اسلام آباد میں لڑکے اور لڑکی کو گھر کے اندر ہراساں کرنے والے سات ملزمان پر فردِ جرم عائد

اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ کے علاقے ای الیون میں لڑکا اور لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور تشدد کے کیس میں مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت سات ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا ہے جن کے خلاف کیس کی باقاعدہ سماعت بھی شروع ہو گئی ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین شریک ملزمان کی ضمانتیں خارج کرتے ہوئے کیس کا ٹرائل دو ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

منگل کو ملزمان کو ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں پیش کرنے کے لیے لایا جا رہا تھا۔ تو ملزم عثمان مرزا نے صحافیوں کو دیکھ کر کہا کہ “کہنا کہ مرشد آیا تھا۔”

کمرہٴ عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے ملزمان پر فردِ جرم عائد کی جن ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی ان میں عثمان مرزا کے علاوہ ریحان، عمر بلال ،محب بنگش، فرحان شاہین اور شریک ملزمان حافظ عطا الرحمٰن اور ادریس قیوم بٹ شامل ہیں۔

مقدمے میں نامزد ملزمان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں ۔ عدالت کے جج نے جب ملزمان کو فردِ جرم پڑھ کر سُنائی تو سب ملزمان نے با آواز بلند صحت جرم سے انکار کیا۔

فرد جرم کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہو گیا ہے اور استغاثہ سےشہادتیں طلب کرلی گئیں ہیں۔

عدالت نے فرد جرم کی کاپیاں ملزمان کو فراہم کرتے ہوئے پراسیکیوشن کے گواہان کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا اور گواہان کے بیانات قلم بند کرنے کے لیے گواہوں کو نوٹسز جاری کر دیے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

پیر کو اسلام آباد کے علاقے ای الیون میں لڑکا لڑکی پر تشدد اور نازیبا ویڈیو بنانے کے معاملے پر بنائے گئے پولیس چالان کے مندرجات سامنے آئی تھیں۔

چالان میں کہا گیا تھا کہ عثمان ابرار مرکزی کردار ہے جس نے ساتھیوں سے نازیبا ویڈیو بنوائی۔ ملزمان نے لڑکا لڑکی کی نازیبا ویڈیو بناکر بلیک میل کیا۔ بعد ازاں دونوں سے بھتہ بھی وصول کی۔

گرفتار ملزم عمر بلال نے انکشاف کیا تھا کہ عثمان کے کہنے پر متاثرین سے سوا 11 لاکھ روپے وصول کیے جس میں سے چھ لاکھ عثمان کو دیے اور باقی دیگر ساتھیوں میں تقسیم کیے۔

چالان میں کہا گیا تھا کہ لڑکا اور لڑکی کے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے بیانات ریکارڈ کرائے جنہیں پولیس چالان کا حصہ بنایا گیا۔

متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا کہ عثمان اور اس کے دوست ان کا مذاق اڑاتے رہے۔ انہیں برہنہ کرکے ویڈیو بنائی گئی۔ ملزم عثمان مرزا اور ا سکے ساتھی اسے بار بار چھوتے بھی رہے اور ہراساں بھی کیا۔

خاتون نے بیان دیا تھا کہ ملزمان نے زبردستی برہنہ کرکے جنسی عمل پر مجبور کیا اور نہ کرنے کی صورت میں اجتماعی زیادتی کی دھمکیاں دی گئیں۔

اس کیس میں تین ملزمان حافظ عطا الرحمٰن، قیوم بٹ اور فرحان شاہین کی درخواست ضمانت کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محسن اختر کیانی کی عدالت میں ہوئی۔

عدالت نے ملزمان کے وکلا اور استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کر دیں اور کہا کہ اس قدر سنگین جرم کے ملزمان ضمانت کے مستحق نہیں ہیں۔

عدالت نے دو ماہ میں کیس کا ٹرائل مکمل کرنے کا بھی حکم دیا۔

رواں برس جولائی میں اسلام آباد کے سیکٹر ای-الیون میں ایک نوجوان لڑکے اور لڑکی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ملزمان دونوں کو ہراساں کر رہے تھے اور ان کی ویڈیو بھی بنا رہے تھے۔ اس عمل کے دوران خاتون کو برہنہ بھی کیا گیا جب کہ لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں ویڈیو سامنے آنے پر پولیس نے مرکزی ملزم عثمان مرزا کو گرفتار کیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ ویڈیو سامنے آنے کے چند گھنٹوں بعد ہی اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ کی پولیس نے فوری کارروائی کی اور ویڈیو میں نظر آنے والے ملزم عثمان مرزا کو گرفتار کر لیا۔

پولیس نے لڑکا اور لڑکی سے رابطہ کیا جن کی شادی ہو چکی تھی اور ان کی درخواست پر باقاعدہ مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی۔

Photo Credit : https://www.thestatesman.com/wp-content/uploads/2020/07/arrest-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.