استنبول، گھریلو تشدد کے خلاف بین الاقوامی معاہدے سے نکلنے پر خواتین کے احتجاجی مظاہرے

استنبول میں تقریبا ایک سو خواتین نے صدر طیب اردوان کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے، جس کے تحت ترکی کی حکومت نے خواتین کو تشدد کے خلاف تحفظ فراہم کرنے والے ایک تاریخی بین الاقوامی معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعہ کے روز ہونے والا احتجاج دو ہفتوں سے جاری مظاہروں کے اس سلسلے کا حصہ ہے، جو صدر طیب اردوان کی جانب سے کونسل آف یورپ کے استنبول کنوینشن سے نکلنے کے فیصلے کے خلاف کیا جارہا ہے۔ اس اقدام کو انسانی حقوق کے علمبردار گروپ “حیرت انگیز” قرار دے رہے ہیں۔

استنبول کنوینشن نام کے اس معاہدے میں مردوں اور عورتوں کے حقوق مساوی تسلیم کئے گئے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کرنے والے ملک پابند ہیں کہ وہ عورتوں کے خلاف صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کو روکیں، تشدد کا نشانہ بننے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تشدد کے ذمہ دار افراد کو قانونی طور پر جوابدہ بنایا جائے۔

مظاہرے میں شرکت کرنے والی خواتین کا ترک صدر طیب اردوان سے مطالبہ تھا کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے، جب کہ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ترکی میں ہم جنس پرستوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے اقدامات کئے جائیں۔

خواتین کے حقوق کے علمبردار گروپس اور ان کے حامی ترکی کی حکومت سے اپنا فیصلہ تبدیل کرنے اور معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق، گھریلو تشدد روکنے کے لئے ترکی کا اس بین الاقوامی معاہدے کا حصہ رہنا ضروری ہے۔

تاہم ترک صدر طیب اردوان کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی طویل عرصے سے اس معاہدے پر نظر ثانی کے حق میں مہم چلا رہی تھی۔ اس کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ ترکی کی قدامت پسند اقدار سے متصادم ہے کیونکہ یہ طلاق کے حق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور روایتی خاندانی نظام کی اہمیت کم کرتا ہے۔

ترکی میں ہم جنس پرستوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ

ترکی کی حکومت کے مطابق، استنبول کنویشن کہلانے والے اس معاہدے سے نکلنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ معاہدہ ہم جنس پرستی کو “نارملائز” کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی میں ہم جنس پرستوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور ترکی کے وزیر داخلہ نے ایک ٹویٹ میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے افراد کو “پرورٹس” یعنی “گمراہ” قرار دیا تھا۔

صدر طیب اردوان ترکی میں ایل جی بی ٹی یا ہم جنس پرستوں کی موجودگی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

ترکی میں حکومت کی قدامت پسند پالیسیوں کی پہنچ نیٹ فلکس کی اوریجنل ڈرامہ سیریز تک

واضح رہے کہ آن لائن پلیٹ فارم ہالی ووڈ رپورٹر ڈاٹ کام پر جولائی 2020 میں مصنف سکاٹ راکس بورو کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال میڈیا سٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے تصدیق کی تھی کہ ترک حکومت نے اس کے ایک اوریجنل شو “If only” کو اس بنیاد پر شوٹنگ کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا کیونکہ اس میں کہانی کے ایک سپورٹنگ کردار کو ہم جنس پرست دکھایا جانا تھا۔ مقامی حکام کی جانب سے اس انکار کے بعد نیٹ فلکس نے اپنی کہانی میں تبدیلی لانے کے بجائے یہ اوریجنل سیریز کینسل کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔

رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقعہ تھا، جب ترک حکومت نے نیٹ فلکس کے کسی ترک زبان کے اوریجنل شو کو سینسر کرنے کے لئے براہ راست مداخلت کی تھی۔

واضح رہے کہ نیٹ فلکس ترک زبان میں کئی اوریجنل ڈرامہ سیریز تیار کر رہا ہے، اور استنبول نیٹ فلکس کی نئی اور بڑھتی پھولتی ہوئی مارکیٹس میں سے ایک ہے۔

تاہم رپورٹ کے مطابق، یہ پہلا موقعہ نہیں تھا، جب ترکی میں نیٹ فلکس کے کسی شو کو سینسر کیا گیا ہو۔

2020 کے آغاز میں نیٹ فلکس کے ایک امریکی پولیٹیکل تھرلر ڈرامہ “Designated Survivor” کی چند اقساط کو اس بنیاد پر ترکی میں سٹریمنگ کی اجازت نہیں دی گئی تھی کہ اس میں ترکی کے سینسر قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ترک حزب اختلاف کے ایک فکشنل لیڈر کا کردار پیش کیا گیا تھا ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ترکی میں 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد حکومت نے مبینہ طور پر آزادی اظہار کے خلاف کریک ڈاون شروع کر رکھا ہے اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں کئی صحافی بھی شامل ہیں۔

مبصرین کے مطابق، ترک صدر طیب اردوان اپنی قدامت پسند مسلمان ووٹر بیس کو خوش کرنے کے لئے مذہبی اور جنسی اقلیتی گروپوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

گو کہ ترکی میں ہم جنس پرستی کو 1923میں ماڈرن ترکی کی قیام کے بعد سے قانونی حیثیت حاصل ہے، ترکی کے قوانین میں “عوامی اخلاقیات کے خلاف جرائم” کی شقیں موجود ہیں، جنہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ ترک حکومت ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے خلاف اقدامات کے لئے توجیح کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

Photo Credit : https://media1.s-nbcnews.com/i/newscms/2018_47/2657641/ss-181125-rallies-violence-against-women-01_deaeae66ca265a3ea37f6f3ddbd04384.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: