اس سال امریکہ میں خزاں کا موسم رنگوں سے خالی ہے

امریکہ میں خزاں کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ لیکن شاید صدیوں میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ خزاں کا دامن رنگوں سے خالی ہے۔ درختوں سے پتے زرد ہو کر جھڑ رہے ہیں۔ اس بار فطرت نے ان پر وہ رنگ نہیں بکھیرے جو نظروں کو مہبوت اور روح کو شاد کر دیتے ہیں۔ اس بار خزاں اداس اور بے کیف سا ہے۔

بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہو گی کہ امریکہ کے کئی علاقوں میں خزاں کی رت، بہار سے بھی زیادہ دلکش اور دل فریب ہوتی ہے۔ بہار کے موسم میں رنگ پھولوں پر آتے ہیں، لیکن خزاں میں تو گویا پورا ماحول ہی رنگوں کی قبائیں اوڑھ لیتا ہے۔

خزاں کے موسم میں اکثر امریکی آبادیوں سے باہرلانگ ڈرائیو پر نکل جاتے ہیں یا نیشنل پارکوں اور قدرتی جنگلات کا رخ کرتے ہیں اور حسن فطرت کا لطف اٹھاتے ہیں۔ روپہلے اور زرد رنگوں کا یہ دورانیہ بہت مختصر ہوتا ہے اور عموماً دو سے تین ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔

اکتوبر کے آخر میں تیز ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگتی ہیں اور درختوں کی شاخوں سے پتے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگتے ہیں۔ اور پھر نومبر میں درخت ٹنڈ منڈ ہو جاتے ہیں اور زمین زرد خشک پتوں سے بھر جاتی ہے اور سردیوں کی آمد کا نقارہ بجنے لگتا ہے۔

خزاں کے یہ رنگ صرف امریکہ تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ دنیا کے کئی ملکوں اور علاقوں میں، جہاں موسم اور زمینی حالات یہاں سے ملتے جلتے ہیں، خزاں میں درختوں پر یہ رنگ اپنی بہار دکھاتے ہیں۔ لیکن ریگستانی، میدانی اور ان علاقوں میں جہاں گرمی زیادہ پڑتی ہے اور موسم زیادہ تر خشک رہتا ہے، وہاں خزاں کے موسم میں پتے ایک دم زرد ہو کر درختوں کی شاخوں سے گر جاتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خزاں میں پتوں پر رنگوں کا بدلنا، یا سبز سے زرد ہو کر شاخوں سے ٹوٹ جانے کا تعلق براہ راست درجہ حرارت اور دن کی طوالت سے ہے۔ اگر درجہ حرارت زیادہ ہو تو پتے جلد گر جاتے ہیں اور اگر طوفانی ہوائیں چل پڑیں تو ٹہنیوں سے پتوں کا ساتھ ایک دم ٹوٹ جاتا ہے۔

امریکہ کے بہت سے علاقوں میں موسم خزاں میں پتے زرد ہو کر ٹوٹنے سے پہلے کئی رنگ کیوں بدلتے ہیں؟ یہ کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔

سادہ لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پتے سورج کی روشنی کے ساتھ مل کر ایک خاص مرکب کلوروفل بناتے ہیں جس سے وہ سبز نظر آتے ہیں۔ لیکن اس کا انحصار دن کی طوالت اور درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔ ستمبر میں دن کا دورانیہ گھٹنا اور موسم ٹھنڈا ہونا شروع ہو جاتا ہے، جس سے پتوں میں کلوروفل کا عمل متاثر ہونے لگتا ہے اور اس کے خلیے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ یہ خلیے تین رنگوں یعنی سرخ، اورنج اور زرد رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چونکہ ہر پتے میں یہ عمل مختلف انداز میں ہوتا ہے جس سے ان رنگوں کے مختلف شیڈز بن جاتے ہیں۔

لیکن اس سال اکتوبر شروع ہونے کے باوجود زیادہ تر درختوں کے پتے ابھی ہرے ہیں، یا کہیں کہیں مکمل طور پر زرد ہو چکے ہیں۔ یہ تقریباً ویسا ہی منظر ہے جو عموماً ریگستانی یا میدانی علاقوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کی وجہ گلوبل وارمنگ ہے۔

اس سال امریکہ بھر میں شدید گرمی پڑی اور درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ ستمبر میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ رہا جس سے پتوں کو کلوروفل بنانے کا عمل سست کرنے کا فطری سگنل نہیں مل سکا۔ اور ان کا رنگ تبدیل نہیں ہوا۔

پتے کی ایک خاص عمر ہوتی ہے۔ اس عمر پر پہنچنے کے بعد پتے کا اپنی شاخ سے رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے اور ہوا کا جھونکا اسے اپنے ساتھ اڑا لے جاتا ہے۔ امریکہ میں یہ عمل وسط اکتوبر کے لگ بھگ شروع ہو جاتا ہے۔

خزاں کے موسم میں رنگوں کے دلکش نظاروں کے لیے امریکی ریاست مین، ڈینویئر اور نیویارک خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ لیکن ریاست ڈینوئیر کے نباتات کے ایک ماہر مائیکل سن برگ نے بتایا ہے کہ ستمبر کے اختتام تک 70 فی صد پتوں کے رنگ تبدیل نہیں ہوئے تھے جب کہ پتے گرنا شروع ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجائے اس کے کہ پتوں میں رفتہ رفتہ تبدیلی آتی، ان کا رنگ بدلتا اور وہ خشک ہو کر جھڑ جاتے، اب درمیانی مراحل طے کیے بغیر وہ سبز سے خشک ہو کر گر رہے ہیں۔ یہ درجہ حرارت کی وجہ سے ہے۔

ریاست ورمونٹ کے محکمہ جنگلات میں درختوں کے سائنس دان پال شیبرگ کا کہنا ہے کہ علاقے میں گرم درجہ حرارت کی وجہ سے پتے زیادہ عرصے تک سبز رہے ہیں اور درجہ حرارت نے ان کا رنگ بدلنے کا عمل روک دیا ہے، اس لیے ہمیں موسم خزاں کے رنگ دکھائی نہیں دے رہے۔

گلوبل وارمنگ کے اثرات صرف خزاں کے رنگوں پر ہی نہیں پورے کرہ ارض پر ظاہر ہو رہے ہیں اور ہر آنے والے برس میں اس کی شدت بڑھ رہی ہے۔ کئی زرخیز علاقے صحراؤں میں بدل رہے ہیں۔ کہیں شدید طوفان آ رہے ہیں۔ کہیں بارشیں اور سیلاب تباہیاں پھیلا رہے ہیں۔

زمین کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف موسم خزاں کے رنگ ہی نہیں چھین رہا بلکہ کرہ ارض پر حیات کی کئی اقسام بھی داؤ پر لگ گئی ہیں۔

ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک خوبصورت پرندے ہدہد سمیت کم ازکم 23 اقسام کے پرندے اور دیگر جانورں کی نسلیں حالیہ عشروں میں دنیا سے غائب ہو گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو روکنے کے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو بہت ممکن ہے کہ اگلی صدی میں انسان کا یہاں رہنا بھی دشوار ہو جائے۔

امریکی ریاست میساچوسٹس کے محکمہ جنگلات میں قدرتی ماحول کے تحفظ کے ایک ماہر اینڈی فنٹن کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنی زمین کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے اور کرہ ارض کو گرم ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے جنگلات کو اہمیت دینا ہو گی۔ کیونکہ جنگلات ہمیں وہ سب کچھ مہیا کرتے ہیں جن کی ہمیں اپنی بقا کے لیے ضرورت ہے، یعنی صاف ہوا، صاف پانی، صاف ستھرے جنگلات، متعدل موسم اور خاص طور پر خوبصورت خزاں، جس میں ہم رنگ دیکھنا چاہتے ہیں۔

Photo Credit : https://www.tripsavvy.com/thmb/_UU6-bx5n3xtSU6bbwBxiTJl9_w=/2936×1651/smart/filters:no_upscale()/vermont-state-capitol-520272426-5b787f08c9e77c00258a4998.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.