈر خالد بلتی ٹی ٹی پی کے لیے کتنے اہم تھے؟

پاکستان کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر چند روز سے یہ خبر زیرِ بحث رہی کہ افغانستان کے صوبے ننگرہار میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ہلاک کیے جانے والے رہنما یا تنظیم کے سابق ترجمان مفتی محمد علی بلتی ہیں یا موجودہ ترجمان کیوں کہ دونوں رہنما ترجمان کے عہدے کے لیے محمد خراسانی کا فرضی نام استعمال کرتے ہیں۔

البتہ پیر کو رات گئے ٹی ٹی پی کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ ٹی ٹی پی کے اہم رہنما اورسابق ترجمان محمد علی بلتی، جو محمد خراسانی اور مفتی خالد بلتی کے نام بھی استعمال کرتے تھے، کی لاش افغانستان کے صوبہ ننگرہارمیں پاک افغان سرحد کے قریب ملی ہے۔

البتہ ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری کردہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے موجودہ ترجمان محمد خراسانی زندہ و سلامت ہیں۔ مفتی خالد بلتی کے حوالے سے ہماری تحقیق جاری ہے جیسے ہی مصدقہ معلومات حاصل ہو جائے گی اس سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

ٹی ٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ خالد بلتی کے پاس فی الحال تحریک میں کوئی خاص ذمے داری نہیں تھی۔

البته خطے میں طالبان گروہوں کے معاملات پرگہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے کسی اہم رہنما کی ہلاکت کے بنیادی محرکات اہمیت کے حامل ہوں گے کیونکہ ایک ماہ قبل ہی افغان طالبان کی ثالثی میں پاکستانی حکومت اور ٹی ٹی پی کے مابین افغان طالبان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔

محمد علی بلتی سپاہ صحابہ سے ٹی ٹی پی میں کیسے گئے؟

محمد خراسانی کا اپنا اصلی نام محمد علی بلتی تھا جو خالد خراسانی کا نام بھی استعمال کرتا رہا ہے۔ ان کا تعلق پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع گھانچے کی وادی چوربٹ سے تھا۔ ان کی عمر 40 سے 45 سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

محمد خراسانی کراچی کے مختلف معروف مدراس میں زیرِ تعلیم رہے جن میں جامعہ فاروقیہ اورجامعہ الرشید شامل ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے جامعہ الرشید کے ایک فارغ التحصیل مذہبی رہنما نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ محمد علی بلتی جامعہ الرشید میں کچھ ماہ مدرس کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔

مذہبی رہنما کے مطابق’’مدرسوں میں تعلیم کے دوران ہی وہ کالعدم فرقہ وارانہ تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان اورلشکرِ جھنگوی سے وابستہ ہو چکے تھے۔‘‘

جب دسمبر 2007 میں پاکستان کے مختلف شدت پسندوں کے دھڑوں کے اتحاد کے نتیجے میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں ٹی ٹی پی کی بنیاد رکھی گئی تو پاکستان بھرسے مختلف شدت پسند رہنما انفرادی حیثیت میں شدت پسند گروہ میں شامل ہوئے۔

مذہبی رہنما کے مطابق ’’محمد خراسانی کراچی میں فرقہ وارانہ تنظیموں میں فعال رہنے کی وجہ سے ٹی ٹی پی کے رہنما قاری حسین محسود سے رابطے میں تھے جو کراچی کے مدرسہ جامعہ فاروقیہ سے پڑھ چکے ہیں اورٹی ٹی پی میں شمولیت سے قبل لشکرِجھنگوی سے وابستہ رہے ہیں۔

قاری حسین محسود ٹی ٹی پی کے اہم رہنما تھے جو تنظیم میں فرقہ وارنہ شدت پسندی کومتعارف کرانے کے حوالے سے جانے جاتے تھے اورانہیں خودکش حملوں کا ’استاد‘ بھی سمجھا جاتا تھا۔

