اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے 10 سال بعد: ‘القاعدہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار مگر ختم نہیں ہوئی’


دو مئی 2011 کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوج کی ایک کارروائی میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو 10 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس واقعے نے جہاں عالمی سطح پر کئی اثرات مرتب کیے وہیں القاعدہ کو بھی اپنے سربراہ کی ہلاکت سے دھچکہ لگا۔

القاعدہ کی سرگرمیوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دنیا کی سب سے خطرناک تنظیم سمجھی جانے والی القاعدہ مرکزی سطح پر بظاہر ٹوٹ پھوٹ اور قیادت کے بحران کا شکار نظرآتی ہے مگر اس کے باوجود دنیا کے مختلف خطوں میں اس سے جڑی ہوئی شاخیں ابھی تک مؤثر ہیں۔

اسامہ بن لادن کون تھے؟

سعودی عرب میں مارچ 1957 کو پیدا ہونے والے اسامہ بن لادن کے والد ایک معروف تعمیراتی کمپنی کے مالک تھے۔ ان کا شمار سعودی عرب کے امیر ترین کاروباری افراد میں ہوتا تھا۔

‘کنگ عبد العزیز یونیورسٹی’ میں سول انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران اسامہ کی ملاقات وہاں شدت پسند نظریات کے حامل طلبہ اور اساتذہ سے ہوئی جس کے بعد ان کے نظریات میں بھی تبدیلی آنا شروع ہوئی۔

جب سابق سوویت یونین (موجودہ روس) نے 1979 میں افغانستان پر حملہ کیا تو اسامہ بن لادن کی زندگی میں بھی ایک نیا موڑ آیا۔

وہ 80 کی دہائی میں افغانستان آئے اور معروف فلسطینی شدت پسند رہنما عبداللہ یوسف عزام کی تنظیم ‘مکتب الخدمت’ (جسے افغان سروس بیورو بھی کہا جاتا ہے) سے وابستہ ہوگئے۔

یہ تنظیم ایمن الظواہری اور وائل حمزہ جلیدان جیسے شدت پسند رہنماؤں کے ساتھ مل کر افغانستان میں اس وقت سوویت یونین (روس) کے خلاف لڑائی کے لیے عرب ملکوں سے جنگجوؤں کی بھرتی اور مالی اعانت کے لیے بنائی گئی تھی۔

القاعدہ کی تشکیل

عبداللہ عزام 1989 میں پاکستان کے شہر پشاور میں ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے جس کے بعد اسامہ بن لادن نے تنظیم کی قیادت سنبھالی اور اسے ‘القاعدہ’ کے نام سے فعال کیا۔

القاعدہ کے امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی مرحوم سید سلیم شہزاد نے اپنی کتاب ‘ان سائیڈ القاعدہ اینڈ طالبان، اسامہ بن لادن اینڈ نائن الیون’ میں لکھا کہ القاعدہ کو عالمی سطح پر ایک شدت پسند تنظیم کی صورت میں فعال کرنے میں ایمن الظواہری اور تنظیم کے مصری کیمپ کے نظریات اور جدوجہد نے اہم کردار ادا کیا۔

جب1991 میں خلیجی جنگ کے دوران تین لاکھ امریکی فوجیوں نے پہلی مرتبہ سعودی عرب کی سرزمین پر قدم رکھا تو اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی قیادت نے ‘پاک سرزمین’ پر امریکی فوجیوں کے داخلے کو توہین آمیز تصور کیا اور امریکہ کے خلاف اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔

سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے 1994 میں شہریت ختم کرنے کے بعد اسامہ بن لادن کچھ عرصہ سوڈان میں رہے لیکن وہاں سے بھی نکالے گئے اور بالآخر 1996 میں دوبارہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ افغانستان آ گئے۔ یہاں ‘افغان طالبان’ نامی شدت پسند گروہ ملک کے دارالحکومت کابل پر اپنا قبضہ جما چکا تھا۔

افغانستان آمد کے دو سال بعد اسامہ بن لادن نے ایک فتوے کے ذریعے امریکیوں اور یہودیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد کینیا اور تنزانیہ میں امریکہ کے سفارت خانوں پر حملے کیے گئے جن میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ پر حملوں کی ذمے داری اسامہ بن لادن اور ان کی تنظیم القاعدہ پر عائد کی گئی اور امریکہ نے 2001 کے اواخر میں افغانستان پر حملہ کر دیا۔

سوئیڈن میں مقیم عالمی شدت پسندی کے موضوعات پر تحقیق کرنے والے عبدالسعید کہتے ہیں کہ ‘القاعدہ کی تاریخ کا مطالعہ اور اسامہ بن لادن سمیت اس کی قیادت کے بیانات اور انٹرویوز بتاتے ہیں کہ نائن الیوں جیسے حملوں کے پیچھے ان کا بنیادی ہدف اسلامی دنیا میں مذہبی عسکریت پسندی کو فروغ دینا تھا۔ یہ ان کے بیانیے کے مطابق دنیا پر مسلمانوں کے غلبے، خلافت کے قیام اور ان کی مشکلات کے خاتمے کا واضح راستہ تھا۔”

اسامہ بن لادن کو آخری بار پاکستان اورافغانستان کی سرحد پر واقع ‘تورا بورا’ کے پہاڑوں میں دیکھا گیا تھا۔ اس کے لگ بھگ 10 سال بعد مئی 2011 میں ایبٹ آباد کے ایک گھر میں ہونے والی ایک کارروائی میں ان کی ہلاکت ہوئی۔

القاعدہ کی قیادت نشانے پر

اسامہ بن دلان کی ہلاکت کے ڈیڑھ ماہ بعد ان کے نائب ایمن الظواہری کو تنظیم کا سربراہ نامزد کیا گیا۔

الظواہری نے قیادت سنبھالتے ہی اپنے نظریات کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ان سے تعاون کرنے والوں کے خلاف ‘جہاد’ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

مگر مبصرین کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے فوری بعد القاعدہ کے سینئر رہنماؤں کی ڈرون حملوں میں ہلاکتوں سے تنظیم کافی متاثر ہوئی۔

سنگاپور میں قائم ‘انٹرنیشنل سینٹر فور پولیٹیکل وائلنس اینڈ ٹیررازم’ سے وابستہ محقق عبدالباسط کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے القاعدہ تنظیمی طور پرکافی کمزور ہو چکی ہے۔ اس کی افرادی قوت بھی عددی طور پر کافی کم ہوئی ہے جب کہ اس کے وسائل میں بھی کمی آئی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد افغانستان، پاکستان، ایران، شام اور دیگر ممالک میں ڈرون حملوں کی ایک لہر میں القاعدہ کے متعدد اہم رہنما، بشمول شیخ ابو یحیی اللبی ہلاک ہوئے اور یہ سارے اہداف اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں ٹھکانے سے حاصل کی گئی دستاویزات سے لی گئی معلومات کی بنیاد پر متعین کیے گئے۔”

محقق عبدالسعید کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کے شائع شدہ خطوط، القاعدہ اور اس کی برصغیر شاخ کے مواد کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسامہ بن لادن کے بعد اگرچہ جانشینی کے لیے سب سے اہم امیدوار ایمن الظواہری ہی تھے۔ لیکن پاکستان اور افغانستان کے خطے میں تنظیم کو سب سے بڑا نقصان اگست 2011 اور جون 2012 میں امریکی ڈرون حملوں میں شیخ عطیہ اللبی اور شیخ ابو یحیی اللبی کی ہلاکت سے ہوا۔

عبدالسعید کے بقول “یہ دونوں اشخاص خطے سمیت عالمی سطح پر القاعدہ کو چلانے میں اسامہ بن لادن کے اہم معاون رہے۔ اسامہ بن لادن نے شیخ عطیہ اللبی کو وزیرستان میں القاعدہ کی قیادت کی پے درپے ہلاکتوں کے بعد وہاں سے نکل کر پاکستان کے شہری علاقوں میں چھپنے کا مشورہ دیا تھا مگر وہ اس کا انتظام کرنے سے قبل ہی مارے گئے۔”

عطیہ اللبی کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے اس خطے میں ایمن الظواہری کے بعد سب سے سینئر رہنما شیخ ابو الخلیل المدنی تھے جنہیں بعد میں ایمن الظواہری کے ساتھ القاعدہ کا معاون سربراہ بنایا گیا مگر وہ بھی2015 میں افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ضلع ارگون میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے۔

اس سے قبل یمن میں القاعدہ کے سربراہ ناصر الوحیشی کو 2013 میں القاعدہ کا جنرل منیجر بنایا گیا تھا جو 2015 میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے۔ الوحیشی نائن الیوں سے قبل اسامہ بن لادن کے سیکرٹری بھی رہے تھے۔

بقول عبدالسعید “القاعدہ کے جن تین سرکردہ رہنماؤں کو ایران نے 2015 میں آزاد کیا ان میں ابوالخیر المصری اور الظواہری کا متوقع جانشین سمجھے والے ابومحمد المصری بھی مارے جا چکے ہیں۔”

القاعدہ کے رہنماؤں کی ہلاکتوں کی دوسری لہر پچھلے ایک دو سالوں میں دیکھی گئی جس میں اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن سمیت متعدد رہنما مارے گئے۔ حمزہ بن لادن کو القاعدہ برسوں سے مستقبل کے سربراہ کے طور پر پروان چڑھا رہی تھی۔

القاعدہ کے نائب سربراہ عبداللہ احمد عبداللہ جو ابو محمد المصری کے نام سے بھی مشہور تھے وہ مبینہ طور پر اسرائیل کے ہاتھوں امریکہ کے کہنے پر ایران کے شہر تہران میں مارے گئے۔

امریکی حکومت کی جانب سے ان کی ہلاکت کی تصدیق جنوری 2021 میں کی گئی۔

افغانستان کے خفیہ ادارے ‘این ڈی ایس’ نے اکتوبر 2020 میں القاعدہ کے ایک اہم مرکزی رہنما حسام عبدالرؤف عرف ابو محسن المصری کو صوبۂ غزنی کے ضلع اندڑ میں ان کے میزبان مقامی طالبان رہنما سمیت ایک چھاپے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

القاعدہ کی جنوب ایشیائی شاخ ‘القاعدہ برصغیر’ کے امیر مولانا عاصم عمر سمیت کئی سینئر رہنما افغانستان میں طالبان کے کنٹرول والے علاقوں میں ان کی مقامی قیادت کے ساتھ مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب القاعدہ کے مرکزی رہنما ایمن الظواہری گزشتہ کافی عرصے سے خاموش ہیں جس کے باعث مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا وہ بیمار ہیں یا ان کی موت ہو چکی ہے۔

موجودہ حالات میں القاعدہ کے نائن الیون سے قبل کے اہم سینئر رہنما سیف العدل اور ان کے نشریاتی ادارے ‘السحاب’ کے سابق سربراہ عبدالرحمان المغربی کو ایمن الظواہری کے بعد تنظیم کا اہم رہنما سمجھا جاتا ہے۔

دونوں کے متعلق امریکی ذرائع کا دعوی ہے کہ وہ غالباً ایران میں روپوش ہیں۔ یہ دونوں خصوصاً سیف العدل القاعدہ کی سربراہی کے لیے الظواہری کا جانشین سمجھے جاتے ہیں۔

آج القاعدہ کتنی بااثر ہے؟

عبدالسعید کہتے ہیں کہ القاعدہ کا اب بظاہر ویسا کوئی وجود نہیں رہا ہے جو نائن الیون کے بعد کے چند سالوں تک تھا اور افغانستان اور پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقوں میں اس کے مرکزی ٹھکانے تھے۔

اگرچہ ان برسوں میں امریکہ یا مغرب میں القاعدہ کے نائن الیون جیسے طرز کے حملے کے خطرات کو روکا گیا ہے مگر بعض تجزیہ کاروں کے مطابق القاعدہ نے نائن الیون کے بعد بڑی کامیابی سے جہادی عسکریت پسندی کو دنیا کے دیگر خطوں تک پھیلا دیا ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں جب ‘دولتِ اسلامیہ’ (داعش) شہ سرخیوں میں ہے تو القاعدہ ایک حکمتِ عملی کے تحت خاموشی سے دوبارہ منظم ہوئی اور تنظیم سے وابستہ شاخوں یا علاقائی گروہوں کے ساتھ الحاق کرنے لگی۔

امریکہ کے ‘آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس’ نے اپنی سالانہ ‘تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ’ برائے 2021 میں خبردار کیا ہے کہ القاعدہ کی سینئر قیادت حالیہ برسوں میں اپنے رہنماؤں کی ہلاکت کے باعث سخت پریشان ہونے کے باوجود دنیا بھر میں تنظیم سے وابستہ شاخوں کو ازسرِنو مربوط کرنے کے ساتھ مغرب اور امریکہ پر حملوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

القاعدہ نے شاخیں کیوں بنائیں؟

امریکی فورسز کی جانب سے ڈرون کارروائیوں میں اضافے اور پھر 2011 میں تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دولتِ اسلامیہ جیسے گروہ القاعدہ کے لیے بڑے چیلنجز ثابت ہوئے ہیں۔

ان سے نمٹنے کے لیے تنظیم نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی شاخیں قائم کیں۔

ان خطوں میں مقامی طور پر فعال القاعدہ کے حامی چھوٹے شدت پسند گروپ تھے جنہوں نے اس کی قیادت سے الحاق کر رکھا ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ القاعدہ مرکزی سطح پر کمزور ہو چکی ہے مگر اس کی دنیا کے مختلف خطوں میں پائے جانے والی شاخیں آج بھی فعال ہیں۔

امریکہ کے ‘آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس’ نے اپنی سالانہ جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ القاعدہ کی مقامی تنظیموں نے سوڈان، چاڈ، ایتھوپیا، الجیریا، نائیجیریا سمیت افریقہ کے ممالک پر مبنی خطے جسے ساحل کہا جاتا ہے اور صومالیہ میں گزشتہ دو سالوں میں کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ البتہ شمالی افریقہ، جنوبی ایشیا، شام اور یمن میں اسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

محقق عبدالباسط کا کہنا ہے کہ مرکزی سطح پر کمزور ہونے کے باوجود القاعدہ کی صومالیہ اور ساحل کے خطے میں کام کرنے والی شاخیں ابھی بھی بہت مؤثر ہیں۔

ان کے مطابق افریقہ، افغانستان، عراق، صومالیہ اور یمن جیسے ممالک میں تجربے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ القاعدہ کو وہاں کی منظم جماعتوں سے الگ کرنا آسان نہیں ہے۔

القاعدہ کی شاخیں

القاعدہ نے سب سے پہلے 2006 میں الجیریا میں ‘القاعدہ ان دی اسلامک مغرب’ کے نام سے اپنی شاخ قائم کی تھی پھر ملکی فوجوں کی جانب سے اس کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا تو یہ گروپ ساحلی علاقوں اور مغربی افریقہ میں منتقل ہو گیا۔

اسی طرح 2009 میں یمن اور سعودی عرب کے دو مقامی جہادی نیٹ ورکس کی شاخوں کو ملا کر القاعدہ نے ‘القاعدہ جزیرہ نما عرب’ کی بنیاد رکھی۔

ستمبر 2014 میں افغانستان، پاکستان، بھارت، میانمار اور بنگلہ دیش میں القاعدہ کی ایک شاخ کی بنیاد رکھی گئی جسے ‘القاعدہ برِصغیر’ کا نام دیا گیا۔

اسی طرح افریقی ملک مالی اور مغربی افریقہ میں فعال متعدد شدت پسند گروپوں کے الحاق سے جماعت ‘نصرۃ الاسلام والمسلمین’ کے نام سے القاعدہ نے اپنی شاخ قائم کی۔

صومالیہ اور مشرقی افریقہ میں متحرک شدت پسند تنظیم ‘الشباب’ نے 2012 میں القاعدہ سے الحاق کیا۔

القاعدہ سے وابستہ ‘ہیئۃ التحریر الشام’ بہت سے شامی جنگجو گروپوں کے الحاق سے بنا جب کہ مصر میں القاعدہ اپنے اتحادی گروہوں کے ساتھ جزیرہ نما سینائی میں بھی موجود ہے۔

القاعدہ برِصغیر

القاعدہ برِصغیر کی بنیاد القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری نے 2014 میں رکھی تھی جس کا مقصد پاکستان، بھارت، افغانستان، میانمار اور بنگلہ دیش کی حکومتوں سے جنگ کرنا تھا۔

سلیم شہزاد نے اپنی کتاب میں لکھا کہ القاعدہ بنیادی طور پر عرب رہنماؤں پر مشتمل ایک شدت پسند تنظیم تھی مگر انہوں نے اپنی باقاعدہ لانچنگ کے لیے مصر یا کسی عرب ملک کے بجائے جنوبی ایشیا کو ترجیح دی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں القاعدہ کا اپنی شاخ بنانے کا یہ اقدام اس سے قبل داعش کی طرف سے خطے میں اپنی ‘خراسان’ شاخ کے آغاز پر ردِعمل میں کیا گیا تھا۔

کراچی میں انسدادِ ہشت گردی یونٹ سے وابستہ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ القاعدہ داعش کو پاکستان کے جہادی منظر نامے پر قدم نہیں جمانے دینا چاہتی تھی کیوں کہ وہ یہاں طویل عرصے تک نمایاں رہی ہے۔

نام شائع نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں فعال متعدد مقامی شدت پسند گروہوں نے القاعدہ سے نظریاتی تعلق کی بنیاد پر ‘القاعدہ برِصغیر’ سے وابستگی کا عہد کیا اور ملک بھر خصوصاً کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کیں۔

سینئر پولیس افسر کے بقول “القاعدہ برِصغیر کے قیام کے فوراً بعد اس گروہ نے کراچی میں پاکستانی بحریہ کے جنگی جہاز کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کارروائی میں پیراملٹری فورس کے دس اہل کار ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے تھے۔ دو حملہ آور لڑائی میں مارے گئے اور تیسرے نے خود کو بم سے اڑا لیا تھا۔”

