اسرائیل کے فضائی حملوں میں حماس کے متعدد کمانڈرز ہلاک

اسرائیل کے فضائی حملوں میں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے متعدد کمانڈرز ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ پیر سے جاری کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔

حماس نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ غزہ سٹی میں اسرائیل کی کارروائی میں ان کے ملٹری آپریشنز کے لیڈر باسن عیسیٰ سمیت کئی دیگر عسکری حکام ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی انٹرنل سیکیورٹی ایجنسی نے بھی کہا ہے کہ فضائی حملوں میں مارے جانے والوں میں باسن عیسیٰ کے علاوہ حماس کے انجینئرنگ چیف اور سائبر وارفیئر اور راکٹ ڈویلپمنٹ کے سربراہ بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی میں حماس کے مجموعی طور پر 16 کمانڈرز مارے گئے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے بدھ کو فضائی حملوں کے دوسرے راؤنڈ میں حماس کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسرائیل کی فوج نے حماس کی پولیس اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک کثیرالمنزلہ رہائشی عمارت کو بھی نشانہ بنایا تھا جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ یہ حماس کے دفاتر کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ تاہم حملے کے وقت عمارت میں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

یاد رہے کہ غزہ کی پٹی اور یروشلم میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان لڑائی پیر سے جاری ہے جس میں اب تک 60 سے زیادہ فلسطینی اور چھ اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی فضائی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں 16 بچے اور پانچ خواتین بھی شامل ہیں اور کم از کم 365 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

حماس نے پیر سے اب تک اسرائیل کے شہر تل ابیب اور اس کے نواح میں سیکڑوں راکٹ فائر کیے ہیں۔ منگل اور بدھ کو حماس کے راکٹ حملوں میں چھ ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان راکٹ حملوں اور فضائی کارروائی کو 2014 میں غزہ جنگ کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حالیہ کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟

یہودی آبادکاروں کی جانب سے یروشلم کے قریبی علاقے شیخ جراح میں عرب زیرِ کنٹرول کمیونٹیز پر قبضہ کرنے کی کوشش اور مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس کی جانب سے عبادت کرنے والوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور گرنیڈ پھینکنے کے واقعات حالیہ کشیدگی کی وجہ بنے ہیں۔

حماس نے اسرائیل کو مسجد اقصیٰ سے فورسز کو نکالنے کے لیے الٹی میٹم دیا تھا جس کے بعد پیر کو غزہ سے یروشلم پر راکٹ فائر کیے گئے۔

حماس اور اسرائیل کی جھڑپوں پر عالمی ردِ عمل

مغربی کنارے میں عرب شہریوں کے اسرائیلی فورسز کے احتجاج اور جھڑپوں کے بعد امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب بن یامین گینتز سے بدھ کو رابطہ کیا۔

بعدازاں پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا کہ وزیرِ دفاع نے اسرائیل کے قانونی حقِ دفاع کی حمایت کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لائیڈ آسٹن نے حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

بیان میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ فریقین امن کی بحالی کے لیے اقدامات کریں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے بھی اسرائیلی شہریوں پر حماس کے راکٹوں حملوں کی مذمت کی ہے۔

اپنے ایک ٹوئٹ میں اینٹنی بلنکن نے کہا کہ انہوں نے موجودہ صورتِ حال پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن سے بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور فلسطینیوں کو بھی تحفظ کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

جرمنی کے وزیرِ انصاف کرسٹن لیمبرچٹ نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جرمنی اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے جسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب ایردوان نے روسی ہم منصب ولادی میر پیوتن سے بات کرتے ہوئے فلسطینیوں کی حمایت میں بات کی۔

ایردوان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں پر حملہ کرنے کے جواب میں عالمی برادری کو اسرائیل کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمراں خان بھی فلسطینیوں اور غزہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔

Photo Credit : https://themedialine.org/wp-content/uploads/2021/05/GettyImages-1232835670-scaled-e1620816544323.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: