افشا دستاویزات کا سلسلہ جاری، فیس بک مشکل میں


فیس بک کمپنی کی سابق ملازم فرانسس ہوگن کی جانب سے کمپنی کی اندرونی دستاویزات افشا کرنے کے عمل نے فیس بک کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق فیس بک نے اس بات سے آگاہ ہونے کے باوجود کہ اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی وجہ سے انسانی اسمگلنگ سے لے کر مذہبی انتہا پسندی تک متعدد برائیاں پھیل رہی ہیں، انہیں قابو کرنے کے لئے سنجیدگی نہیں دکھائی۔

فیس بک کے بارے میں انکشافات کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس ہفتے جاری ہونے والی دستاویزات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ویتنام حکومت کی جانب سے سرکار مخالف پوسٹس سینسر کرنے کے مطالبے پر آزادیِ اظہار کے دعویدار فیس بک نے کس طرح خود اپنی قدروں کو نظر انداز کیا۔

مختلف میڈیا اداروں کو جاری کئے جانے والے بیان میں فیس بک نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کو صارفین کے لئے محفوظ بنانے کے لئے بہت سے وسائل استعمال کرتا ہے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ حکومت اور صحافیوں کو دی جانی والی دستاویزات کو ان کے تناظر سے ہٹ کے دیکھا جا رہا ہے۔

ہمارہ ہند کی ایک رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ انکشاف آنے والے دنوں میں فیس بک کے لیے مزید مسائل کا باعث بن سکتا ہے، جس میں پانچ بڑے مسائل بھی شامل ہیں۔

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے ممکنہ تفتیش

فرانسس ہوگن کی جانب سے افشا کی گئیں یہ دستاویزات صحافیوں اور امریکی کانگریس کے علاوہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو بھی پیش کی گئی ہیں، جس کے بعد کمپنی کے خلاف وفاقی تحقیقات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

ہوگن کے مطابق، یہ دستاویزات اس بات کا ثبوت ہیں کہ کمپنی نے ایسی معلومات اپنے سرمایہ کاروں سے دور رکھیں جو ان کے کمپنی کے اسٹاک کی خریداری کے فیصلے پر اثرانداز ہو سکتی تھیں۔

ہوگن کے بقول، فیس بک کو یہ بھی معلوم تھا کہ اس کے اصل صارفین کے تعداد کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار سے کم ہے۔ یہ اعداد و شمار فیس بک کے لئے ایڈورٹائزنگ کی مد میں آنے والے کاروباری رقم کا اہم حصہ ہے۔

گو کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے ابھی کسی تفتیش کے آغاز کا عندیہ نہیں دیا اور ایسے الزامات کو ثابت کرنا بھی آسان نہیں ہوگا مگر ایسی کسی تفتیش کا شروع ہونا ہی کمپنی کی ساکھ کے لئے نقصان دہ ہوگا۔

عدم اعتماد کا مقدمہ

فیس بک کمپنی کو پہلے ہی امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی جانب سے مقدمے کا سامنا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ فیس بک نے انسٹاگرام اور واٹس ایپ حاصل کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر اپنی اجارہ داری قائم کر لی ہے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تینوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا جائے۔

گو کہ فیس بک نے اس الزام کی تردید کی ہے مگر افشا کئے گئے پیپرز میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کمپنی کو کچھ حصوں میں اپنے غلبہ کا بخوبی علم تھا۔ ایسے انکشافات فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے کیس میں نئی روح پھونک سکتے ہیں۔

قانون سازی کا سامنا

ویسے تو امریکی کانگریس آج کل شاذونادر ہی کسی معاملے پر اتفاق کرتی نظر آتی ہے، لیکن گزشتہ ماہ ہونے والی کارروائی میں ان انکشافات پر کہ، فیس بک اور انسٹاگرام اس بات سے طویل عرصے سے واقف ہیں کہ یہ پلیٹ فارمز نوجوانوں خصوصاً کم عمر لڑکیوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں، کانگریس میں کمپنی کے خلاف غم و غصه پایا گیا۔ اس کے بعد اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے قانون سازی کی کئی تجاویز سامنے آئی ہیں۔

کئی دانشوروں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ فیس بک کو قانون کے تحت پابند کیا جائے کہ وہ صحافیوں اور تحقیق کاروں کو اپنے صارفین اور ان کی کمپنی کے پلیٹ فارمز پر سرگرمیوں کے حوالے سے ڈیٹا تک رسائی دے۔

اندرونی اختلافات

اس ہفتے جاری ہونے والی دستاویزات میں شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ کمپنی کے اپنے ملازمین کی جانب سےکمپنی کے عوامی تاثر پر جو کچھ کہا گیا، اسے ‘برہمی کا اظہار’ قرار دیا جائے، تو بے جا نہ ہوگا۔ دستاویزات میں ایسے بے تحاشہ پیغامات شامل ہیں جن میں کمپنی کے ملازمین کمپنی کی جانب سے اپنے پلیٹ فارمز کی نگرانی پر تساہل کی شکایت کرتے نظر آئے ہیں۔

اشتہارات کا بائیکاٹ

پچھلے سال، انسدادِ ہتک عزت لیگ نے فیس بک کی نفرت انگیز تقاریر کو روکنے میں ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے اشتہاری کمپنیوں سے اشتہارات بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہمارا ہند کو ایک بیان میں، تحریک کے رہنما نے مہم دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ دیا۔

تحریک کے سربراہ جانتھن گرین بلاٹ نے کہا کہ بظاہر مارک زکربرگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ فیس بک نفرت انگیز مواد اور جھوٹی خبروں کی روک تھام کے لئے ہر ممکن اقدام کرتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے الٹ ہے، یہ ان پیپرز سے ثابت ہوگیا ہے۔ مارک زکربرگ جانتے بوجھتے اس خرابی کے فروغ کا باعث بنے ہیں۔

گرین بلاٹ کے بقول، فیس بک کی غفلت سے لوگوں کی جانیں گئی ہیں، ان کی آواز دبائی گئی ہے، اور بقول ان کے، ہمیں اس بارے میں کچھ تو کرنا پڑے گا۔

Photo Credit : https://truthout.org/wp-content/uploads/2021/10/2021_1025-zuckerberg-1200×801.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.