ان کے مطابق اس حملے کے بعد پورے پاکستان اور خصوصاً کراچی میں القاعدہ برِصغیر کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں تیز ہو گئیں اور گروہ کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک کمزور کر دیا گیا۔

گزشتہ سال کے اواخر میں افغان سیکیورٹی اداروں نے افغانستان کے صوبہ فرح میں القاعدہ برِصغیر کے نائب سربراہ محمد حنیف عرف ضرار کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کا تعلق کراچی کے علاقے ناظم آباد سے بتایا جاتا ہے۔

محقق عبدالباسط کہتے ہیں کہ القاعدہ ہی کی کوششوں سے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دھڑے دوبارہ یکجا ہوئے جب کہ افغان طالبان کے ساتھ بھی ان کے تعلقات پہلے کی طرح اب بھی قائم ہیں۔

القاعدہ اور کشمیر

القاعدہ برِصغیر نے تنظیم کی دوسری شاخوں کے برعکس بین الاقوامی دہشت گردی کی بجائے خطے کے دہائیوں پرانے مسئلہ کشمیر میں ہمیشہ اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

فروری 2020 میں امریکہ طالبان امن معاہدے کے فوراً بعد واشگاف الفاظ میں القاعدہ کی جانب سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ اب ان کی تمام تر توجہ افغانستان کے بجائے کشمیر کی آزادی پر ہو گی۔

کشمیری جہادی گروہوں کے بارے میں باخبر ایک سابق جہادی رہنما نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 22 سالہ کشمیری جہادی رہنما برہان وانی کی جون 2016 میں ہلاکت کے بعد کشمیری نوجوان عسکریت پسندوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے القاعدہ برِصغیر ‘انصار غزہ ہند’ کے نام سے فعال ہوئی۔

خیال رہے کہ کشمیر کے متعدد جنگجو گروپ ماضی میں القاعدہ اور طالبان کے بہت قریب رہے ہیں۔ القاعدہ ان تمام گروپوں کو ایک تنظیم کی شکل دینا چاہتی ہے۔ ‘انصار غزہ ہند’ کی طرف سے ایک آزاد شوریٰ کے قیام پر زور دیا گیا جو کارروائیوں کے حوالے سے فیصلہ سازی کی مجاز ہو۔

دولت اسلامیہ (داعش) کے ساتھ مقابلہ

عراق میں 1999 میں قائم ہونے والی ‘دولتِ اسلامیہ ان عراق اینڈ سیریا’ (ISIS) نے القاعدہ کے ساتھ الحاق کیا اورعراق میں 2003 میں مغربی فوجوں کے حملوں کے بعد ملک میں شروع ہونے والی شورش میں حصہ لینا شروع کیا۔

جون 2014 میں اس گروہ نے جب عراقی سیکیوریٹی فورسز کو پسپا اور موصل پر قبضہ کرنے کے بعد عالمی شہرت حاصل کی تو اپنی نام نہاد عالمی خلافت کا اعلان کر کے تنظیم کا نام ‘دولتِ اسلامیہ’ رکھ دیا۔

جب القاعدہ کی شاخوں جیسے شام کی ‘النصرہ فرنٹ’ کے جنگجوؤں نے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنا شروع کی تو القاعدہ اس پر کافی ناراض ہوئی۔ بعد میں القاعدہ کو دولتِ اسلامیہ کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔

دسمبر 2015 میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے ایک آڈیو پیغام میں دولتِ اسلامیہ کی نام نہاد خلافت پر تنقید کی اور اسے بغاوت قرار دیا۔

افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوجوں کے انخلا پر چند دن قبل امریکی وزارتِ دفاع میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کیتھ ایف مکینزی نے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خطے کے ملکوں اور خصوصاً پاکستان کے لیے شدید تشویش کی بات ہے۔

القاعدہ کا مستقبل

القاعدہ کے مستقبل کے حوالے سے دو متضاد بیانیے پائے جاتے ہیں۔

ایک حلقہ سوچتا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے مسلسل رونما ہونے والے واقعات اور بالخصوص رہنماؤں کی ہلاکتوں سے القاعدہ تنظیمی طور پر اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے جانے کے بعد پھر کسی طوفان کا سبب نہیں بن سکتی۔

دوسرا حلقہ سمجھتا ہے کہ القاعدہ کی حالیہ خاموشی اور خود کو کمزور ظاہر کرنا دراصل تنظیم کی ممکنہ حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے جس سے شاید مستقبل میں وہ دوبارہ خطے اور عالمی سطح پر خطرہ بن جائے۔

Photo Credit : https://live.staticflickr.com/4154/5023017556_5dc19f1e37_b.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: