افغانستان میں القاعدہ یا داعش کا کوئی وجود نہیں، طالبان کا دعویٰ

افغانستان کے طالبان نے ان امریکی خدشات کو “بے بنیاد پروپیگنڈہ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ القاعدہ یا مشرق وسطیٰ میں قائم اسلامک اسٹیٹ (داعش) دہشت گرد گروہ سے وابستہ عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یہ دعویٰ کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں اس وقت کیا جب داعش سے منسلک ایک علاقائی گروپ خراساں نے ہفتے کے آخر میں مشرقی صوبہ ننگرہار میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف مہلک بم حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ذبیج اللہ مجاہد نے یہ تبصرہ امریکی انٹیلی جنس حکام کے اس حالیہ انتباہ کے بعد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان کے قبضے سے حوصلہ پا کر القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ کے کارندے افغانستان واپس جا رہے ہیں۔

طالبان کے ترجمان نے ننگرہار میں بم دھماکوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تشدد کو روکنے کے لیے پرعزم ہیں اور وہ داعش خراساں گروپ کو بڑا خطرہ نہیں سمجھتے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھیں گے کہ یہ ان کے آخری حملے تھے اور وہ مستقبل میں ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے۔

مجاہد نے منگل کو دعویٰ کیا کہ داعش کے نام سے افغانستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کا شام اور عراق میں لڑنے والوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ داعش کی یہاں حقیقی موجودگی نہیں ہے، لیکن ممکن ہے کہ کچھ لوگ جو ہمارے اپنے افغان ہوں، داعش کا نظریہ اپنا چکے ہوں، لیکن یہ نظریہ یہاں نہ تو مقبول ہے اور نہ ہی اسے افغان باشندواں کی حمایت حاصل ہے۔

داعش خراساں نے گزشتہ ماہ کابل ایئرپورٹ پر خودکش بم حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس میں 13 امریکی فوجی ارکان اور تقریباً 170 افغان شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ کوہن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکہ کو “القاعدہ کی افغانستان میں ممکنہ نقل و حرکت کے کچھ اشارے دکھائی دیے ہیں۔”

انہوں نے واشنگٹن کے قریب انٹیلی جنس سے متعلق منعقدہ ایک کانفرنس میں بتایا کہ ابھی یہ شروعات ہے۔ لیکن القاعدہ وہاں ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوبارہ تشکیل پا سکتی ہے۔ ہم اس چیز پر گہری نظر رکھیں گے۔

لیکن ذبیح اللہ مجاہد نے ان دعوؤں کی تردید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی عسکریت پسندوں یا افغانستان میں موجود عناصر کے القاعدہ سے منسلک ہونے کے خدشات غلط ہیں اور ان کا اظہار صرف پروپیگنڈے کی خاطر کیا گیا ہے۔ ہمیں افغانستان میں کوئی ایسا دکھائی نہیں دیتا جس کا القاعدہ سے تعلق ہو۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے دنیا اور امریکہ سے وعدہ کیا ہے کہ ہم کسی کو کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچانے یا خطرے میں مبتلا کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پچھلے مہینے کابل میں امریکی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے طالبان پر دباؤ ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عزم کا اظہار کریں اور القاعدہ سے تعلقات ترک کریں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکہ پر حملے کے وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے۔

ان حملوں کی وجہ سے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے طالبان کی جانب سے القاعدہ کے منصوبہ سازوں کو ملک سے باہر نکالنے کے مطالبے سے انکار کے بعد حملہ کر کے طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔

مجاہد نے منگل کی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بنیادی طور پر طالبان کی دو ہفتوں پرانی نگران حکومت میں توسیع کا اعلان کیا ، لیکن تقریباً 60 ارکان پر مشتمل کابینہ کے تمام ارکان مرد ہیں اور ان میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔

طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی کابینہ میں تمام افغان نسلی گروپوں کی نمائندگی موجود ہے اور یہ کہ خواتین کو بعد میں کابینہ میں شامل کیا جائے گا لیکن یہ نہیں بتایا کہ کب ایسا کیا جائے گا۔

ترجمان نے اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ افغانستان کے پڑوسیوں پر بھی زور دیا کہ وہ کابل میں ان کی حکومت کو تسلیم کریں۔

واشنگٹن اور دوسرے ممالک کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا انحصار طالبان کے اقدامات سے منسلک ہے آیا وہ خواتین اور اقلیتوں سے متعلق خدشات دور کرتے ہیں یا نہیں۔

Photo Credit : https://img.onmanorama.com/content/dam/mm/en/news/world/images/2021/9/6/taliban-leaders-akhbar-new.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.