قاری حسین کے ساتھ قریبی تعلقات کی بنیاد پر محمد علی بلتی باقاعده طور پرٹی ٹی پی میں شامل ہوئے اوربہت جلد ہی تنظیم کے ٹی ٹی پی کے شعبہ نشرو اشاعت سے وابستہ رہے اورسابق ترجمانوں احسان اللہ احسان اورشاہد اللہ شاہد کی معاونت بھی کرتے رہے۔

کراچی کے مذہبی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ محمد علی بلتی آغاز میں کراچی ہی سے ٹی ٹی پی کے میڈیا سیل عمر میڈیا میں سوشل میڈیا میں آنے والی خبریں، تصاویر اور ویڈیوز بھی ہی اپ لوڈ کرتے رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے پہلے غیرپختون ترجمان

سن 2014 میں اس وقت کے ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہد اللہ شاہد اپنے متعدد کمانڈرز کے ہمراہ خطے میں نئی وجود میں آنے والی عالمی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش کے خراسان شاخ میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت نے محمد علی بلتی کوعمر میڈیا میں کام کرنے کے تجربے اور ماضی میں مدرس ہونے کی وجہ سے ٹی ٹی پی کا نیا ترجمان نامزد کیا۔

ٹی ٹی پی کے معاملات پرگہری نظر رکھنے والے اسلام آباد میں مقیم صحافی احسان اللہ ٹیپو محسود کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے ماضی کے ترجمان مولوی عمر، احسان اللہ احسان اور شاہد اللہ شاہد پختون قبائل سے تعلق رکھتے تھے جب کہ محمد علی بلتی پہلے واحد غیر پختون ترجمان تھے جواردو میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے تھے۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محمد علی بلتی ایک مدرس اورمفتی ہونے کی وجہ سے ماضی کے ترجمانوں کے مقابلے میں کافی اہمیت کے حامل تھے۔

احسان اللہ ٹیپو محسود کے مطابق محمد علی بلتی نے ٹی ٹی پی کی جانب سے دہشت گردی کی اہم کارروائیوں کی ذمہ داریاں قبول کی ہیں جن میں دسمبر پشاور میں ارمی پبلک اسکول، چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی، کراچی ایئرپورٹ اورکامرہ ایئربیس پرحملے شامل ہے۔

ان کے بقول،’’اکثر وہ ٹی ٹی پی کے اس وقت کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے ساتھ ویڈیوز اورتصاویر میں بھی دکھائی دیتے رہے ہیں۔

صحافی احسان اللہ ٹیپو کہتے ہیں کہ محمد علی بلتی چوں کہ انفرادی طور پر ٹی ٹی پی میں شامل ہوئے تھے اور فضل اللہ، حکیم اللہ محسود یا پنجاب میں فعال عصمت اللہ معاویہ کی طرح ٹی ٹی پی میں شامل کسی دھڑے سے وابستہ نہیں تھے، اس لیے ان کی موت کے شدت پسند گروہ پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

محمد علی بلتی کو کس نے مارا

کسی بھی گروہ نے ابھی تک ٹی ٹی پی رہنما محمد علی بلتی کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

سن 2014 میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آپریشن ضربِ عضب شروع ہونے کے بعد ٹی ٹی پی کی قیادت بشمول محمد علی بلتی افغانستان کے سرحدی صوبوں ننگرہار، کنڑ اور خوست کی جانب منتقل ہوئی۔

افغان انٹیلی جنس اداروں کی 2015 میں ننگرہار میں ایک کارروائی کے دوران محمد علی بلتی گرفتار ہوئے اورانہیں مختلف جیلوں میں رکھا گیا۔

البتہ افغانستان میں امریکی واتحادی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کی جانب سے جب افغانستان کی جیلوں سے قیدیوں کو جب رہا کیا گیا تو ٹی ٹی پی کے سینکڑوں اراکین کی طرح محمد علی بلتی کو بھی رہائی مل گئی۔

رہائی کے بعد محمد علی بلتی بھی ننگرہارصوبے میں منتقل ہوئے جہاں ٹی ٹی پی کی بعض علاقوں کی قیادت مقیم تھی۔

ٹی ٹی پی ذرائع کے مطابق محمد علی بلتی تنظیم کی ترجمانی کا عہدہ ملنے کے لیے پرامید تھے مگر پہلے ہی سے مالاکنڈ ڈویژن، غالباً باجوڑ، سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند رہنما کو تنظیم کے ترجمان کا عہدہ سونپا گیا ہے جو محمد خراسانی کا نام بھی استعمال کر رہے ہیں۔

پیر کو محمد علی بلتی کی لاش ملنے کی خبر پاکستانی ذرائع وابلاغ میں سرکاری ذرائع سے چلی۔

کراچی کے مذہبی رہنما کے مطابق ایسا لگ رہاہے کہ قاتلوں نے محمد علی بلتی کو سرپر گولی مارنے کے بعد اس کی لاش کی تصویرسوشل میڈیا پر دانستہ طور پر شیئرکی ہے۔

وائس آف امریکہ سے نام نہ شائع کرنے کی شرط پرٹی ٹی پی کے ذریعے نے بتایا کہ محمد علی بلتی ٹی ٹی پی کے اہم رہنما تھے۔ تاہم ٹی ٹی پی قیادت دانستہ طور پر اُن کی ہلاکت کو غیر اہم قرار دے رہی ہے کیوں کہ ان کے پاس کوئی تنظیمی عہدہ نہیں تھا۔

محمد علی بلتی کے قتل کے متعدد ممکنات بیان کرتے ہوئے کراچی کے مذہبی رہنما کا کہنا ہے کہ ’’پاکستانی سیکیورٹی ادارے اس کے قتل میں ملوث ہوسکتے ہیں مگر شاید ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی امید کے سبب وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہوں۔‘‘

انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے ترجمانی کاعہدہ واپس نہ ملنے اورتنظیم میں کھڈے لائن لگانے پر شاید وہ داعش کے ساتھ رابطے میں تھے۔ لہذٰا ٹی ٹی پی اورافغان طالبان بھی ان کے قتل میں ملوث ہوسکتے ہیں۔‘‘

افغانستان میں ٹی ٹی پی رہنماؤں کی ہلاکتیں

محمد علی بلتی کی افغانستان میں ہلاکت سے یہ بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے کہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کی ہلاکتوں کے پیچھے کون ہے؟

گزشتہ ماہ دسمبر میں بھی افغانستان کے صوبہ کنڑ میں پاک افغان سرحد کے قریب واقع گاؤں چوگام میں ٹی ٹی پی کے بانی وسابق نائب امیر مولوی فقیر محمد کے حجرے میں ایک میزائل داغا گیا تھا جو پھٹ نہیں سکا اوریوں مولوی فقیر محمد اور ان کے ساتھی ڈرون حملے میں بچ گئے۔

خیال رہے کہ مولوی فقیر محمد کواشرف غنی کی سابق افغان حکومت نے گرفتار کیا تھا اور انہوں نے کئی سال افغانستان کی بگرام جیل میں گزارے لیکن اگست کے وسط میں طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔

پچھلے سال جنوری میں پاکستان کے سرحدی ضلعے خیبر میں فعال کالعدم شدت پسند گروہ ‘لشکرِ اسلام’ کے سربراہ منگل باغ افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ضلعے نازیان میں ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی ماہرین ٹی ٹی پی رہنماؤں کی ہلاکت کو پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کے لیے دھچکہ اور ان کے خلاف جاری کارروائیوں میں مددگار سمجھ رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے مرکزی امیر مفتی نور ولی نے دو سال قبل شائع کردہ ’انقلابِ محسود‘ نامی کتابچے میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے امریکی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانے ختم کیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی رہنماؤں پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔

Photo Credit : https://www.aboutpakistan.com/news/wp-content/uploads/2022/01/Khorasani.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.