اسرائیل اور حماس کی لڑائی جاری، 65 فلسطینی اور 6 اسرائیلی ہلاک، امریکہ نے خصوصی ایلچی روانہ کر دیا

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان بدھ کو مسلسل تیسرے روز بھی لڑائی جاری رہی اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس لڑائی کے نتیجے میں اب تک کم از کم 65 فلسطینی اور 6 اسرائیلی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ ادھر امریکہ نے دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کے مقصد سے خصوصی ایلچی روانہ کر دیا ہے۔

حمارا ہند کے مطابق اسرائیل نے بدھ کی صبح حماس کے زیر کنٹرول غزہ پر سیکڑوں فضائی حملے کیے جبکہ حماس نے اسرائیلی شہروں تل ابیب اور بیئر شیبہ پر بھی کئی راکٹ فائر کیے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ شدت پسند گروپ کی جانب سے راکٹ حملوں کے جواب میں کی گئی اسرائیلی کارروائی میں غزہ شہر کے برگیڈ کمانڈر کےعلاوہ شدت پسند فلسطینی گروپ سے تعلق رکھنے والے 15 دیگر ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ”یہ محض ابتدا ہے۔ ہم انھیں ایسا جواب دیں گے کہ وہ بھول نہیں پائیں گے”۔

اسرائیل کی فوج کے مطابق اس نے حماس کے راکٹ لانچنگ پیڈز، دفاتر اور تنظیم کے رہنماؤں کے گھروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں موجود ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہو گئی جب کہ دوسری عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے ایک اعلان کے مطابق، غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی کےباعث پیر کے روز سے اب تک کم از کم 65 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ طبی امداد سے وابستہ اہلکاروں نے بتایا ہے کہ اسرائیل میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ اس نے غزہ شہر میں رہائشی عمارت کو نشانہ بنانے کے جواب میں تل ابیب اور بیئر شیبہ کی جانب 210 راکٹ فائر کیے ہیں۔

ایسے میں جب حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی میں شدت آ رہی ہے، امریکہ نے کشیدگی میں کمی کی کوششیں تیز کر دی ہیں

رائٹرز کی جاری کردہ خبر میں بتایا گیا ہے کہ فلسطین اسرائیل کے مابین جاری شدید کشیدگی میں کمی کے لیے امریکہ نے علاقے کی طرف ایک ایلچی روانہ کیا ہے۔

​غزہ میں اسرائیل کی فضائی کارروائیوں اور مسجد اقصیٰ میں پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد اسرائیلی شہر لد میں آباد عرب اقلیت میں تشویش پائی جاتی ہے۔

لد کے مختلف مقامات پر پرتشدد مظاہروں کے دوران یہودی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات رپورٹ ہونے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔

لد شہر میں یہودیوں کے علاوہ عرب باشندوں کی بھی بڑی تعداد آباد ہے۔ پولیس نے منگل کی شب لد، ام الفہم سمیت کئی عرب اکثریتی علاقوں سے درجنوں افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 2014 کی جنگ کے بعد حالیہ لڑائی کو ہلاکت خیز قرار دیا جا رہا ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر اس تشویش کو جنم دیا ہے کہ یہ لڑائی قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے بدھ کو ہنگامی اجلاس بلانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

حمارا ہند کے مطابق ، سلامتی کونسل کے ایک ممبر کے ایک سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ سلامتی کونسل نے غزہ کی صورتحال پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے سفیر برائے امن ٹور وینس لینڈ نے فوری طور پر لڑائی کے خاتمے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ تمام فریق قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ “ہم ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ غزہ میں جنگ کی بھاری قیمت عام شہریوں کو چکانا پڑ رہی ہے۔”

ٹور وینس لینڈ نے مزید کہا کہ تشدد کو روکیں، اقوامِ متحدہ تمام فریقین کے ساتھ مل کر امن کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے۔

عرب لیگ نے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کو اندھا دھند اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ عرب ملکوں کی تنظیم کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ یروشلم میں خطرناک جھڑپوں کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔

ادھر حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یروشلم اور مسجدِ اقصیٰ میں جو آگ لگائی تھی اس کی چنگاریوں نے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور وہ اس کے نتائج کا بھی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے قطر، مصر اور اقوامِ متحدہ رابطے میں ہیں اور فریقین کو پرامن رہنے پر زور دے رہے ہیں لیکن ان کے بقول حماس کا اسرائیل کو یہ پیغام ہے کہ اگر وہ کشیدگی چاہتا ہے تو ہم مزاحمت کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری کشیدگی پر وائٹ ہاؤس نے منگل کو کہا تھا کہ راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا قانونی حق حاصل ہے۔

کشیدگی کے خاتمے کے لیے مصالحانہ کوششیں

غزہ پر حماس کے 2007 میں کنٹرول کے بعد سے اب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان تین جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ حالیہ برسوں میں جو جھڑپیں ہوئی ہیں عام طور پر چند دن کے بعد ختم ہو جاتی تھیں اور اکثر اوقات قطر، مصر یا کوئی ملک پس منظر میں رہتے ہوئے مصالحانہ کردار ادا کرتا رہا ہے۔

مصر کے عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک اس بار بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن حکام نے حساس سفارت کاری کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یروشلم میں اسرائیل کے اقدامات نے ان کی کوششوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔

ترکی اور پاکستان کی قیادت نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے جب کہ دونوں ملکوں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئی ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ فلسطین اور غزہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مسلم ممالک کی تنظیم ‘او آئی سی’ کا ایک ہنگامی اجلاس منگل کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقد ہوا۔ بعدازاں مشترکہ اعلامیے میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو تشدد میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ بننے والے حملوں کو روکا جائے۔

کشیدگی کا آغاز کب ہوا؟

یروشلم کے علاقے ‘شیخ جراح’ سے فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی کے خلاف فلسطینی گزشتہ کئی روز سے احتجاج کر رہے تھے۔

آٹھ فلسیطنی خاندانوں کو بے دخل کر کے یہودی آبادکاروں کو یہاں لانے پر ہونے والے احتجاج کے باعث اس علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اس کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب گزشتہ اختتام ہفتہ یروشلم میں موجود الاقصیٰ مسجد کے صحن میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں۔

اس موقع پر اسرائیل کی فوج نے مسجد کے صحن میں جمع ہونے والے فلسطینیوں پر آنسو گیس، اسٹن گرنیڈ اور ربڑ کی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی زخمی ہوئے۔

حماس نے اسرائیل کو مسجد اقصیٰ سے سیکیورٹی فورسز کو پیچھے نہ ہٹانے کی صورت میں راکٹ حملوں کی دھمکی دی جس پر پیر کی شب باقاعدہ طور پر عمل درآمد بھی کیا گیا۔

حماس کے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ میں فضائی کارروائی کی اور دوطرفہ جھڑپوں کا سلسلہ تین روز سے جاری ہے۔

Photo Credit : https://www.al-monitor.com/sites/default/files/styles/article_header/public/2021-05/GettyImages-1232840245.jpg?h=a5ae579a&itok=iYgkoZRU

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: