اسلام آباد ہائی کورٹ کا جنرل اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم


اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ کے مطابق اسد درانی کے خلاف کوئی انکوائری نہیں چل رہی۔ حکومت کے پاس کھلی چھوٹ نہیں کہ کسی کو بھی ای سی ایل میں ڈال دے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس اطہر من اللہ نے جمعرات کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق ان کی درخواست پر سماعت کی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ہر عام شہری کی طرح تھری اسٹار ریٹائرڈ جنرل کے بھی حقوق ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ان کا نام ای سی ایل میں رکھا جائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف انکوائری چل رہی ہے اس لیے ان کا نام ای سی ایل میں ہے۔ لیکن عدالت میں جمع کروائے گئے ریکارڈ کے مطابق اس وقت کوئی انکوائری نہیں چل رہی۔

اطہر من اللّٰہ نے عدالت میں موجود ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا وفاقی حکومت کے پاس کھلی چھوٹ ہے کہ کسی کو بھی ای سی ایل میں ڈال دے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ اس معاملے پر وزارتِ دفاع کے نمائندے کو نوٹس کر کے ان سے جواب طلب کر لیا جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو بھی بلانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ریکارڈ کے مطابق اسد درانی کے خلاف کوئی فریش انکوائری نہیں۔ ان کا نام ای سی ایل میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اسد درانی کا نام وزارت دفاع کی سفارش پرسال 2019 میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

اسد درانی نے ملک سے باہر جانے کے لیے عدالت سے نام ای سی ایل سے ہٹانے کی درخواست کی تھی، جس پر وزارت دفاع کی طرف سے جواب دیا گیا تھا کہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ اور دیگر ملک دشمن عناصر کے ساتھ بھی 2008 سے رابطے میں ہیں۔

اسد درانی کی سابق را سربراہ کے ساتھ مشترکہ کتاب

اسد درانی نے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے سابق سربراہ اے ایس دولت کے ساتھ مشترکہ طور پر ایک کتاب لکھی جو سال 2018 میں شائع ہوئی۔

‘اسپائی کرونیکلز را- آئی ایس آئی اینڈ دی الیوژن آف پیس’ نامی اس کتاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف تنازعات سمیت ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے آپریشن، مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کی گرفتاری، پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل جنگ سمیت کئی اہم موضوعات شامل ہیں۔

اس کتاب کے بارے میں اسد درانی کا کہنا تھا کہ بھارت میں ایک دورے کے دوران ان کی ملاقات ایس کے دولت سے ہوئی، جنہوں نے کتاب لکھنے کے حوالے سے بات کی اور بعد میں ایک صحافی کی مدد سے اس بارے میں یہ کتاب لکھی گئی اور سال 2018 میں اسے شائع کیا گیا۔

اس کتاب میں پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر تنقید کی گئی اور جنرل درانی نے کارگل جنگ کو جنرل مشرف کا جنون کہا۔

اس کے علاوہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے لیے ایبٹ آباد میں ہونے والے آپریشن کے حوالے سے جنرل درانی نے اس شک کا اظہار کیا کہ پاکستان کو اس بارے میں پہلے سے علم تھا اور پاکستان نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے آئی ایس آئی کے ایک سابق افسر پر بھی امریکہ کو معلومات فراہم کرنے کا شک ظاہر کیا لیکن اس کا نام لینے سے گریز کیا۔

وزارتِ دفاع نے کیس کے دوران اپنے جواب میں کہا تھا کہ اسد درانی کی کتاب کا مواد آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1952 کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان فوج کی طرف سے اسد درانی کی طلبی

پچیس مئی 2018 کو اس کتاب کے منظرِ عام پر آنے کے ایک دن بعد ہی پاکستانی فوج کے اُس وقت کے ترجمان آصف غفور کی طرف سے ایک ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ اسد درانی کو کتاب کے حوالے سے پوزیشن واضح کرنے کے لیے 28 مئی کو جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) طلب کیا گیا ہے۔

جنرل غفور کا کہنا تھا کہ اسد درانی کو ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر پوزیشن واضح کرنا ہو گی، جس کا اطلاق تمام حاضر اور ریٹائرڈ اہلکاروں پر ہوتا ہے۔

اس کے بعد جنرل اسد درانی جی ایچ کیو پہنچے اور اپنا مؤقف انکوائری بورڈ کے سامنے پیش کیا۔ لیکن پاکستانی فوج نے ان کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور 28 مئی کو ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اسد درانی کے خلاف حاضر سروس لیفٹننٹ جنرل کی سربراہی میں تحقیقات کی جائیں گی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مجاز اتھارٹی نے اسد درانی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے رابطہ کیا اور اگلے ہی روز اُن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔

اسد درانی کی مراعات اور پینشن بند، رینک برقرار

23 فروری 2019 کو اس بات کا اعلان کیا گیا کہ جنرل اسد درانی کی پینشن اور مراعات بند کر دی گئی ہیں۔

اُس وقت کے فوجی ترجمان آصف غفور نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ اسد درانی تحقیقات میں فوجی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے، وہ ایک سینئر افسر تھے اور جس طریقے سے انہوں نے کتاب لکھی اس میں طریقۂ کار پر عمل نہیں کیا گیا، جس پر ان کے خلاف تحقیقات کے بعد ان کی پینشن اور مراعات کو روک دیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جنرل اسد درانی کا رینک برقرار رہے گا تاہم اُن کا نام ای سی ایل میں ہے اور اس فہرست میں ان کا نام برقرار رکھنے کے لیے وزارتِ داخلہ سے بات کی جائے گی۔

ای سی ایل سے نام نکالا جائے، اسد درانی کی ہائی کورٹ سے استدعا

اسد درانی نے گزشتہ برس دو اکتوبر کو اپنا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں اور پیشہ ورانہ ملاقاتوں کے سلسلے میں ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔

دائر کردہ درخواست میں کہا گیا کہ ان کا نام بغیر کسی نوٹس کے ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے اور ای سی ایل آرڈر میں ان کے خلاف جاری انکوائری کا ذکر کیا گیا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ اسد درانی نے پانچ ستمبر کو پاک آرمی کے ایڈجوٹینٹ جنرل کو ان کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کی درخواست کی تھی، کیوں کہ وہ پیشہ ورانہ ملاقاتوں کے سلسلے میں باہر جانا چاہتے ہیں اور ان کی اہلیہ ملک سے باہر موجود اپنے پوتے اور پوتیوں سے ملاقات کرنا چاہتی ہیں۔

وکیل کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسد درانی 25 سال قبل فوج سے ریٹائر ہو چکے ہیں اور ان پر آرمی ایکٹ 1952 لاگو نہیں ہوتا، اس لیے ان کے خلاف شروع کی گئی انکوائری غیر قانونی ہے۔

اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملہ وزارتِ داخلہ کو بھجوایا لیکن وزارتِ داخلہ نے ای سی ایل سے نام نکالنے سے انکار کر دیا۔

بعد ازاں اسد درانی نے دوبارہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جہاں وزارتِ دفاع نے ان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے انکوائری کے جلد مکمل ہونے اور ان کا نام ای سی ایل میں شامل رکھنے کا مؤقف اختیار کیا تھا۔ لیکن اب عدالت نے ان کے خلاف کوئی بھی انکوائری نہ چلنے کا کہہ کر ان کا نام ای سی ایل سے نکال دیا ہے۔

اس معاملہ پر لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی سے بارہا کوشش کے باوجود رابطہ نہیں ہو سکا۔

Photo Credit : https://dailytimes.com.pk/assets/uploads/2020/03/12/IHC.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: