Jamiat Ulema-i-Hind advises Muslims

Jamiat Ulema-i-Hind advises Muslims

1) ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے معاملات کے پیش نظر مساجد یا گھروں میں عیدالاضحی کی نماز ادا کرنے کے لئے وزارت صحت کے رہنما اصولوں پر عمل کرنا اہم ہے۔ بہتر ہوگا اگر سورج طلوع ہونے کے بیس منٹ کے اندر مختصر نماز پڑھی جائے اور خطبہ دیا جائے اور پھر ہم قربانی کردیں۔ فضلہ کو احتیاط سے دفن کرنا بھی ضروری ہے تاکہ بدبو دار بو نہ آئے ۔

2) ملک، خصوصا اترپردیش اور دیگر ریاستوں کے حالات پر غور کرتے ہوئے ، مسلمانوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت ممنوع جانوروں کی قربانی سے گریز کریں۔ چونکہ مذہب میں اسکے بجائے کالے جانوروں کی قربانی جائز ہے ، لہذا کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے اس سے مطمئن رہنا مناسب ہے۔

3) اگر کسی جگہ فسادی لوگ کالے جانور کی قربانی سے بھی روکتے ہیں تو کچھ عقلمند اور اسردار شکشیت کے ذریعے حکومت کو بھروسہ میں لیکر قربانی کیا جائے، پھر بھی خدا نہ کرے اگر کہیں مذھبی واجبات کو ادا کرنے کا راستہ نہ نکلے تو جس قریبی جگہ کوئی دکّت نہ ہو تو وہاں قربانی کرا دی جائے

4) لیکن جس جگہ قربانی ہوتی آئی ہے اور فلہال دکّت ہے تو کم سے کم بکرے کی قربانی ضرور کی جائے اور حکومت کے دفتری میں بھی درج کرا دیا جائے تاکی مستقبل میں کوئی دکّت نہ ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: