آسکر ایوارڈز 93 سالہ تاریخ کی سب سے منفرد تقریب ہوگی، منتظمین

آسکر ایوارڈز کے منتظمین نے کہا ہے کہ 93 برس کی تاریخ میں پہلی بار اس سال کی تقریب ایک منفرد انداز سے منعقد ہوگی۔ اس بار منتظمین کو عالمی وبا کی وجہ سے عمومی انداز کے بجائے تقریب کے انعقاد کے نئے طریقے سوچنے پڑے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ ہالی وڈ کے سب سے بڑے ایوارڈز کی تقریب میں اس بار سب کی نگاہیں شاید اس بات پر نہ ہوں کہ اہم ترین ایوارڈ کون جیتے گا یا کیا نیٹ فلکس اس بار بھی سب پر بازی لے جائے گا، بلکہ توجہ اس بات پر ہو گی کہ وبا کے دوران آسکر ایوارڈز کی تقریب کے معیار کو کیسے برقرار رکھا جائے۔

اس بار ایوارڈز کی یہ تقریب لاس اینجلس کے ایک ٹرین سٹیشن پر منعقد کی جا رہی ہے۔ آسکر ایوارڈز کے منتظمین ابھی تک اس تقریب کے بارے میں مکمل تفاصیل میڈیا کو دینے سےقاصر ہیں۔ لیکن اس تقریب میں حاضری کو محدود رکھا گیا ہے اور اسے امریکی نشریاتی ادارہ، اے بی سی ٹیلی وژن نشر کرے گا۔

آسکر تقریب کے پروڈیوسروں میں سے ایک، سٹیسی شیئر کا کہنا ہے کہ ’’اس بار ہم اپنا کیس یہ پیش کریں گے کہ سنیما کیوں ضروری ہے۔‘‘

اس بار نیٹ فلکس کی 1930 کے سنیما پر مبنی فلم ’مانک‘ دس نامزدگیوں کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ اس کے علاوہ 1960 کی دہائی کے واقعات پر مبنی فلم ’دی شکاگو 7‘‘ بھی بہترین فلم کی دوڑ میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ نامزدگیوں میں ’’نومیڈ لینڈ‘‘، ’’پرامسنگ ینگ وومن‘‘، ’’میناری‘‘، ’’جوڈاز اینڈ دا بلیک مسیحا‘‘۔ ’’دی فادر‘‘ اور ’’ساؤنڈ آف میٹل‘‘ شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ایوارڈز جیتنے والوں کو اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹ اینڈ سائینسز کے 9 ہزار ممبران چنتے ہیں۔

ایوارڈز کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈیڈلائین ہالی وڈ کے فلمی نقاد، پیٹ ہامونڈ نے کہا ہے کہ ’’اس سال بہت سی فلموں کے بارے میں ہم کم جانتے ہیں، حالانکہ وہ آسانی سے دیکھی جا سکتی ہیں، کیونکہ وہ سب سٹریمنگ سروسز پر دستیاب ہیں۔‘‘

اس سال امریکہ میں منعقد ہونے والی دوسری ایوارڈ تقریبات پہلے کی طرح کے شان و شوکت سے منعقد نہیں ہو سکیں۔ ان میں سے زیادہ تر ورچوئل منعقد ہوئیں جس کی وجہ سے انہیں ٹی وی پر 60 فیصد کم لوگوں نے دیکھا۔

Photo Credit : https://storage.googleapis.com/afs-prod/media/e437ca22bdc84f05829a3c129e062c63/3000.jpeg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: