افغانستان سے فوجی انخلا کا فیصلہ اتحادیوں کے مشورے سے کریں گے: بلنکن

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے برسلز میں نیٹو اتحاد کے دو روزہ وزارتی اجلاس کے آخری روز اپنے خطاب میں کہا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر امریکہ جو بھی فیصلہ کرے گا، وہ افغانستان میں اپنے فوجی بھیجنے والے نیٹو اتحادیوں سے مشورے کے بعد ہی کرے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے پر ابھی بات چیت جاری ہے اور ان کے کام کا ایک حصہ اس بارے میں اپنے نیٹو اتحادیوں کی بات سننا اور امریکہ کی سوچ ان تک پہنچانا ہے۔

اس موقع پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل ہینس اسٹالٹن برگ نے افغانستان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دیرپا سیاسی حل کا یہی ایک راستہ ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ امن کے قیام کے لیے فریقین کو اچھی نیت سے مذاکرات کرنا ہوں گے، تشدد میں کمی لانا ہوگی اور طالبان کو القاعدہ جیسی عالمی دہشت گرد تنظیم کی حمایت ترک کرنا ہو گی۔

اس موقع پر جرمنی کے وزیرِ خارجہ ہیکو ماس نے خبردار کیا کہ وقت سے پہلے انخلا سے سیکیورٹی کے میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں سرگرم تمام قوتوں کا انخلا مشروط طور پر ہو۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے نیٹو کے وزارتی اجلاس کے دوسرے روز اپنے خطاب میں کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو بھرپور حمایت حاصل ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا اور چین کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے جیسے عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لئے امریکہ عالمی سطح پر اپنے اتحادوں کو مضبوط کرے اور ان کی تعمیر نو پر کام کرے گا۔

انہوں نے نیٹو اتحاد کے وزارتی اجلاس کو بتایا کہ رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے میں نوے فیصد امریکیوں نے یہ رائے دی ہے کہ امریکہ اپنے اتحادوں کر برقرار رکھ کر ہی اپنے خارجہ پالیسی مقاصد کو بہتر طریقے سے حاصل کر سکتا ہے۔ رائے عامہ کا یہ جائزہ شکاگو الائینس اور گلوبل افیئرز نامی اداروں نے مشترکہ طور پر مرتب کیا ہے۔

بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکی جانتے ہیں کہ امریکہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہی اپنے چیلنج سے بہتر طور پر نمٹ سکتا ہے، اور ہمارے شراکت دار بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں دنیا کو درپیش چار بنیادی خطرات میں فوجی اور تکنیکی معاملات کے ساتھ کرونا وائرس کی عالمی وبا سے جنم لینے والے بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا ذکر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں ہماری مشترکہ اقدار کو چیلنج کیا جا رہا ہے، اور ایسا ہمارے ملکوں میں باہر سے ہی نہیں، اندر سے بھی ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو معاشی، تکنیکی اور نظریاتی اعتبار سے ابھرنے والے جدید خطرات سے مطابقت پیدا کرنی ہوگی اور ان خطرات سے نمٹنے کے لئے اپنے تعلقات کی نئے سرے سے تجدید کرنا ہو گی۔

اینٹونی بلنکن نے چین کے جارحانہ رویے کو عالمی سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا لیکن کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی چین کے ساتھ ‘انگیج’ نہ کریں۔ ان کے بقول، “اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی ملک ان شعبوں میں بھی چین کے ساتھ مل کر کام نہیں کر سکتا، جہاں مل کر کام کرنا ممکن ہے”۔

انہوں نے مثال کے طور پر ماحولیاتی تبدیلیوں اور صحت عامہ کی سیکیورٹی کے چیلنج کا ذکر کیا، جس پر ان کے بقول، امریکہ جانتا ہے کہ اس کے اتحادیوں کی سوچ امریکہ کی سوچ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کا راستہ مل کر ڈھونڈنا ہوگا، یعنی “ٹیکنالوجی اور انفرا سٹرکچر کے شعبوں میں اس کمی کو دور کرنا ہوگا، جس کا فائدہ اٹھا کر چین دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے”۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے نیٹو اتحاد میں شامل ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں بھی کیں۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن امریکہ اور یورپی یونین تعلقات کو مضبوط کرنے پر جمعرات کو یورپی یونین ملکوں کے لیڈروں کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس میں بات چیت کریں گے۔

Photo Credit : https://cdn-japantimes.com/wp-content/uploads/2021/02/np_file_72304.jpeg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: