اسلام آباد: احتجاجی ڈاکٹرز کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی شیلنگ، متعدد گرفتار

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منگل کو نئے امتحانی طریقۂ کار پر سراپا احتجاج ڈاکٹرز، میڈیکل کے طلبہ اور پولیس کے درمیان تصادم کے بعد متعدد طلبہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

مظاہرین نے اسلام آباد میں پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کے دفتر میں داخلے کی کوشش کی تو پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی ہو گئی۔ پولیس نے احتجاج میں شریک طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور متعدد ڈاکٹروں اور طلبہ کو حراست میں لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ کئی روز سے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے طلبہ امتحانی طریقۂ کار اور ہاؤس جاب کے لیے لائسنس کے اجرا سے قبل ایک اور امتحان نیشنل لائسنسنگ ایگزام ‘این ایل ای’ ٹیسٹ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

احتجاج میں شریک طلبہ کا مؤقف ہے کہ میڈیکل کالجوں اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کا طریقۂ کار تبدیل کیا جائے۔

اسلام آباد کے ڈی چوک کے قریب احتجاج میں شامل ایک طالبِ علم محمد عثمان کہتے ہیں کہ وہ پر امن طریقے سے پی ایم سی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ اچانک پولیس نے اُن کے ساتھیوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔

ہمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے عثمان نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی گزشتہ چار دنوں سے ڈی چوک میں احتجاج کر رہے تھے ، لیکن کسی سرکاری افسر نے ان سے بات نہیں کی۔

محمد عثمان کے مطابق وہ ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں مناسب نمبر نہیں حاصل کر سکے۔ جس کے بعد اُن کا داخلہ کسی بھی میڈیکل کالج میں نہیں ہو سکا۔

محمد عثمان نے مزید کہا کہ اُن کے احتجاج میں پاکستان بھر سے آئے طلبہ شامل ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ حکومت پی ایم سی کے تحت ہونے والے امتحانات کے طریقۂ کار کو بدلے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مختلف صوبوں کے انٹرمیڈیٹ (ایف ایس سی) کے سلیبس میں فرق ہے، لیکن پی ایم سی ایک ہی نظام کے تحت امتحان لینا چاہتا ہے۔ جس کے باعث بہت سے طلبہ میڈیکل کالجز میں داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

واضح رہے ایم ڈی کیٹ آن لائن امتحان ہے جس میں پرچہ حل کرنے کے کچھ دیر بعد نتیجہ امیدوار کو مل جاتا ہے۔ اس امتحان میں کامیابی کے لیے 65 فی صد نمبر لینا ضروری ہے۔

احتجاجی طلبہ میں بیشتر وہ ہیں جو رواں برس ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں فیل ہو چکے ہیں یا ان کے گزشتہ برس نمبر کم آئے تھے۔

ڈاکٹرز کو این ایل ای امتحان پر تحفظات

اسلام آباد میں ایم ڈی کیٹ امتحان کے خلاف احتجاج میں شریک طلبہ کے ساتھ ڈاکٹرز بھی شریک ہیں۔ جو این ایل ای سسٹم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

ڈاکٹروں کے احتجاج کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر احمد جو خود بھی جناح اسپتال لاہور میں ہاؤس افسر ہیں کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے پہلے ڈاکٹروں پر لائسنس کے نام پر این ایل ای سسٹم لاگو کیا اور اب میڈکل کالجوں میں داخلے کے لیے طریقۂ کار اور انٹری ٹیسٹ کو تبدیل کیا گیا ہے۔

ہمارہ ہند سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد نے کہا کہ وہ گزشتہ چار ماہ سے پی ایم سی کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے احتجاج میں پورے پاکستان سے ہاؤس افسران اور مختلف میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم ڈاکٹر اور ایم بی بی ایس کے طلباء شامل ہیں۔

ڈاکٹر احمد کے مطابق ایک ڈاکٹر سخت محنت اور مشکل پڑھائی کے بعد جب خود کو پی ایم سی میں رجسٹر کراتا ہے تو پریکٹس کے لیے لائسنس لینے کے لیے ایک اور امتحان دینا پڑتا ہے۔ لہذٰا وہ اِس کے خلاف ہیں۔

ڈاکٹر احمد نے دعوٰی کیا کہ پولیس نے بہت سے طلبہ اور ڈاکٹروں کو گرفتار کر لیا ہے اور ان پر تشدد کیا گیا ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے طلبہ اور ڈاکٹروں کی تعداد بارے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

حکومتی مؤقف

وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کہتے ہیں کہ احتجاج کرنے والے طلبہ پوسٹ ایگزام انالیسز کے نتائج کا انتظار کریں۔ جس کے آنے سے اُن کے تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے۔

اُن کے مطابق ایم ڈی کیٹ کا امتحان دینے والے طلبہ کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ اِس مرتبہ امتحان کا الگ سے جائزہ لیا جائے گا۔

اسلام آباد سے جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن نے پہلے ہی اعلان کر رکھا تھا کہ امتحان کے اختتام پر ایک پوسٹ اگزام انیلیسز ہو گا۔ جس میں امتحان کا پورا تجزیہ اور جائزہ سائنسی اعتبار سے لیا جائے گا جو تھرڈ پارٹی کرے گی۔ قائد اعظم یونیورسٹی پوسٹ اگزام انیلیسز کو سرانجام دے گی۔ تجزیہ کرنے والے مکمل با اختیار ہوں گے تاکہ شفاف طریقے سے معائنہ ہو سکے۔

بیان کے مطابق جو سوالات مبہم یا غیر واضح ہوں گے اُن کے نمبر دیے جائیں گے۔ کوئی ایسا سوال جس کے ایک سے زائد جواب درست ہوں گے اُس کا اسکور بھی طلبہ کو دیا جائے گا۔

پاکستان میڈیکل کمیشن

پاکستان میڈیکل کمیشن کے صدر ڈاکٹر ارشد تقی کہتے ہیں کہ ایم ڈی کیٹ کے لیے نصاب نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل اکیڈمک بورڈ نے تیار کیا تھا۔ جس کا جائزہ فیڈرل بورڈ اور تمام صوبائی بورڈز کے نمائندوں سے کرایا گیا تھا۔ پی ایم سی کے مطابق امتحان کے بعد ہونے والے جائزے کے تحت اگلے ہفتے نتائج کا حتمی طور پر اعلان کر دیا جائے گا۔

ہمارہ ہند سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشد تقی نے کہا کہ احتجاج میں شریک طلباء کی اکثریت کا موقف تھا کہ ایم ڈی کیٹ میں ان کے نمبر ان کی توقعات پر پورا نہیں اترتے۔ ان کے مطابق احتجاج میں شریک ایک گروپ چاہتا ہے کہ ایم ڈی کیٹ میں 65 فیصد امیدوار کو پاس قرار دینے کے بجائے شرح کو مزید کم کیا جائے۔

ڈاکٹر ارشد تقی کے مطابق اگر اس گروپ کی بات مان لی گئی تو کل کو کوئی اور احتجاج شروع کر دے گا کہ میرٹ کو مزید کم کیا جائے، یوں یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پی ایم سی کے صدر نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ کے تمام امتحانی مراکز میں وائرلیس لوکل ایریا نیٹ ورک موجود تھا۔ انٹرنیٹ، سسٹمز، ٹیبلیٹس کی خرابی اور بجلی کے جانے کا کوئی امکان موجود نہیں تھا۔

پی ایم سی کے مطابق رواں برس پاکستان بھر کے تمام سرکاری ونجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے لیے 20 ہزار نشستیں مختص ہیں۔ جس کے لیے رواں برس 30 اگست 2021 کو ایک لاکھ چالیس ہزار طلبہ نے شرکت کی تھی۔ پی ایم سی کے مطابق رواں سال ہونے والے امتحان میں شریک امیداروں میں سے صرف صفر اعشاریہ ایک تین فی صد نے سوالات کے جوابات چھوڑے ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن

پاکستان میں ڈاکٹروں کی غیر سرکاری نمائندہ تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر اشرف نظامی سمجھتے ہیں کہ ایم ڈی کیٹ کے امتحان پر پی ایم سی از خود تذبذب کا شکار ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اشرف نظامی نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت ایک صوبائی معاملہ ہے۔ جس کے تحت تمام صوبوں نے اپنے اپنے میڈیکل کالجوں میں داخلے خود کرنے ہیں، لیکن اَب وفاقی حکومت اِس کو ایک نصاب اور ایک طریقۂ کار کے تحت چلانا چاہتی ہے۔

Photo Credit : https://imagevars.gulfnews.com/2020/04/11/OPN_Corona_Pak_1716938789b_large.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.