آن لائن سینسرشپ: مائیکروسافٹ کا چین میں ‘لنکڈان’ بند کرنے کا اعلان


مائیکروسافٹ کی جانب سے جمعرات کے ایک اعلان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس سال کے آخر میں چین میں اپنی ‘لنکڈ ان’ کی سروس بند کر دے گا۔

‘لنکڈان’ پروفیشنل افراد کی نیٹ ورکنگ سائٹ ہے، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز اپنا بائیوڈیٹا اور دیگر کوائف کے ساتھ اپنا اکاؤنٹ بناتے ہیں۔ اس ویب سائٹ کے ذریعے مختلف مہارتوں کے لیے موزوں افراد تلاش کرنے والوں اور روزگار حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو مدد ملتی ہے۔

کمپنی کے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014 میں چین میں اپنے کام کا آغار کرنے والی اس پروفیشنل نیٹ ورکنگ سائٹ کو ملک میں اپنا کام جاری رکھنے کے لیے نمایاں طور پر پابندیوں کے ماحول اور زیادہ تقاضوں کی تعمیل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کمپنی نے کہا، “ہم نے تسلیم کیا ہے کہ چین میں ‘لنکڈ ان’ کا مقامی ورژن چلانے کا مطلب انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر چینی حکومت کی ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔”

کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ،”ہم اظہار رائے کی آزادی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، اس لیے ہمیں چین اور دنیا بھر میں اپنے اراکین کی قدر و قیمت کے اظہار کے لیے یہ فیصلہ کرنا پڑا۔”

مائیکروسافٹ کے اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں انٹرنیٹ پر حکومتی قوانین اور بندشوں کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔

‘دی وال سٹریٹ جرنل’ کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی ریگولیٹرز نے اس سال کے شروع میں کمپنی کو بتایا تھا کہ اسے نگرانی کے اپنے نظام کو بہتر کرنا ہو گا، جس کے تحت کمپنی نے ایسے مواد اور پروفائلز کو بلاک کرنا شروع کیا جنہیں چینی ریگولیٹرز نے ممنوعہ قرار دیا تھا۔ اس میں صحافیوں کے پروفائلز بھی شامل تھے۔

‘لنکڈان’ نے کہا ، “اگرچہ ہم نے اپنے چینی میمبروں کو ملازمتوں اور معاشی مواقع کی تلاش کی مدد میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن ہمیں معلومات کے تبادلہ اور باخبر رہنے کے حوالے سے زیادہ کامیابی نہیں مل سکی۔”

‘لنکڈ ان’ چین کی مارکیٹ کو مکمل طور پر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، وہ ‘ان جابز’ کے نام سے ایک سائٹ شروع کرے گا، جس میں سماجی نوعیت کی فیڈز شامل نہیں ہوں گی اور نہ ہی صارفین کو مواد شیئر کرنے کی اجازت ہو گی۔

‘لنکڈ ان’ امریکی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہے، جو چینی صارفین کے لیے بھی دستیاب ہے۔

مائیکرو سافٹ نے ‘لنکڈان’ کمپنی کو 2016 میں خریدا تھا، اور اب اس سائٹ پر تقریباً ساڑھے 77 کروڑ پروفیشنلز موجود ہیں۔

Photo Credit : https://www.verdict.co.uk/wp-content/uploads/2021/10/shutterstock_1744651862.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.